بحیرہ روم پر ایک ہزار سال تک قابض رہنے والوں کو شکستِ فاش دینے والا عظیم سپہ سالار
ترجمہ و تالیف: حافظ اسد الرحمٰن
تلخیص و تدوین: محمود عالم صدیقی
بحیرہ روم پر صدیوں تک رومیوں کا قبضہ تھا
بحیرہ روم پر صدیوں سے بازنطینی سلطنت کا قبضہ تھا۔ اپنے اندرونی خلفشار کے سبب سلطنتِ روما کی ہیبت پہلے جیسے نہ تھی، لیکن اس کی بحری فوج اب بھی انتہائی مضبوط تھی جو سلطنت کے برقرار رہنے کا واحد سبب بن گئی، اور تجارتی لحاظ سے اقوام عالم پر رومیوں کو فوقیت حاصل تھی۔ صلیبی جنگوں کا پس منظر دہرانے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یورپ سے صلیب پرستوں کا بذریعہ سمندر مشرق میں قدم رکھنا اور نوّے سال تک ارضِ مقدس پر قابض رہنا اس امر کا متقاضی تھا کہ ان کی صدیوں کی سمندری طاقت پر کاری ضرب لگائی جائے۔ کیونکہ پورا بحیرہ عیسائیوں کی ہیبت سے کانپتا تھا۔ یہاں پر نہ تو صلیب پرستوں کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ پَر مار سکتا تھا اور نہ ہی کوئی جہاز گزر سکتا تھا۔ اگر کوئی آوارہ جہاز عیسائیوں کے ہاتھ آجاتا تو اُسے یا تو جلادیا جاتا، یا غرق کردیا جاتا۔ رہے مسافر، تو انہیں انتہائی بے دردی سے قتل کردیا جاتا۔