KitabGhar.Blog: Political

Free books "A room without books is like a body without soul."

Showing posts with label Political. Show all posts
Showing posts with label Political. Show all posts

Sunday, August 25, 2024

خیرالدین باربروسہ

August 25, 2024 1

 

بحیرہ روم پر ایک ہزار سال تک قابض رہنے والوں کو شکستِ فاش دینے والا عظیم سپہ سالار

ترجمہ و تالیف: حافظ اسد الرحمٰن
تلخیص و تدوین: محمود عالم صدیقی

بحیرہ روم پر صدیوں تک رومیوں کا قبضہ تھا

بحیرہ روم پر صدیوں سے بازنطینی سلطنت کا قبضہ تھا۔ اپنے اندرونی خلفشار کے سبب سلطنتِ روما کی ہیبت پہلے جیسے نہ تھی، لیکن اس کی بحری فوج اب بھی انتہائی مضبوط تھی جو سلطنت کے برقرار رہنے کا واحد سبب بن گئی، اور تجارتی لحاظ سے اقوام عالم پر رومیوں کو فوقیت حاصل تھی۔ صلیبی جنگوں کا پس منظر دہرانے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یورپ سے صلیب پرستوں کا بذریعہ سمندر مشرق میں قدم رکھنا اور نوّے سال تک ارضِ مقدس پر قابض رہنا اس امر کا متقاضی تھا کہ ان کی صدیوں کی سمندری طاقت پر کاری ضرب لگائی جائے۔ کیونکہ پورا بحیرہ عیسائیوں کی ہیبت سے کانپتا تھا۔ یہاں پر نہ تو صلیب پرستوں کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ پَر مار سکتا تھا اور نہ ہی کوئی جہاز گزر سکتا تھا۔ اگر کوئی آوارہ جہاز عیسائیوں کے ہاتھ آجاتا تو اُسے یا تو جلادیا جاتا، یا غرق کردیا جاتا۔ رہے مسافر، تو انہیں انتہائی بے دردی سے قتل کردیا جاتا۔

Saturday, October 24, 2020

ڈونگری سے دوبئی

October 24, 2020 0
ڈونگری سے دوبئی پڑھنے کے قابل کتاب ہے۔ اس کتاب میں جاسوسوں کا میلہ کے نام سے ایک باب میں دائود ابراہیم کی بیٹی کی پاکستانی کرکٹر جاوید میاں داد کے بیٹے سے شادی کا احوال ہے جو دوبئی کے سب سے بڑے ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب دنیا بھر کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی توجہ کا مرکز تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں جاسوسوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نہیں ہوا تھا۔ سب دائود ابراہیم کو دیکھنے ، ملنے اور مارنے آئےتھے۔بھارت کی خفیہ ایجنسیوں نے اپنا منصوبہ بنایا تھا ، سی آئی اے، موساد، را، آئی ایس آئی، ایم آئی 6اور کے جی بی سمیت سب اپنا کھیل ، کھیل رہے تھے لیکن دائود ابراہیم کی منصوبہ بندی تک دنیا کی کوئی خفیہ ایجنسی نہ پہنچ پا ئی۔ پورا احوال کتاب میں پڑھیں ۔یہ معلومات سے بھر پور دلچسپ کتاب ہے جس کے جیتے جاگتے کردار آپ کو ہر جگہ نظر آ ئیں گے۔
’’ڈونگری سے دوبئی ‘‘میں انڈر ورلڈ مافیا کے قیام سے لے کر اس کے اہم کرداروں سمیت بے شمار ڈانز کی زندگی کا پردہ فاش کیا ہے۔اس کے علاوہ انڈر ورلڈ کے ’’ بزنس ‘‘، دنیا بھر میں پھیلے روابط ، پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار ، بالی وڈ میں دلچسپیوں سمیت بے شمار موضوعات پر تفصیل سے روشی ڈالی گئی ہے۔یہ کتاب مافیا پر حکومت کرنے والے دائود ابراہیم کے گرد بھی گھومتی ہے جو اس کتاب کا مرکزی کردار ہے اور جس نے خود کو ’’ ڈان ‘‘ منوایا اور اس وقت وہ دنیا کے مطلوب ترین افراد میں شامل ہے۔

کتاب کے مصنف ایس حسین زیدی بھارت کے معروف صحافی ہیں جنہوں نے ایک لمبے عرصے تک کرائم رپورٹنگ کی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے بھی بڑی موثر رپورٹنگ کی۔ انہوں نے کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں ڈونگری ٹو دوبئی نے سب سےزیادہ شہرت حاصلکی۔

DOWNLOAD



Friday, September 18, 2020

ایک سیاست کئی کہانیاں

September 18, 2020 0
جنرل علی قلی خان کے انٹرویو کے ایک حصے کا خلاصہ:
جب نئے چیف آف جنرل سٹاف کی تقرری کا وقت آیا تو جنرل جہانگیر کرامت نے جنرل علی قلی خان، جنرل خالد نواز، اور جنرل پرویز مشرف میں سے جنرل علی قلی کی پروفیشنل قابلیت اور اہلیت کو سامنے رکھتے ہوئے اُنہیں اِس عہدے کے لئے منتحب کیا۔ علی قلی اپنے
قریبی اور ذاتی دوست جنرل افتخار علی خان (چوہدری نثار علی خان کے بڑے بھائی جو اُس وقت چیف آف جنرل سٹاف تھے اور تین ہفتے
بعدریٹائر ہو رہے تھے) سے ملنے گئے تو وہ اُن کا روکھا سا رویہ دیکھ
کر حیران رہ گئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اُن کا اتنا قریبی دوست ان کی ترقی پر خوش نہیں ہو گا۔ جنرل افتخار نے انہیں کہا کہ اُنہیں اُن کی تعیناتی کی خبر انہیں مل گئی ہے اب وہ تین ہفتے بعد ہی اس کرسی پر بیٹھ سکیں گے۔ جنرل علی قلی کو یہ سن کر شدید دھچکا لگا۔ جنرل علی قلی کو معاملہ گڑبڑ لگا جب اُنہوں نے کھڑکی سے باہر جنرل پرویز مشرف کو ٹہلتے دیکھا۔ اُن کے کہنے پر جنرل افتخار نے
جنرل پرویز مشرف کو اندر بلا لیا۔ جنرل علی قلی بڑے گرمجوش انداز میں آگے بڑھ کر ملنے لگے تو انہوں نے محسوس کیا کہ جنرل پرویز مشرف کا موڈ ٹھیک نہیں ہے۔ جنرل پرویز مشرف یہ توقع کر رہے تھے کہ انہیں چیف آف جنرل سٹاف بنایا جائے گا۔
جب جنرل جہانگیر کرامت کو علم ہوا تو انہوں نے جنرل افتخار کی سرزنش کی کہ جنرل پرویز مشرف (جو اُس وقت کور کمانڈر منگلا تھے) اُن کے کمرے میں کیا کر رہے تھے؟ کچھ دنوں بعد جنرل محمود نے جنرل پرویز مشرف کے اعزاز میں ایک لنچ کا اہتمام کیا جس کا جنرل جہانگیر
کرامت نے سختی سے نوٹس لیا کہ انہوں نے ہائی کمانڈ کے علم میں لائے بغیر یہ لنچ کیوں کیا جو سینئر افسران کے معاملات میں مداخلت کرنا تھا۔
ایک ہفتے بعد جنرل جہانگیر کرامت ایک بریفنگ سے پہلے جنرل علی قلی کے دفتر میں آئے۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ جنرل رانا نسیم نے جو ڈی جی آئی ایس آئی تھے، ایک فائل لا کر جنرل جہانگیر کو دی اور کہا سر فائل کلیئر ہو گئی ہے۔ جنرل علی قلی کو کچھ علم نہیں تھا کہ پیچھے کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ اُنہیں کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ اُس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے جنرل علی قلی کی تقرری کے احکامات روک لئے تھے۔ جب جنرل جہانگیر کرامت تو علم ہوا کہ اُن کے احکامات پر عمل نہیں ہو رہا تو انہوں نے جنرل رانا نسیم کو نواز شریف کے پاس یہ پیغام دیکر بھیجا کہ وہ فوری طور پر اس فائل کو کلیئر کریں۔ ان دنوں نواز شریف کے پاس وزارتِ دفاع کا عہدہ بھی تھا۔
بعد میں بات کچھ یوں کھلی کہ جنرل افتخار اپنی ملازمت کی مدت میں توسیع چاہتے تھے۔ نواز شریف نے یہ کیس جنرل جہانگیر کرامت کو بھیجا تو جنرل جہانگیر کرامت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ اُن جونیئرز کے ساتھ زیادتی ہو گی جو اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی پروموشن کا انتظار کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو بتایا گیا کہ اگر جنرل افتخار کی ملازمت میں توسیع کی گئی تو کم از کم دس سے بارہ سینئر جرنیلوں کو بشمول جنرل علی قلی اور جنرل پرویز مشرف کے بغیر پروموشن لئے گھر جانا پڑے گا۔

جب جنرل افتخار اور چوہدری نثار کو اس بات کا علم ہوا تو ان دونوں نے اپنے دل میں یہ بات بٹھا لی کہ یہ دراصل جنرل علی قلی ہی تھے جنہوں نے جنر جہانگیر کرامت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے جنرل افتخار کی ملازمت میں توسیع نہیں ہونے دی۔ جنرل علی قلی کی تقرری سے جنرل افتخار، چوہدری نثار، اور جنرل پرویز مشرف کو تکلیف ہوئی تھی حالانکہ انہیں میرٹ کی بنیاد پر یہ ترقی دی گئی کیونکہ سینیارٹی لسٹ پر وہ نمبر ون تھے۔ 



DOWNLOAD

Friday, June 12, 2020

خاکی کمپنی (پاکستان میں فوجی معشیت کا جائزہ)

June 12, 2020 0
ہر محب وطن مسلمان اُس وقت خوش ہوتا ہے جب سنتا ہے کہ اس کے کسی ہم وطن نے باہر ملک سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اب وہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے گا وہ اپنے ملک کی ترقی میں شامل ہو کر اس ملک کو دنیا کی ایک عظیم قوم بنائے گا وہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے تگ ودو کرے گا اُس شخص کے دل میں قائد اعظم ؒاور علامہ اقبال ؒ کا نقشہ بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی باہر سے تعلیم حاصل کی مغرب کی تہذیب تمدن کو سمجھا مگر اُس میں گم نہیں ہوئے اُن کی اچھی باتوں کو اپنایا اور کمزوریوں پر گرفت کی ۔ مگر جب وہ محب وطن مسلمان ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کو اس بات پر جانچتا ہے تو اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہ ا ن دونوں عظیم شخصیتوں کی فکر کے قریب بھی نہیں ہے بلکہ وہ اس ملک کو ویسے ہی جوں کا توں چلانا چاہتا ہے جیسے باہر کے ملکوں کو پرکھ کر آیا وہ باہر کے ملکوں سے اپنے ساتھ ان کی تہذیب، تمدن،سوچ اور کو ہی اپنے ملک کے لیے مثالی سمجھتا ہے ۔ صاحبو!اسلام اپنی ایک سنہری تاریخ رکھتا ہے اس نے اس دنیا میں رسولؐ کے بعثت کے ۹۹ سال کے اندرکُرۂ اَرض پر اسلامی حکومت قائم کر دی تھی جو ہزار سال سے زائد عرصہ تک اس دنیا پر کامیابی سے چلتی رہی اب بھی دنیا میں ۶۶ اسلامی ملک ہیں دنیا کاہر تیسرا انسان مسلمان ہے دنیا کے قابل ذکر خطے مسلمانوں کے پاس ہیں مسلمان معدنی دولت سے مالامال ہیں مسلمانوں میں آگے بڑھنے کی اب بھی امنگ ہے صرف لیڈر شپ کی کمی ہے ۔ یاد رہے کہ فتوحات کے دور میں پیشتر علاقے مسلمانوں نے عیسائیوں(مغرب) سے چھینے تھے۱۹۲۴ ء میں اسلامی خلافت کو عیسائیوں نے بدلہ لیتے ہوئے ختم کیا تھا اور تاریخی طور پر کہا تھا کہ آیندہ دنیا میں کہیں بھی اسلامی حکومت قائم نہیں ہونے دی جائے گی جس پر وہ اب تک عمل کر رہے ہیں۔ اﷲ کا کرنا،پاکستان دنیا میں مذہب کے نام سے وجود میں آیا جو اس کی طاقت کا مظہر ہے جو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بھی ہے باقی دنیا کے سارے ملک لا دین ہیں یعنی سیکولر ہیں۔اسلام غلامی کے بعد دنیا میں دورباہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے جدو جہد کر رہا ہے اور عیسائی اس میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اس تناظر میں جب کوئی اسلامی دنیا کا فرد باہر سے اعلیٰ تعلیم کر کے اپنے ملک میں آتا ہے تو لوگ اس سے اسلام کے نشاۃ ثانیہ کی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں ایسی ہی امید ہم نے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ سے باندھ کر ان کی کتاب ’’خاکی کمپنی‘‘(پاکستان میں فوجی معیشت کا جائزہ) جو ان کی انگریزی کتاب militry ins. 
کا اردو ترجمہ ہے با زار سے خریدی، اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ڈاکٹر عائشہ صدیقہ صاحبہ اُمور ِفواج کی ماہر اور تجزیہ کار ہیں انہوں نے کنگ کالج لندن سے جنگ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے وہ دنیا کے مختلف ڈیفنس اداروں سے وابستہ رہی ہیں ڈیفنس کے متعلق پاکستان کے انگریزی اخبارات اور دنیا کے اخبارات میں تواتر سے لکھتی ہیں ۔ روشن خیال مغربی جمہوریت کی دلدا ہیں پاکستان میں فوجی حکومتوں کاتجزیہ کرتی ہیں ملک میں حقیقی جمہوریت کی لیے کوشاں ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ فوج نے پاکستان پر بڑے عرصے تک حکومت کی ہے اب بھی اقتدار کا نشہ نہیں اُترا۔لہٰذا جب کوئی کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح پاکستان میں فوجی گرفت کم کی جائے بلکہ ختم کی جائے یہ اچھی سوچ ہے ہر پاکستانی ایسی کسی بھی کوشش پر خوش ہوتاہے عائشہ صدیقہ صاحبہ نے بھی تمام تر حوصلہ شکن رکاوٹوں کے باوجود اس کتاب میں فوجی بالا دستی کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے اس کتاب میں فوج کی کاروباری سر گرمیاں، فوج میں افسر شاہی ،فوج میں نئے زمیدار،فوجیوں کی فلاح و بہبوداور فوج کی سرگرمیوں کا خمیازہ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔لیکن ہمارے نزدیک تجزیہ نگار اپنے تجزیوں میں پاکستان میں فوج کی ایک علیحدہ پوزیشن کو بُھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نے ہندوستان پر ایک ہزار سال حکومت کی ہے اب ہندو کہتے ہیں وہ ہم پر حکومت کریں انہوں نے اب تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا انہوں نے مشرقی پاکستان پر فوجی چڑھائی کر کہ اسے پاکستان سے علیحدہ کیا اب وہ کراچی بلوچستان بلکہ پورے پاکستان میں اپنی ناجائز مداخلت سے باقی ماندہ پاکستان کو توڑنے کی کوششوں میں امریکا اور اسرائیل کی آشیر باد سے لگا ہوا ہے۔ امریکا کی مسلط کردہ گوریلہ جنگ ہو رہی ہے ان حالات میں فوج پر ایسے تجزیے جوخاص کر بیرونی تناظر کو سامنے رکھ کئے جائیں پاکستان کی کوئی خدمت نظر نہیں آتے اس وقت فوج سے یکجہتی کی ضرورت ہے فوج پوری پاکستانی قوم کی پشت پناہی چاہتی ہے۔ کوئی مانے نہ مانے فوج پاکستان کے اسلامی نظریاتی تحفظ کی امین ہے جسے دشمن کمزور کرنا چاہتا ہے۔ کاش کہ اس کتاب میں اسلامی نکتہ نظر سے بحث کی جاتی کتاب میں کہیں بھی اسلامی کے سنہری دور کا ذکر نہیں جس سے ذہنی غلامی کا تاثر سامنے آتا ہے جس میں اکثر مغربی تعلیم یافتہ مسلمان غرق ہیں۔ اس کتاب میں فوج کے اقتدار سے نجات کا اسلامی نکتہ نظر سے کوئی بھی تجزیہ پیش نہیں کیا جا سکا کہ کیسے اتنی بڑی اسلامی سلطنت میں فوجی اپنے جمہوری طریقے سے منتخب خلیفہ کے سامنے مطیع اور فرمانبردار ہوتے تھے! کیسے رسولؐ اور خلفاء راشدین کے دور میں فوجی کمانڈوں کی اصلاح گئی تھی۔ کیسے فوجی مال غنیمت کو اپنے چیف کمانڈر کے سامنے لا کر رکھ دیتے تھے اور کمانڈر ایک طے شدہ طریقے سے فوج میں تقسیم کرتا تھاکیااس وقت جمہوری حکومت پر قبضہ اور اقتدار کا نشہ فوج میں تھا؟ کیا اس وقت فوجی اقتدار، فوجی معیشت، فوجی سیاست،فوجی ویلفئر کا پروگرام فوجیوں کے سامنے نہیں ہوتے تھے؟ کیا وہ فوجی اِس وقت کے فوجیوں سے کوئی مختلف مخلوق تھے؟ نہیں ہر گز نہیں! انسان اپنی پیدائش سے ایک ہی قسم کے ر جحان رکھتا ہے چائے وہ حاکم ہو یا محکوم ہو یا فوجی ہو۔ صرف اس کی صحیح تربیت کی ضرورت ہوتی ہے جو اس وقت کی گئی تھی جو حقوق و فرائض اور آخرت کی جواب دہی پر مبنی تھی جو نظریاتی تربیت تھی جس نے جمہوری حکومت اور فوج کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر انجام دینے پر گامزن کیا تھا کیا اب بھی ایسے نظریاتی سوچ کی ضرورت نہیں؟ جب خلیفہؓ نے کمانڈر خالد بن ولید کو فوجی کمانڈ سے ہٹایا تھاکیا اس وقت فوجی بغاوت کا کوئی سوچ بھی سکتا تھا؟ فوجی ہو یا عام شہری سب انسان ہیں خرابی سب میں پیدا ہوتی ہے لہٰذا سب کی اصلاح کی ضرورت ہے ہمارے باہر سے پڑھے ہوئے لوگوں جن میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ صاحبہ بھی شامل ہیں کو اس طرف توجہ دینا چاہیے تھی نہ کہ بہتے دریا کے پانی کے ساتھ بہہ کر مروّجہ مادی دور کے طریقوں سے فوج کی اصلاح کی کوشش کی جائے جیسے ڈاکٹر صاحبہ نے کی ہے جو اسلامی دنیا میں شاید کامیاب نہ ہو سکے اور ساری محنت ضائع ہو جانے کاخطرہ ہو۔موجودہ دور میں بھی اصلاح کا وہی طریقہ کامیاب ہو سکتا ہے جو اسلام کے پہلے دور میں کیا گیا تھا اُس وقت کا فوجی بھی ایسا ہی انسان ہے جیسے آج ہے ۔ اﷲ ہمارے 
ملک کو محفوظ رکھے آمین۔
ہم دیکھیں گےلازم ہے
کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کے جس کا وعدہ ہے
وہ لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
یہ دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب عرض خدا کے کعبہ سے
سب اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پر بٹھایے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی یے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
اٹھے گا اناالحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی جو خلق خدا
جو میں بھی ہو جو تم بھی ہو۔

Monday, June 8, 2020

خالصتان کنگڈم آف سکھ سٹیٹ

June 08, 2020 0
مصنف
رضوان علی گھمن
یہ ناول صرف اور صرف سکھ بھائیوں کی محبت اور آزادی تمام مذاہب کا حق ھے کے نظریہ کے تحت لکھا ھے اور اس کا کسی بھی سیاست سے کوئی تعلق نہیں ھے 

جنت ریپبلک

June 08, 2020 0
ایک ایسے پاکستان کا خواب
جو شاید ہر پاکستانی دیکھتا ہے
انسانی تاریخ کے سب سے پہلے معاہدے صلح حدیبیہ کے نام جو دو قوموں کے 
درمیان ہوا اور جس کی وجہ سے مدینہ میں پہلی اسلامی ریاست کی تشکیل ہوئی۔

دنیا کے سب سے بڑے قانون ساز خلیفئہ المسلمین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام جن کے بتائے ہوئے قوانین آج بھی دنیا میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔


مولانا فضل الرحمٰن شخصیت و سیاست

June 08, 2020 0


مولانا فضل الرحمان اپنے آپ کو ایک غریب مولوی کے بیٹے کی حیثیت سے متعارف کراتے ہیں۔

ان کے والد مفتی محمود ذوالفقار علی بھٹو دور میں اپوزیشن لیڈر اور خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دینی مدارس سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی تربیت ڈیرہ اسماعیل خان کے دیہی ماحول میں ہوئی۔ مفتی محمود سیاسی اور دینی مصروفیات کی وجہ سے گھر سے دور رہتے تھے، ان کی پرورش ان کے چچا خلیفہ محمد نے کی۔
وہ گاؤں کے پرائمری سکول میں بھی پڑھنے جاتے تھے۔
جب وہ چھٹی جماعت میں پہنچے تو ان کے والد مفتی محمود نے یکسوئی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے انھیں گھر سے دُور ملتان مدرسہ قاسم العلوم بھیج دیا۔
یہاں انھوں نے مدرسے کے ساتھ میٹرک تک تعلیم بھی حاصل کی، جس کے بعد انھیں خالص دینی تعلیم کے لیے ڈیرہ غازی خان کی تحصیل تونسہ بھیج دیا گیا جہاں وہ ایک سال سے زائد عرصہ مقیم رہے اور پھر دوبارہ ملتان آگئے۔ انھوں نے اکوڑہ خٹک میں بھی آٹھ سال تک دینی تعلیم حاصل کی۔
دوران تعلیم انھیں اپنے اساتذہ سے خوب ڈنڈے بھی کھانا پڑے۔ اس عرصے میں ان کے والد مفتی محمود نے انھیں جلسوں، جلوسوں اور سیاسی سرگرمیوں سے دور ہی رکھا۔
انھوں نے اپنے والد کے برعکس ایک شادی پر ہی اکتفا کیا۔
بچپن میں انھیں والی بال کھیلنا پسند تھا۔ جب ان کے والد کی وفات ہوئی تو پھر سیاست کے میدان کے کھلاڑی بن گئے
DOWNLOAD


Saturday, June 6, 2020

ھمفرے کے اعترافات

June 06, 2020 0
ہمفرے ایک برطانوی جاسوس تھا ۔ بقول ہمفرے، اس کو اسلامی ممالک میں جاسوسی اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ چناچہ اس نے اپنے آپ کو سادہ مسلمان پیش کرکے عربی زبان اور اسلام کی تعلیم حاصل کی ۔اس نے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو پیدا کرنے کے لیے ایک شخص جناب شیخ عبدالوہاب رحمتہ اللہ علیہ کا انتخاب کیا ۔
قارئین کرام! اس کتاب کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہودی اور عیسائی لابی کس طرح مسلمانوں کے درمیان اور خاص طور پر شعیہ سنی اور وہابی کے درمیان اختلافات کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے اور انہی اختلافات کو بڑھانے کے لیے اور خاص طورپر وہابیوں کے خلاف سنی اور شیعہ لوگوں کے دلوں میں نفرت کے بیج بونے کے لیے اس کتاب کو لکھا گیا ہے ۔ اس کتاب کی کہانی اس ڈھنگ سے تیار کی گئی ہے کہ شیعہ سنی اس کو حق سمجھ لیں اور اس کو بطور ہتھیار وہابیوں اور سعودی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے استعمال کریں۔ اور بدقسمتی سے دشمن اپنی اس کوشش میں کامیاب ہے۔ شیعہ اورسنی مسلمان اس کتاب کو اسی طرح حرف بہ حرف سچا مانتے ہوئے وہابیوں کے خلاف استعمال کررہے ہیں ۔ ان کے مختلف فورموں پر اس کتاب کو پیش کیا جارہا ہے ۔ بلکہ ڈاکٹر صفدرمحمود جنگ اخبار میں اس پر دوکالم بھی تحریر فرما چکے ہیں۔
اس کتاب میں شیعہ مکتب فکر کی بہت تعریف کی گئی ہے جبکہ شیخ عبدالوہاب کی انتہا ء درجے کی تذلیل کی گئی ہےاور ان کواس وقت کی برطانوی حکومت کا پٹھو قراردیا گیا ہے ۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد چند سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ!
• کیا یہودی اور عیسائی لابی کا مقصد اور مشن مکمل ہو چکا ہے کہ اب وہ ان رازوں سے پردہ اٹھانے کو عیب نہیں سمجھتے ۔
• کیا وہ اس قدر بیوقوف ہیں کہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اس کتاب کے پڑھنے سے مسلمانوں کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت بڑھے گی۔
• کیا وہ اس قدر جاہل ہیں کہ اتنی معمولی سی بات بھی نہ سمجھتے ہوں کہ اس کتاب کو پڑھ کر اب کوئی مسلمان ان پر اعتبار نہ کرے گا۔
قارئین کرام ! ان تمام سوالوں کا جواب بہت آسان ہے کہ یقیناً وہ جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہوگا مگر اس کتاب سے جو مقصد وہ حاصل کرنا چاہ رہے تھے وہ مندرجہ بالا خدشات کے سامنے کچھ معنی نہ رکھتا تھا اور وہ تھا وہابیوں کے خلاف شیعہ اور سنی کو کھڑا کیا جائے ۔ چناچہ اس کتاب کو بامعنی بنانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے تمام منصوبے اور سرگرمیوں کو بھی بڑھا چڑھا کر اس میں بیان کریں تاکہ ایک سادہ مسلمان ،کتاب کے آخر میں بیان کی گئی کہانی کو سچ جان کر آپس میں تفرقے کو مزید بڑھا لیں۔ میرا ان سنی اور شیعہ بھائیوں سے ایک سوال ہے جو اس کتاب کو بڑھ چڑھ کر پیش کررہے ہیں کہ اگر اس کتاب میں شیخ عبدالوہاب کےکردار کی جگہ آپ کا کوئی عالم ہوتا تو کیا پھر بھی آپ اس پر اسی طرح ایمان رکھتے ؟
میری تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ اس کتاب کرضرورپڑھیں مگر اس سوچ کے ساتھ کہ یہ کتاب اس جاسوس یا ادارے نے لکھی ہے کہ جو مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو بڑھانے کے لیے نا صرف سر گرم تھےبلکہ اس وقت بھی ہیں ۔اور یہ کتاب بھی ان کے انہی منصوبوں کا ایک حصہ ہے۔اللہ تعالی ہمیں دشمنوں کے منصوبوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے نادان مسلمان بھائیوں کو بھی سوچنے سمجھنے اور اغیار کی چالوں میں نہ آنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

Friday, June 5, 2020

پاکستان کے بارے میں کیا کہا

June 05, 2020 0
برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ جب فرنگی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت تقسیم برصغیر کا پروگرام بنایا اور ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان پسماندہ ہیں اس لیے ان کو چند ایک رعایتوں کے ساتھ اپنا آلہ کار بنا لیا جائے گا۔ مولانا آزادؒ نے جب برطانوی حکومت کی چالوں میں شدّت محسوس کی تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خطرناک چال سے بچانے کے لیے مولانا نے باقاعدہ کوششیں کیں۔ مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نو(9) کروڑ سے زیادہ ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی و معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مولانا کا یہ نظریہ تھا کہ اگر آج ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کر لیں گئے تو وہ فرنگیوں کے آلہ کار ہو کر رہ جائیں گئے اور انڈیا کے مسلمان اپنی اجتماعی طاقت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو کر احساس کمتری کا شکار رہیں گئے۔ زیر تبصرہ کتاب"مولانا ابو الکلام آزاد نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا" جس کواحمد حسین کمال نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب مولانا کے وہ خطابات و بیانات کا مجموعہ ہے جو مولانا آزادؒ نے تقسیم ہندوستان کی جدوجہد میں کہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(


Wednesday, June 3, 2020

حساس ‏ادارے

June 03, 2020 0

تیس سالہ عسکری زندگی کے دوران مختلف عہدوں پر خدمات سر انجام دینے والے سابق چیف آف اسٹاف ڈائر یکٹر یٹ جنرل آئی ایس آئی بریگیڈیئر (ر) سید احمد ارشاد ترمذی اپنی کتاب ”حساس ادارے“ (سنِ اشاعت: 2004 ) میں لکھتے ہیں : میرا مشاہدہ یہ ہے کہ یہ ادارہ (آئی ایس آئی) ایکسپرٹ افرادی قوت اور مادی وسائل کی کمی کا بری طرح شکار ہے (یاد رہے مصنف نے اپنے دور کا مشاہدہ لکھا ہے جو شاید آج کی حقیقت کے قریب تر نہ ہو) ، ہمیں پڑھے لکھے اور تجر بہ کار افراد کی ضرورت ہے۔
اس نوع کے اداروں کی اپنی ساخت، روایت اور کلچر ہونا چا ہیے۔ آج کل کا دور ما ئیکرو سپیشلا ئزیشن کا دور ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات اور کرۂ ارض پر نمودار ہونے والے بعض حقائق کی روشنی میں ہم اپنے قومی تحفظات اور سلامتی کے پیش نظر ان اداروں کو صرف اور صرف قومی خدمت اور سلامتی کے جذبے کی اساس پر استوار کریں اور ان کے اہلکاروں کو تیزی سے بدلتے ہوئے سیا سی اور سماجی حالات میں جدید طریقہ کار، تربیت اور تکنیکی صلا حیتوں سے بہرہ ور کریں۔ اس کے بعد بریگیڈیئر صاحب اربابِ اختیار کی توجہ کے لیے چند مشورے لکھتے ہیں، وہ پیشِ خدمت ہیں۔
1 ) میرے نزدیک سب سے اہم بات موزوں اور صحیح اہلکاروں کا انتخاب ہے۔ اس کے لیے ایک واضح اور فول پروف طریقہ کار ہونا چاہیے۔ ان اداروں میں کام کرنے کے لیے منتخب کیے جا نے والوں کی تربیت بھی انتہائی اہم ہے۔ ان ایجنسیوں کے مختلف شعبوں کے لیے مختلف قسم کی شخصیت، تعلیمی قابلیت، بیک گراؤنڈ اور کردار کے حامل افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے مطالعے اور تجربے کے مطابق انتخاب کا بہترین طریقہ کار بر طانوی انٹیلی جینس سروس کا ہے اور تربیت کے معاملے میں اسرائیل سرِ فہرست ہے۔
2) سی آئی اے کی طرح ہر خفیہ ادارے میں احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود ہونا چاہیے۔
3) اس میں کوئی شک نہیں کہ آئینی طور پر یہ ادارے ملک کے چیف ایگزیکٹیو (وزیرِ اعظم) کو جواب دہ ہوتے ہیں مگر چیف ایگزیکٹیو کو ان اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے۔
4) ان اداروں میں تخریب کاری، دہشت گردی اور پراپیگنڈہ کے توڑ کے لیے شعبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
5) خفیہ اداروں کے کارکن نائب قاصد سے لے کر ڈی جی آئی تک غیر مر ئی ہونے چاہیے۔ ان اداروں کے دفاتر کے گرد اونچی دیواریں اور سرچ لائٹس اس وقت تک بے سود ہیں جب تک ان اداروں کے اندر کام کرنے والے افراد میں راز کو راز رکھنے کی خوبی نہ پیدا کی جائے۔ ایسے لوگ جن کے سیاسی مقاصد ہوں، جو دولت اور شہرت کے لا لچی اور معاشرے میں اعلی سماجی مقام کی خواہش رکھتے ہوں، خود نمائی اور خود پسندی جن کا ذوق ہو، ایسے افراد کو ان اداروں کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیا جانا چاہیے۔

6) آئی ایس آئی اور آئی بی کے دائرہ کار اور کردار کی وضاحت ہونی چاہیے۔ ایسا بھی ہوا ہے کہ جب آئی ایس آئی کو کسی مشن کی تکمیل پر شاباش ملی تو آئی بی میں اس سے بد دلی پھیلی۔ یہ دونوں ادارے اکثر اوقات ایک دوسرے کے فرائض میں دخل اندازی بھی کرتے ہیں۔

7) سب سے اہم اور بنیا دی نقطہ یہ ہے کہ ان اداروں میں صرف با کردار، مقصد کے ساتھ کومٹمینٹ رکھنے والے اور قابل افراد کو منتخب کیا جانا چاہیے۔ یعنی کریکٹر، کمپیٹینس اور کمٹمنٹ کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔

8) تمام انٹیلی جینس اداروں کو صرف اور صرف پاکستان کے وقار اور سلامتی کے لیے کام کرنا چاہیے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی سیاسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

9) ان ایجنسیوں کے سربراہان کا انتخاب صرف اہل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افراد میں سے کیا جانا چاہیے، سیاسی بنیادوں پر یا ذاتی تر جیحات پر عہدے نہیں بانٹنے چاہیے۔

ایک اصلی تے وڈے محب وطنکی کتاب سے مشورے نقل کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ آج کے اربابِ اختیار کو اپنے قیمتی وقت سے چند گھڑیاں نکال کے یہ مشورے بغور پڑھنے چاہیے، کیوں کہ ان میں سے کچھ مشورے تو ایسے بھی ہیں جو ”عمل داری“ کی صورت میں پاکستان کے بگڑے حالات کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔




Wednesday, May 27, 2020

افغانستان کی دوسری جنگ آزادی

May 27, 2020 0

افغانیوں نے 1989ء میں روس کے خلاف لڑی جانے والی پہلی جنگ آزادی میں فتح حاصل کی جس کی قیمت انہیں پندرہ لاکھ انسانی جانوں کی قربانی کی صورت میں ادا کرنی پڑی تھی۔اب دوسری جنگ آزادی کا فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا ہے جو افغانی قوم کی آزادی و خود مختاری کے دن قریب سے قریب تر لا رہا ہے۔ آٹھ سالہ طویل جنگ کے بعد روسیوں کو افغانستان سے شرمناک پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی۔ ۴۰۰۲ء میں جاری ہونے والی سی آئی اے (CIA) کی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’’ افغانستان سے روسیوں کی پسپائی کے وقت وہاں پر پوری دنیا کے تقریبأ سترممالک کے ساٹھ ہزار کے لگ بھگ تربیت یافتہ مجاہدین موجود تھے۔‘‘ پاکستان کے چالیس ہزار مجاہدین ان کے علاوہ تھے جنہوں نے روس کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا۔ اس طرح ’’اسلامی مدافعتی قوت ‘‘ وجود میں آئی جو صرف افغانستان تک محدود نہ رہی بلکہ اسے عالمی سطح تک رسائی حاصل ہوئی۔ مجاہدین نے ظلم اور ناانصافی کے خلاف اللہ تعالی کے اس حکم پر عمل کیا : ’’کیا سبب ہے کہ تم ان مظلوم مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی مدد کو نہیں پہنچتے جن پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اور وہ پکارتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے لیئے مددگار بھیج جو ہمیں تحفظ مہیا کریں اور ہماری مددکریں۔‘‘ (سورت النساء آئتہ ۵۷)۔ یہ حکم اہل ایمان کیلئے ہے لیکن ہر مسلمان اس کی روح کو نہیں سمجھ سکتا بلکہ ہزاروں میں کوئی ایک ہوتا ہے جو اس حکم پر لبیک کہتے ہوئے اپنا گھر بار چھوڑ کرمیدان جنگ کا رخ کرتا ہے اور اپنی قوت ایمانی کے بل بوتے پر دشمن کی بڑی سے بڑی تعداد کے مقابلے میں فتح یاب ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطمع نظر صرف مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانا ہوتا ہے ۔ جب یہ مقصد پورا ہو جاتا ہے تو وو اپنے گھر کو لوٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب افغانستان سے روسی افواج پسپا ہوئیں تو تمام مجاہدین اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے سوائے ان کے جنہیں ان کے اپنے ممالک نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا 

DOWNLOAD


غدار

May 27, 2020 0
ہماری تاریخ غداریوں اور غداروں کے ابواب سے بھری پڑی ہے۔ پہلے بڑے غدار کے طور پر میرے ذہن میں عباسی خلیفہ مستنصر باللہ کا وہ ” باتدبیر اور معتمد وزیر “ اُبھر رہا ہے جس نے چنگیز خان کے دربارمیں ایک سفارتی وفد اس انتباہی پیغام کےساتھ بھیجا تھا کہ اگر منگول شہنشاہ نے خوارزم کی اسلامی سلطنت پر یلغار کی تو بغداد سلطان خوارزم علاو الدین کا ساتھ پوری قوت سے دےگا۔ مگراس سفارتی وفد میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جس نے بڑے بڑے بال رکھے ہوئے تھے جو اُس نے منگول دارالحکومت میں پہنچ کر منڈوا لئے۔ سفارتی وفد میں اور کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ اس شخص کی کھوپڑی پر ایک خفیہ پیغام کندہ تھا جس میں منگول خاقان کو یقین دلایاگیا تھا کہ منگولوں اور خوارزمیوں کی جنگ کی صورت میں بغداد مکمل طور پر غیر جانبدار رہے گا۔غداری کی اسی داستان کو نسیم حجازی مرحوم نے اپنے مشہور ناول آخری چٹان کا موضوع بنایا تھا۔عباسیوں سے غیرجانبداری کی یقین دہانی حاصل کرنے کے فوراً بعد چنگیز خان وسطی ایشیا پر ٹوٹ پڑا اور اسلامی تہذیب کے مراکز بلخ بخارا مرو تاشقند اور قوقند نے جو تباہی دیکھی اس کی نظیر نہیں ملتی
چند برس بعد عباسی دربار سے ہی ایک اور بڑی غداری نے جنم لیا۔ آخری عباسی خلیفہ النصر کے وزیراعظم ابن علقمی نے خفیہ طورپر چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان سے یہ سمجھوتہ کیا کہ بغداد کے دروازے تاتاریوں پر کھول دیئے جائینگے جس کے عوض ہلاکو خان مسندِ خلافت ابن علقمی کے سپرد کردےگا۔ ابن علقمی نے جو کہا کر دکھایا لیکن اسکے مقدر میں نہایت عبرتناک انجام لکھاہوا تھا۔ اُسے اذیتیں دے کر موت کے گھاٹ اتارتے وقت ہلاکوخان نے کہا۔

 ” جو شخص اپنی قوم کا نہ بن سکا وہ میرے ساتھ وفاداری کیسے نبھائے گا۔؟“ کم و پیش ایسے ہی عبرتناک انجام کا سامنا غرناطہ کے آخری حکمران ابو عبداللہ نے کیا جس نے اس امید پر الحمرا کی چابیاں فرڈی نینڈ کے سپرد کی تھیں کہ قسطلہ کا حاکم انعام میں اسے غرناطہ کی بادشاہی بخش دےگا۔ غداروں اور غداریوں کی یہ طویل داستان تاریخ کی شاہراہ پر سفر کرتے کرتے برصغیر میں بھی پہنچی۔ اور اس ضرب المثل سے کون نا آشنا ہوگا کہ...


Tuesday, May 26, 2020

حکومت برائی یا بھلائی کا سر چشمہ

May 26, 2020 0
یہ کتابچہ ’خطبات‘ کے باب ہفتم بعنوان ’جہاد‘ سے لیا گیا ہے، اس میں سید مودودیؒ حکومت کی اہمیت کو کچھ یوں دوٹوک انداز میں بیان کرتے ہیں کہ سیاسی جدوجہد کے ذریعے دین کا غلبہ برپا کرنے والوں کی ہمت بڑھاتے ہیں۔اسلام کا حقیقی مقصود کیا ہے، وہ ہمیں یہ کتابچہ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے۔
اسلام کو دل نشیں، مدلل اور جا مع انداز میں پیش کرنے کا جو ملکہ اور خداداد صلاحیت سید ابو الاعلیٰ مودودی ؒ کو حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ آپ کی تصانیف و تالیفات کی ایک ایک سطر جیسی یقین آفریں اور ایمان افزا ہے، اس کا ہر پڑھالکھا شخص معترف و مدّاح ہے ۔ کتنے ہی بگڑے ہوئے افراد، جوان، بچے، مرد وعورت ان تحریروں سے متاثر ہو کر اپنے سینوں کو نورِ ایمان سے منور کر چکے ہیں۔ ان کتابوں کی بدولت تشکیک کے مارے ہوئے لاتعداد اشخاص ایمان و یقین کی بدولت سے مالا مال ہوئے ہیں اور کتنے ہی دہریت و الحاد کے علم بردار اسلام کے نقیب بنے ہیں۔ یوں تو اس ذہنی اور عملی انقلاب لانے میں مولانا محترم کی جملہ تصانیف ہی کو پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں سر فہرست کتاب ”خطبات “ہے۔

DOWNLOAD


تاریخ اور مزہبی تحریکیں

May 26, 2020 0
ماضی پر کنٹرول کرنے کا مطلب ہے کہ زمانہ حال پر اپنے ماضی کے مطابق قابو پایا جائے، کیونکہ ماضی کے تعلق سے اقتدار کو قانونی جواز دیا جاتا ھے۔ معاشرہ کے بااقتدار اور طاقتور ادارے کہ جن میں ریاست، چرچ، سیاسی جماعتیں، اور ذاتی مفادات شامل ہیں۔ یہ ذرائع ابلاغ اور ذرائع پیداوار پر اپنا تسلط رکھتے ہیں، اس لئے چاہے وہ اسکول کی نصاب کی کتابیں ہوں، یا کارٹون و فلموں کا مسودہ ہو، یا ٹیلیوژن کے پروگرام، یہ سب ان کے  کام آتے ہیں۔
ماضی میں تاریخ کا کام یہ تھا کہ وہ حکمران طبقوں کے کارناموں کو محفوظ کر کے، معاشرہ میں ان کی عزت و وقار میں اضافہ کرتی تھی۔ ہی لوگ رعیت کے سرپرست، راہنما، اور مسیحا ہوتے تھے کہ جو لوگوں کو مصیبت سے بچاتے اور انکا تحفظ کرتے تھے۔ لوگوں کی فلاح و بہبود کا انحصار ان ہی لوگوں پر ہوا کرتا تھا۔ لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ صورت حال بدل گئی ہے خاص طور سے جب نو آبادیاتی نظام ٹوٹا اور ممالک آزاد ہوئے، تو انکے ساتھ ہی راہنماؤں کا ایک طبقہ بھی وجود میں آیا۔ کیونکہ نوآبادیاتی دور میں شاہی خاندان اور پرانے حکمراں اور انکی نسلیں ٹوٹ پھوٹ کر بکھر گئی تھیں، اس لئے آزادی کے بعد ہندوستان میں مغل خاندان کے دعوےدار نہیں ابھرے، اور نہ ہی دوسرے ملکوں میں ان خاندانوں کو کوئی اہم سیاسی جگہ ملی۔ آزادی کے بعد راہنماؤں کی جو کلاس ابھری، ان کی راہنمائی کا دعوٰی اس بات پر تھا کہ انہوں نے جدوجہد آزادی میں حصہ لیا ہے، قربانی دی ہے، قید و بند کی صعوبتیں اٹھائی ہیں، اس لئے ان بنیادوں پر انکا حق ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کو سنبھالیں۔ چونکہ ان کی لیڈر شپ کی بنیاد ان کی سیاسی جدوجہد پر تھی، اس لئے “جدوجہد آزادی کی تاریخ“ کو خوب بڑھا چڑھا کر لکھا گیا۔ یہ صورت حال خاص طور سے پاکستان میں زیادہ شدت کے ساتھ ابھری، اور ان راہنماؤں کے کارناموں کو خوب اجاگر کیا گیا۔

DOWNLOAD




اگر مجھے قتل کیا گیا

May 26, 2020 0
یہ ذوالفقار علی بھٹو کی وہ کتاب ہے جو سپریم کورٹ میں ان کی طرف سے دائر کردہ فوجداری اپیل کے مواد سے ترجمہ کر کے چھاپی گئی ہے۔ آج کے دن 4اپریل 1979 کو راولپنڈی میں انہیں پھانسی دی گئی، ان پر نواب محمد احمد خاں قصوری کو قتل کروانے کا الزام تھا۔
قصہ یوں ہے کہ 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات لگا کر ایک ہیجان برپا کیا گیا، جب یہ تنازعہ حل ہو گیا اور آخری معاہدہ لکھا جانا باقی رہ گیا تو 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا ء نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
جب ان کی اپیل زیر ِ سماعت تھی تو جنرل ضیاء کی حکومت نے سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت کو متاثر کرنے کیلئے اور ان کی کردار کشی کیلئے سرکاری سطح پر بھٹو کی معذول کی گئی حکومت کے خلاف وائٹ پیپرز شائع کر دیے

DOWNLOAD



سیاست کے فرعون

May 26, 2020 0
کتاب سیاست کے فرعون مصنف وکیل انجم.
پنجاب کے پرانے خاندانوں میں کھرل ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اس خاندان نے صوبے میں انگریزوں کے عروج سے پہلے ہر تاریخی ہنگامے میں اہم کردار ادا کیا ہے خاص طور پر سکھوں کے ابتدائی ایام میں کھرل کافی عرصے تک اپنی طاقت اور شہ زوری کے بل بوتے پر ناقابل حل معمہ بنے رہے .
پنجاب کے اس صحت مند اور توانا خاندان کو جاگیرداروں کے زمرے میں شامل کرتے وقت یہ وضاحت ضروری ہے کہ کھرلوں کو بحیثیت ایک خاندان جاگیردار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ خاندان کی مختلف شاخوں میں کئی کنبے اور افراد ایسے بھی ہیں جو زمینوں کی تقسیم در تقسیم کی وجہ سے اب کسانوں کی معمولی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس خاندان میں اب بھی بڑے بڑے جاگیردار موجود ہیں.

Friday, May 22, 2020

ابراھیم لودھی

May 22, 2020 0
لودھی سلطنت، دہلی کی آخری سلطنت، جو 1451ء سے 1526ء تک قائم رہی۔ 1412ء میں سلطان ناصر الدین محمود شاہ تغلقکے انتقال کے بعد سلطنت دہلی میں کئی سال تک ہنگامے رہے اور سیدوں کا خاندان مضبوط حکومت قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا[1]۔ لیکن 1451ء میں لاہور اور سرہند کے پٹھان صوبہدار بہلول لودھی (1451ء تا 1489ء) نے دہلی پر قبضہ کر کے ایک بار پھر مضبوط حکومت قائم کر دی جو لودھی سلطنت کہلائ۔ اس نے جونپور بھی فتح کر لیا جہاں ایک آزاد حکومت قائم ہو گئی تھی سکندر کے بعد اس کا بیٹا ابراہیم لودھی (1517ء تا 1526ء) تخت پر بیٹھا۔ انتہائی نا اہل حکمران تھا۔ اس کو دہلی کے قریب پانی پت کے میدان میں کابل کے مغل حکمران ظہیر الدین بابر کے ہاتھوں شکست ہو گئی اور اس طرح لودھی سلطنت کا خاتمہ ہوا اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ یہ فیصلہ کن 
جنگ پانی پت کی پہلی لڑائی کہلاتی ہے۔

DOWNLOAD

Thursday, May 21, 2020

شاہ نامہ اسلام

May 21, 2020 0
حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔[1]۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔[2]۔ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔

DOWNLOAD


DEVTA-PART 2

    "دیوتا" "دیوتا" اردو ادب کی تاریخ کا سب سے طویل اور مشہور سلسلہ وار ناول ہے، جو محی الدین نواب کی تخلیق ہے۔ یہ ناول ...

Search This Blog