KitabGhar.Blog: Islamic Books

Free books "A room without books is like a body without soul."

Showing posts with label Islamic Books. Show all posts
Showing posts with label Islamic Books. Show all posts

Sunday, August 25, 2024

خیرالدین باربروسہ

August 25, 2024 1

 

بحیرہ روم پر ایک ہزار سال تک قابض رہنے والوں کو شکستِ فاش دینے والا عظیم سپہ سالار

ترجمہ و تالیف: حافظ اسد الرحمٰن
تلخیص و تدوین: محمود عالم صدیقی

بحیرہ روم پر صدیوں تک رومیوں کا قبضہ تھا

بحیرہ روم پر صدیوں سے بازنطینی سلطنت کا قبضہ تھا۔ اپنے اندرونی خلفشار کے سبب سلطنتِ روما کی ہیبت پہلے جیسے نہ تھی، لیکن اس کی بحری فوج اب بھی انتہائی مضبوط تھی جو سلطنت کے برقرار رہنے کا واحد سبب بن گئی، اور تجارتی لحاظ سے اقوام عالم پر رومیوں کو فوقیت حاصل تھی۔ صلیبی جنگوں کا پس منظر دہرانے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یورپ سے صلیب پرستوں کا بذریعہ سمندر مشرق میں قدم رکھنا اور نوّے سال تک ارضِ مقدس پر قابض رہنا اس امر کا متقاضی تھا کہ ان کی صدیوں کی سمندری طاقت پر کاری ضرب لگائی جائے۔ کیونکہ پورا بحیرہ عیسائیوں کی ہیبت سے کانپتا تھا۔ یہاں پر نہ تو صلیب پرستوں کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ پَر مار سکتا تھا اور نہ ہی کوئی جہاز گزر سکتا تھا۔ اگر کوئی آوارہ جہاز عیسائیوں کے ہاتھ آجاتا تو اُسے یا تو جلادیا جاتا، یا غرق کردیا جاتا۔ رہے مسافر، تو انہیں انتہائی بے دردی سے قتل کردیا جاتا۔

Wednesday, December 23, 2020

اتحاد امت جماعت نظام

December 23, 2020 0


فی  زمانہ مسلمانوں کے زوال وادبار کا ایک اہم سبب اتحادو اتفاق اور نظم وتنظیم کا فقدان ہے معروف عالم دیفمیاں محمد جمیل صاحب نے زیر نظر کتاب ''اتحادامت نظم جماعت''میں اسی موضوع پربحث کی ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ قرآن وسنت سے تنظیمی امور سے متعلق ہدایت ورہنمائی موجود ہے کسی تنظیم یا جمعیت کے سربراہ اور کارکنان کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں اور ان میں باہمی تعلق کی نوعیت کیا ہو اس کو بھی بحث وفکر کا ہدف بنایا ہے کتاب وسنت کو نصوص سے ان امور کی وضاحت کی ہے ہرمسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا جاہیے اور ایک 

منظم جماعتی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے یہی اس کتاب کا پیغام ہے -

DOWNLOAD

غامدی مذہب کیا ہے

December 23, 2020 0

 امت میں بے شمار فتنے پیدا ہوتے رہے ہیں ،جن میں معتزلہ ،خوارج،باطنیہ ،بہائیہ،بابیہ وغیرہ نے امت کو بے حد نقصان پہنچایا ہے ۔فی زمانہ جناب جاوید احمد غامدی کے نظریات بھی فتنہ بنتے جار ہے ہیں ۔انہوں نے بے شمار مسائل میں امت کے متفقہ اور اجماعی مسائل سے انحراف کی راہ اختیار کی ہے ۔زیر نظر کتاب میں جناب رفیق چودھری صاحب نے غامدی صاحب کے نظریات کی علمی تردید کی ہے اور ان کے منحرف افکار کا تعارف کرایا ہے ۔ان کے یہ قول غامدیت،پورے دین اسلام کو بگاڑنے اور اس میں فساد برپا کرنے کا دوسرا نام ہے اور اسلام کے متوازی ایک نیا مذہب ہے ،ممکن ہے اس میں مبالغہ محسوس ہو لیکن اگر دیکھا جائے کہ غامدی صاحب کے نزدیک رجم کی سزا ثابت نہیں:دوپٹہ اور داڑھی دین کا حصہ نہیں ،موسیقی اور مصوری جائز ہیں اور اسی طرح کے دیگر نظریات تو بہت حد تک یہ رائے واضح نظر آتی ہے ۔غامدی صاحب کے افکار سے آگاہی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید رہے گا کہ اس کے مصنف غامدی صاحب کو ذاتی طور پر ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں اور ان کے ذہنی وفکری ارتقاء سے پوری طرح باخبر ہیں نیز اسلامی حمیت وغیرت بھی رکھتے ہیں ،جس کا ایک عمدہ نمونہ یہ کتاب ہے ۔دعا ہے کہ خداوند عالم مسلمانوں کو اس قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور دین پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق فرمائے ۔

DOWNLOAD



Thursday, October 29, 2020

پیغمبر صحرا

October 29, 2020 0

 اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔  زیرتبصرہ کتاب ’’ پیغمبر صحرا ﷺ ‘‘ کے ایل گابا کی سیرت النبی ﷺ پر انگریزی تصنیف کا اردوترجمہ ہے اس کتاب میں مصنف نے نبی کریم ﷺ کے تمام اہم حالات وخصائص اس انداز سے بیان کیے ہیں کہ قاری ہزاروں سال پہلے کےعربستان میں اس لق ودق صحرا اور اس کی بدویانہ زندگی میں محمدﷺ کو چلتا پھرتا، جیتا جاگتا، اسلامی انقلاب کے لیے جدوجہدکرتے ہوئے خود محسوس کرے ۔



Wednesday, September 30, 2020

اخوان ‏المسلمون

September 30, 2020 0
اخوان المسلمین :تاریخ و تجزیہ
تحریر: ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر 

بیسویں صدی میں دنیائے اسلام کی سب سے بڑی احیائ تحریک، اخوان المسلمین ہے جس کی بناء حسن البنا اور ان کے 6 ساتھیوں نے 1928میں ڈالی تھی۔اس وقت پہلی جنگ عظیم ختم ہو چکی تھی، خلافت کا خاتمہ ہو چکا تھا، سلطنت عثمانیہ کے کھنڈرات سے چھوٹی بڑی چھ، سات عرب ریاستیں جنم لے چکی تھیں، ان ریاستوں پر برطانوی یا فرانسیسی انتداب mandate قائم ہو چکا تھا اور عالم اسلام کی مرکزیت گم ہو چکی تھی ۔
جہاں تک مصر کا تعلق ہے، برطانوی انتداب کے زمانے سے یہاں لا دینیت اور بے محابا آذادی کا سیلاب سا امنڈ آیا تھا۔مصر اپنے قحبہ خانوں اورعیاشی کے اڈوں کے لئے اتنا مشہور ہوا کہ سیاحوں کی جنت بن گیا ۔پہلے فرانسیسی قبضے، بعد ازاں برطانوی انتدابی زمانوں میں یہاں پریس قائم ہوئے ۔روزنامے، ماہنامے اور کتابیں چھپنے لگیں جس میں لادینی لٹریچر کی بھرمار ہوتی ۔
بے دینی کے اس سیلاب کو روکنے کے لیے کئ اصلاحی انجمنیں قائم ہوئیں ۔اسی میں ایک اخوان المسلمین تھی ۔اخوانی کارکنوں کی پر خلوص دعوتی سرگرمیوں نے اس جماعت کو چند سال کے اندر اندر مصر کی سب سے بڑی احیائ تحریک بنا دیا ۔خواتین کی شاخ "اخوات المسلمات "بھی قائم ہو گئ ۔تعلیم، صحت اور اسلامی اقدار کی ترویج کے لیے ان کا پروگرام وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا ۔اخوان نے شروع ہی سے فنڈ ریزنگ کے لئے اپنے وسائل پر بھروسہ کیا، ظاہر ہے اگر یہ جماعت ہر شہر، گاوں اور قصبے میں اسکول، مسجد، ہسپتال اور اسٹڈی سرکل قائم کرنے کا ارادہ رکھتی تھی تو اسے کثیر سرمائے کی ضرورت تھی_ سات سال کے قلیل عرصے میں مصر کا کوئی شہر اور گاوں ایسا نہیں تھا جہاں اخوان المسلمین کی مقامی شاخ نہ کھل گئی ہو ۔
اپنے قیام کے چند سال بعد ہی یہ جماعت مصر سے باہر نکل گئ، اور اس کی شاخیں شام،لبنان،عراق،اردن،سعودی عرب اور سوڈان وغیرہ میں قائم ہونے لگیں ۔جب دنیا دوسری جنگ عظیم میں داخل ہونے کو تھی تو اخوان المسلمین نے بھی مصر کی سیاست میں حصہ لینے کا عندیہ دے دیا۔یہ وہ تنظیم تھی جس میں ہر طبقہ ہائے حیات کے لوگ تیزی سے شامل ہوتے رہے تھے ۔مزدور،تاجر،صنعت کار، انجینئر، ڈاکٹر، وکلا، اساتذہ اور طلبہ ۔
دیگر اسلامی ممالک میں اخوان المسلمین کی شاخوں کا کھلنا اور کامیابی حاصل کرنا گویا "اتحاد امت مسلمہ "کی طرف ایک ایسا قدم تھا جو مغربی استعماری طاقتوں کو ہرگز منظور نہیں تھا جنہوں نے بڑی منصوبہ بندی کے بعد عثمانی خلافت کا خاتمہ اور امت مسلمہ کو قومی ریاستوں Nation states میں توڑا تھا ۔لیکن اخوان امت کے تصور کو "واہمے "myth سے "حقیقت " reality کی طرف لانے کے جس سفر پر گامزن تھے وہ ان مغربی طاقتوں، امریکہ، اسرائیل اور ان کے مسلمان گماشتوں کے لئے قابل قبول نہیں تھا لہذا اخوان کے خلاف دارو گیر کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے ۔ 
دوسری جنگ عظیم کے بعد اخوان ایک واضح سیاسی ایجنڈا لے کر سامنے آئے ۔انہوں نے اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیش نظر مختلف قسم کی تجارتی کمپنیاں قائم کیں اور مالی طور پر مستحکم ہو گئے ۔اخوان نے نوجوانوں کے تربیتی مراکز قائم کئے اس اعلان کے ساتھ کہ ہمارے حکومت بلکہ کسی کے بھی خلاف کوئ جارحانہ عزائم نہیں ہیں لیکن ہمارے پر امن پروگرام کے دفاع کے لیے ہم تیاری کریں گے ۔
اس وقت کے مصری وزیراعظم نقراشی پاشا کے سامنے اخوان نے یہ مطالبہ رکھا کہ مصری قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے ۔اس وقت تک اسرائیل کا باقاعدہ قیام عمل میں آ چکا تھا(1948) اس حوالےسے بھی اخوان کا موقف بہت واضح تھا، لہذا اخوان فلسطین کاز کے لئے بھی حکومت پر دباو بڑھانے لگی۔فلسطین کی جنگ میں اخوان نوجوانوں کی سر گرم شرکت نے اسرائیل نواز مغربی ممالک کو چوکنا کردیا، برطانیہ نے مصری وزیراعظم نقراشی پاشا پر دباو بڑھایا کہ اخوان المسلمین پر پابندی عائد کرے ۔
نقراشی پاشا نے انتہائی اقدام اٹھاتے ہوئے اخوان المسلمین پر پابندی عائد کر دی ۔یہ حکم 8۔دسمبر 1948کو فوجی حکم کے ذریعے نافذ کیا گیا ۔گویا اپنے آغاز کے 20 برس بعد اخوان مصر میں غیر قانونی قرار دے دی گئی ۔ان کے تمام دفاتر سیل کر دئے گئے ۔۔۔تمام اثاثے ضبط ہو گئے ۔۔۔تمام بینک اکاونٹس پر حکومت کا قبضہ ہو گیا ۔۔۔۔ان کے پریس منجمد کر دئے گئے ۔۔۔اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ شروع ہو گی ۔
مصر کے بادشاہ، شاہ فاروق اور وزیراعظم نقراشی پاشا کے تعلقات اخوان سے تلخ ہونے لگے ۔اس وقت مصر برطانوی انتداب British mandate کے زیر تحت تھا ۔یاد رہے کہ مصر 1882سے 1952 تک برطانوی انتداب کے زیر تحت رہا۔یہ انتداب 70 سال تک قائم رہا اور برطانیہ، مصر کا آقا بنا رہا ۔اخوان کے رہنما حکومت سے یہ مطالبہ بھی کرتے تھے کہ برطانیہ کی غلامی برداشت کرنے کے بجائے اس کے خلاف آزادی کی جنگ چھیڑی جائے اور مار کر انہیں ملک سے نکال دیا جائے ۔
بہر حال برطانوی دباو پرنقراشی پاشا کی حکومت نے اخوان پر پابندی عائد کر دی ۔یہ پابندی 8۔دسمبر 1948کو لگی۔یہ اخوان کے لئے پہلا بڑا دھچکا تھا،اور تحریک اپنی جگہ پر بے دست و پا ہو کر رہ گئ ۔اس پابندی کے پیچھے صرف برطانیہ کا چہرہ ہی نظر نہیں اتا بلکہ اس مشترکہ یادداشت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جو برطانیہ، امریکہ اور فرانس نے مشترکہ طور پر پیش کی جس میں اخوان پر فوری پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
اخوان پر پابندی کے ٹھیک 20 دن کے بعد وزیر اعظم نقراشی پاشا کو قتل کر دیا گیا ۔اس قتل کا الزام بھی اخوان پر عائد کیا گیا ۔نقراشی کے بعد ابراہیم عبدالہادی وزیراعظم بنے اور ان کے سات ماہ کے دور وزارت کے دوران اخوان کے خلاف وہ سب کچھ ہوتا رہا جو نقراشی کے دور میں ہو رہا تھا ۔یہاں تک کہ 12 فروری 1949 کو اخوان کے پہلے مرشد حسن البنا کو "نامعلوم افراد" نے قتل کر دیا ۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ جس کے قاتل نامعلوم ہوں ان کی قاتل ریاست ہوتی ہے، بہرحال کئ تاریخی شواہد اس قتل میں مصری حکومت اور فوج کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہیں ۔
اخوان کےلئے وہ اتنا برا وقت تھا کہ حسن البنا کی میت کو کندھا دینے کے لئے صرف دو ہی مرد موجود تھے ایک ان کے والد دوسرے ان کے بیٹے ۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اخوان کے جسد خاکی سے روح پرواز کر چکی ہے ۔ان کو دوسری زندگی نحاس پاشا کے دور وزارت عظمی میں ملی ۔
ابراہیم الہادی سات ماہ وزیر اعظم رہنے کے بعد مستعفی ہو گئے(25۔جولائی 1949)۔۔۔نگران وزارت قائم ہوئ ۔۔۔اسی کی نگرانی میں عام انتخابات منعقد ہوئے ۔۔۔وفد پارٹی، اخوان المسلمین کی حمایت سے انتخابات جیت گئ ۔۔۔جنوری 1950 میں نحاس پاشا وزیر اعظم بن گئے ۔چونکہ اخوان کے حمایت یافتہ تھے لہذا ان کے دور وزارت میں اخوان سے رفتہ رفتہ پابندیاں ہٹنے لگیں، مصر کی سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ گیا، اخوان المسلمین کی بے گناہی ثابت ہو گی اور اس پر سے پابندی ہٹا لی گئی ۔
برطانوی انتداب کے خلاف ملک میں جنگ آزادی کا آغاز ہو گیا ۔اکتوبر 1951۔میں مصر اور برطانیہ کے مابین اس جنگ نے نازک صورتحال اختیار کر لی۔اخوان کے رضاکار دستوں نے جنگ آزادی میں نمایاں حصہ لیا لیکن برطانیہ کا پلہ بھاری رہا۔نحاس پاشا کو وزارت چھوڑنی پڑی، ملک میں عام بے چینی اور شاہ فاروق کے خلاف نفرت میں بھی اضافہ ہوتا رہا،شاہی خاندان کی بدعنوانیوں اور شاہ خرچیوں کا چرچا تھا۔۔۔وزارتیں بنتی تھیں ۔۔۔۔پھر بگڑتی تھیں ۔۔۔پورے ملک میں بے چینی، بے اعتمادی اور بے یقینی کی یہ کیفیت تھی کہ 22۔جولائی 1952 کا فوجی انقلاب آ گیا ۔
مصری فوج کے گیارہ فوجی افسروں نے جو سب کے سب کرنل اور میجر کے رینک کے تھے خفیہ تنظیم سازی کی ۔
Revolutionary Command Council =RSS 
کی بنیاد ڈالی، جنرل نجیب کو اپنے ساتھ ملایا، ملک میں بغاوت کر کے شاہ فاروق کو تخت سلطنت سے معزول کر دیا ۔۔جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا ۔۔۔برطانوی انتداب کا خاتمہ ہوا ۔۔جنرل نجیب نئ جمہوریہ کے صدر اور وزیراعظم مقرر ہوئے ۔اور کرنل جمال عبدالناصر وزیر داخلہ بنے۔
اخوان کے رہنماؤں نے اس فوجی اقدام کی تائید کی، وہ شاہ فاروق کے زمانے میں ہولناک مظالم کا شکار رہے تھے ۔اس زمانے میں اخوانی علما اور سرکاری علماء کے مابین فکری جنگ بھی عروج پر تھی ۔اخوان کا نعرہ تھا:
اللہ غایتنا، والرسول زعیمنا 
یعنی اللہ ہمارا مقصد اور رسول ہمارے قائد ہیں
اس کے بر خلاف سرکاری علماء یہ باور کراتے کہ یہ باغی اور فسادی ہیں ۔وہ سورہ مائدہ کی 33ویں آیت کا حوالہ دیتے۔ (ترجمہ:جو لوگ اللہ اور رسول سے جنگ کرتے اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں ان کی یہی سزا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے،یا سولی دی جائے یا ان کے ہاتھ پاوں برعکس کاٹ دئے جائیں یا ان کو دیس بدر کر دیا جائے )
سورہ مائدہ کی یہ آیت ہر جیل خانے کی دیواروں پر آویزاں کی گئ تاکہ وہاں قید اخوان اس کو پڑھیں اور بار بار پڑھیں۔
لہذا شاہ کے دور کی اس واضح حکومتی پالیسی کے بعد اخوان کو جیلوں میں ٹھونسا گیا ۔۔۔انہیں بے رحمی سے قتل کیا گیا ۔۔۔ان پر خوفناک مظالم کئے گئے ۔۔۔جلا وطن کیا گیا ۔۔۔عمر بھر کی کمائی اور گھر بار کو لوٹ کر انہیں معاشی طور پر برباد کر دیا گیا ۔
اسی وجہ سے انہوں نے فوجی انقلاب کو خوش آئند سمجھا ۔
1952 کے فوجی انقلاب کے بعد جنرل نجیب اور اخوان کے درمیان خاصی ہم آہنگی رہی ۔اس مختصر دور میں بعض ایسے اچھے اقدامات ہوئے جس سے جنرل نجیب اور اخوان کی مقبولیت بڑھنے لگی۔ایک مستحسن قدم تو یہ اٹھایا گیا کہ شاہی خاندان کے افراد سےجاگیریں ضبط کر کے فلاحین(کسانوں)میں تقسیم کر دیں۔بڑے بڑے جاگیرداروں کی اراضی، جو مقررہ حد سے زیادہ تھی، معمولی معاوضے پر فلاحین کو دے دی گئیں ۔لیکن دوسری طرف انقلابی کونسل +ناصر کے ساتھ اخوان کے اختلافات شروع ہو گئے ۔انقلابی کونسل نے اخوان کو چند وزارتوں کی پیشکش کی جو حسن الہضیبی نے قبول نہیں کی،وہ اپنی جماعت کو کسی ایسی حکومت میں شامل کرنے کے لئے تیار نہیں تھے جس میں اصل اختیارات حکومت کے بجائے انقلابی کونسل کو حاصل ہوں ۔حسن الہضیبی کا موقف یہ تھا کہ ہم حکومت کے بے لوث خیر خواہ ہیں، ان کے اچھے کاموں کی تائید اور غلط کاموں پر ٹوکتے رہیں گے ۔
حسن الہضیبی کی حکمت عملی بعض پرجوش اخوان کے مقابلے میں بڑی حکمت اور تدبر پر مبنی تھی، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اخوان المسلمین جوائن کرنے سے قبل وہ مصر کی سپریم کورٹ کے لیگل ایڈوائزر رہے تھے ۔وہ اخوان المسلمین کو بڑی احتیاط سے قانونی طور پر لے کر چلتے رہے، اور اپنی جماعت کو ناصر اور انقلابی کونسل کی دست درازیوں سے بچاتے رہے ۔۔۔۔مثلا ۔۔۔جنوری 1953کو انقلابی کونسل نے ایک قانون کے ذریعہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ختم کر دیا ۔اس موقع پر حسن الہضیبی نے انقلابی کونسل کو ایک یادداشت بھیجی کہ اخوان المسلمون مروجہ معنوں میں کوئ سیاسی جماعت ہے ہی نہیں ۔یہ ایک دینی جماعت ہے اور سیاست اس کا محض ایک جزو ۔اخوان حکومت کے طالب نہیں اور نہ پارلیمنٹ کے انتخاب میں شامل ہوں گے ۔
یوں اخوان کی سیاسی حیثیت تو محدود ہو گی، لیکن جماعت پابندی سے بچ گئ ۔
اسی طرح جب انقلابی کونسل نے ایک سرکاری سیاسی جماعت "ھیتہ التحریر "بنائ اور دیگر سیاسی جماعتوں کو اس میں مدغم ہونے کی دعوت دی تو اس ادغام سے بھی حسن الہضیبی نے اپنی جماعت کو بچا لیا ۔
اخوان اور نجیب کے اشتراک عمل کا جنوری 1954میں اس وقت خاتمہ ہو گیا جب ھیتہ التحریر اور قاہرہ یونیورسٹی کے اخوانی طلبہ کے درمیاں مسلح جھڑپ کے بعد دوسری بار اخوان المسلمین پر پابندی عائد کر دی گئی، متعدد رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا، جنرل نجیب کو انقلابی کونسل نے بر طرف کر دیا ۔اس پر ملک گیر ہنگامے پھوٹ پڑے ۔انقلابی کونسل کو اتنے شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی لہذا اخوان المسلمین کو دوبارا بحال کیا گیا اور جنرل نجیب کو دوبارا لایا گیا ۔لیکن محض تین دن کے بعد ھیتہ التحریر نے جوابی ہنگامے شروع کر دیئے اور حالات اس قدر کشیدہ ہو گئے کہ نجیب روپوش ہو گئے ۔انقلابی کونسل نے جمال عبدالناصر کو وزیر اعظم بنا دیا ۔
26۔اکتوبر 1954کو جمال عبدالناصر پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔الزام اخوان پر لگایا گیا، بڑی تیزی سے پکڑ دھکڑ شروع ہو گی، ہزار ہا اخوان جیلوں میں ڈال دئے گئے جنہیں سالہاسال بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔6 اخوان رہنماؤں کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی جس میں حسن الہضیبی بھی شامل تھے ۔
جس عجلت میں مقدمہ چلایا گیا اور جس سرعت سے سزا پر عملدرآمد کیا گیا ۔۔۔۔اور جو عدالت بٹھائ گئ ۔۔ان سب باتوں نے اس سارے عمل کو مشکوک بنا دیا ۔ناصر نے محکمتہ الشعب ۔۔یعنی پیپلز کورٹ بنائ، یہ عدالت جن تین ججوں پر مشتمل تھی وہ تینوں انقلابی کونسل کے رکن اور ناصر کے قریبی ساتھی تھے۔اس سے اس سارے عدالتی عمل کی شفافیت کی قلعی کھل جاتی ہے ۔
پیپلز کورٹ نے جن چھ اخوانیوں کو پھانسی کی سزا سنا ئ ۔ان میں مرشد حسن الہضیبی ۔۔۔عبدالقادر عودہ(سابق جج اور متعدد کتابوں کے مصنف )۔۔۔شیخ محمد فرغلی ۔۔۔یوسف طلعت۔۔۔ابراھیم الطیب ۔۔اور۔۔۔ہنداوی دویر شامل تھے ۔پھانسی کی ان سزاوں پر مسلم دنیا میں چیخ و پکار مچ گئی ۔شام، لبنان،لیبیا،اردن اور عراق میں بڑے بڑے جلوس نکلے ۔اسلامی ممالک کے بعض سربراہوں نے ناصر سے سزاوں کی معطلی کی درخواست کی،پریس چیختے رہے ۔۔۔اس کا اثر یہ ہوا کہ حسن الہضیبی کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں بدل دیا گیا مگر باقی افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ۔
جمال عبدالناصر دو سال وزیراعظم رہے اورپھر 1956میں صدر بن گئے ۔اس عہدے پر اپنی وفات(1970) تک فائز رہے ۔یوں ان کے اقتدار کے تقریبا 14سال بنتے ہیں ۔اس عرصے میں جمال عبدالناصر کی داخلہ اور خارجہ حکمت عملی پر بحث تو طوالت کا باعث ہو گی البتہ اہم نکات مختصرا ذکر کئے جاتے ہیں ۔
1۔۔۔۔۔۔۔۔دوسری جنگ عظیم کے بعد کی bi pollar world میں دو سپر پاور، امریکہ اور روس تھیں ۔مصر نے روسی بلاک جوائن کیا ۔اس کی ایک وجہ اسرائیل تھا ۔عرب ممالک کی اسرائیل سے جنگی کیفیت چل رہی تھی ۔ایسے میں بیشتر عرب ممالک بشمول مصر اور شام روسی بلاک میں شامل ہو گئے ۔روس نے مصر کو مالی معاونت بھی فراہم کی اور اسرائیل کے خلاف اسلحہ بھی فراہم کیا، لیکن اس کے عوض ناصر کو مصر کو سوشلسٹ ملک بنانے کا عندیہ دینا پڑا ۔پھر ناصر اس حکمت عملی پر مسلسل کار بند رہا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ناصر کے انتقال تک مصر کا اسلامی تشخص ختم ہو چکا تھا اور مصر 
Arab Socialist Republic 
بن چکا تھا ۔اسے دستور میں دوبارہ اسلامی ملک بنانے کے لئے 1980 میں مصری ائین کی شق نمبر 2میں ترمیم کرنی پڑی۔
اس مختصر تحریر  میں سارے تاریخی حقائق بیان نہیں ہو سکتے ۔خصوصا اخوان کا جارحانہ حکومت مخالف رویہ۔۔۔ناصر کےoptions زمینی حقائق وغیرہ، طویل تجزیاتی جائزوں کے متقاضی ہیں ۔اخوان کا یہ وزن vision کہ ایک اسلامی ریاست قائم ہو، ان کے دشمنوں کے لئے تو قابل قبول ہے ہی نہیں، ان مسلمان ممالک کے لئے بھی قابل قبول نہیں جو نسل در نسل بادشاہت کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔اخوان نے 1952 کے فوجی انقلاب کو اسی وجہ سے خوش آئند سمجھا تھا کہ اب اگلا مرحلہ ۔۔۔یعنی ایک اسلامی ریاست کا قیام ۔۔۔آسان ہو جائے گا ۔
اخوان المسلمین میں ایک مسئلہ اور بھی تھا، اخوان میں ایک جوشیلا گروپ، جس میں زیادہ تر طلبہ تھے، مشکلات پیدا کر دیتا تھا ۔یہ جوشیلا گروپ ایک خفیہ ونگ بھی بنانا چاہتا تھا جس کو ان کے مرشد حسن الہضیبی نے سختی سے مسترد کر دیا کہ تنظیم میں کوئی بھی کام خفیہ طور پر نہیں کیا جائےگا ۔اخوان المسلمون میں سوچ کے اس ٹکراؤ کا جمال عبدالناصر نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی مگر اخوان میں پھوٹ ڈلوانے کی ناصر کی خواہش کو حسن الہضیبی کے تدبر اور حکمت عملی نے کامیاب نہیں ہونے دیا ۔
جس طرح مصطفے کمال پاشا نے اقتدار ملنے کے بعد ترکی کو "مشرقی اسلامی دائرے "سے نکال کر"مغربی لادینی دائرے "میں ڈال دیا تھا، اسی طرح جمال عبدالناصر نے مصر کو "عرب اسلامی دائرے "سے نکال کر" عرب اشتراکی دائرے "میں لانے کی حکمت عملی اختیار کی ۔صرف اخوان ہی نہیں وہ ملک کی ہر مذہبی اور دینی جماعت کو رجعت پسند سمجھتا تھا اور مصر کی ترقی ان رجعت پسندوں سے نجات میں مضمر سمجھتا تھا ۔اس کی سوچ یہ بھی تھی کہ مصر، مصریوں کا ہے ،ان مصریوں کے قومی تشخص کا اسلام سے کیا لینا دینا، ان مصریوں کا تشخص فرعونی تہذیب سے وابستہ ہے ۔لہذا ناصر کے دور میں شاہراہوں اور دیگر مقامات کے نام فراعنہ مصر کے ناموں پر رکھے گئے ۔۔۔کرنسی نوٹوں اور ڈاک کے ٹکٹوں پر رعمسیس(فرعون مصر) کی تصویر چھاپی جانے لگی ۔۔۔قاہرہ کے مرکزی چوک پر فرعون کا دیو ہیکل مجسمہ نصب کر دیاگیا ۔۔۔نصابی اور تاریخی کتب میں مصر کی سابقہ تاریخ میں تبدیلی کی گئ ۔۔۔خود ناصر کی وہ تقریر ریکارڈ پر موجود ہے جس میں اس نے کہا کہ دو ہزار سالہ استعماری دور کے بعد اب ہم آزاد ہیں(گویا حضرت عمر رضی اللہ تعالی کا مصر فتح کرنا ان کی استعماریت تھی 🙂) ۔۔۔ملک میں سوشلسٹ پارٹی قائم ہوئ اور اس کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھنے لگیں ۔۔۔ملک میں کمیونسٹ لٹریچر کا انبار لگ گیا جس میں اسلامی تاریخ، علم حدیث، فقہ، تفسیر، سیرت اور ادب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلام اور اسلامی تاریخ کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ۔
ناصر کے پورے دور میں یہ ہوتا رہا اور چونکہ اخوان المسلمین کے قائدین اور بیس ہزار سے لے کر پچاس ہزار تک کی تعداد میں اخوان کارکن جیلوں میں بند تھے لہذا بظاہر ناصر کا ہاتھ روکنے والا بھی کوئی نہیں تھا ۔مصری پریس حکومت کے قبضے میں تھا جس کا کام حکومتی پالیسیوں کی حمایت اور ناصر کو عرب دنیا کا رہنما ثابت کرنے کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔آزاد اخبارات بند کر دئے گئے تھے، ان کے ایڈیٹر ملک چھوڑ کر جا چکے تھے، جو نہیں گیے وہ نظر بند تھے۔
11۔اکتوبر 1965 کو ایک قانون نافذ کیا جا چکا تھا جس کی رو سے صدر مملکت(یعنی ناصر) کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کسی بھی شخص کو سیاسی وجوہ کی بنا پر مقدمہ چلائے بغیر گرفتار کر سکتا ہے اور اس کے خلاف کسی جگہ اپیل نہیں کی جاسکتی 🤐
قیاس کن ز گلستان من بہار مرا 
اس قانون سے دو ماہ قبل اگست 1965میں ناصر روس کے دورے پر تھے،ماسکو میں ایک تقریر میں انہوں نے کہا:"اخوان نے میرے قتل کی سازش تیار کی تھی جو طشت از بام ہو چکی ہے، ماضی میں میں نے انہیں معاف کر دیا تھا (بہت خوب 😏) لیکن اب معاف نہیں کروں گا "
اس کے بعد 11۔اکتوبر والے مذکورہ بالا قانون کو دوبارہ پڑھئے ۔۔۔صاف سمجھ میں آ جاتاہے کہ ناصر کا منصوبہ کیا تھا ۔وہ ترقی پسند ۔۔۔اشتراکی مصری سرزمین پر ایک بھی رجعت پسند، دہشت گرد اخوانی کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں تھے ۔اخوان کو سب سے پہلے دہشتگرد کہنے والے ناصر ہی تھے، انہوں نے ساٹھ کی دہائی میں اخوان المسلمین کو یہ "اعزاز"عطا کیا تھا ۔
بہرحال "سازش" کے انکشاف کے بعد مصر کی خفیہ پولیس نے جس بے دردی سے اخوان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کیا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔اخوان روپوش ہونے لگے ۔۔۔جس بستی پر شبہ ہوتا کہ وہاں اخوان چھپے ہوئے ہیں اس بستی کو گھیر کر ان پر توپوں سے گولہ باری کی جاتی ۔کرداسہ اور دمیاط کے واقعات مشہور ہیں ۔مصر کے سرکاری اخبارات انہیں کسی اور طرح رپورٹ کرتے جبکہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے اخبارات تصاویر اور اعداد و شمار کے ساتھ اسے دوسری طرح رپورٹ کرتے ۔اگر ہم معروضیت پر قائم رہتے دونوں ذرائع معلومات کو مسترد کر دیں تب بھی غیر جانبدار ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹیں ناصر کی شیطنیت سے پردہ ہٹانے کے لیے کافی ہوں گی ۔
65 کی پکڑ دھکڑ کے بعد اخوان کے بیشتر زعما کو ہولناک سزائیں سنائ گئیں ۔۔۔جس میں دس سال قید با مشقت سے لے کر پھانسی تک کی سزائیں شامل تھیں ۔پھانسی پانے والوں میں مفسر قران، متعدد کتابوں کے مصنف، دانشور سید قطب بھی شامل تھے، جن کی پھانسی پر عالم اسلام ہل کر رہ گیا ۔
ناصر نے اخوان کا گلا اچھی طرح گھونٹ دیا تھا ۔۔۔سیاسی اور دعوتی محاذوں پر انہیں پسپا کر دیا تھا، مگر ایک محاذ پر اخوان نوے سالوں میں کبھی پسپا نہیں ہوئے اور وہ ہے قلمی اور علمی محاذ ،جو ان کے علماء اور دانشوروں نے سنبھال رکھا تھا ۔خواہ وہ جیل میں بند ہوں ۔۔۔گھروں میں نظر بند ہوں ۔۔۔یا آزاد ہوں، ہر تین صورتوں میں انہوں نے مسلسل اور انتھک مختلف موضوعات پر اسلامی لٹریچر تیار کیا ۔اور یہ سرسری اور مختصر تحریریں نہیں ہوتی تھیں بلکہ کئ کئ جلدوں پر مشتمل محقق،حوالہ جاتی تحریریں ہوتی تھیں ۔مصر میں تفسیر، حدیث، فقہ،اسلامی تاریخ و فلسفہ، تصوف اور ادب پر جتنا لٹریچر اخوان علماء کی طرف سے بارہ سالہ ناصری عقوبت کے دور میں لکھا گیا، اس سے قبل نہیں لکھا گیا تھا۔ 
عموما تاریخ کی کتابوں میں ناصر کو روشن خیال، تجدد پسند، اور استعمار دشمن، عرب رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔بادی النظر میں تو یہ درست معلوم ہوتا ہے خصوصا جب ناصر نے نہر سوئز کے علاقے سے برطانیہ کو انخلا پر مجبور کر دیا اور نہر سوئز کو قومیا لیا(جولائی 1956)جس کی وجہ سے مصر کو ایک جنگ بھی بھگتنی پڑی، لیکن اس سے ناصر کا قد ضرور اونچا ہو گیا، لیکن اگر اس کی خارجہ حکمت عملی کے ایک ایک معاملے کا تجزیہ کریں تو اپنی خارجہ پالیسی میں ناصر ایک ناکام حکمران نظر آتا ہے ۔تاریخی شواہد یہ ہیں:
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناصر عرب سوشلسٹ ممالک کا بلاک بنانا چاہتے تھے ۔اس کے لئے شام سے اتحاد کیا گیا۔مصر اور شام کا یہ ادغام فروری 1958میں ہوا۔اور دونوں ممالک کا مشترکہ نام "الجمہوریہ العربیہ المتحدہ "United Arab Republic تجویز ہوا، بعد میں اس اتحاد میں یمن کو بھی شامل کر لیا گیا ۔لیکن بعث پارٹی کی مخالفت، ناصر کی بالا دست حکمت عملی اور متکبرانہ انداز حکمرانی نے اس اتحاد کو ساڑھے تین سال بھی نہ چلنے دیا۔اور یہ اتحاد ختم ہو گیا ۔
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناصر نے اتحاد نیل کا نظریہ دیتے ہوئے سوڈان سے انضمام کرنا چاہا، لیکن یہ منصوبہ بھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔یہاں ناکامی کی وجوہات میں ایک وجہ سوڈان کی اخوان المسلمین بھی ہو سکتی ہے ۔ناصر نے جس طرح مصر میں اخوان کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی، اس کی وجہ سے سوڈان کے مسلمان اور اخوان سخت برافروختہ تھے، وہ کسی حال میں سوڈان پر ناصر کی بالا دستی قبول نہیں کر سکتے تھے۔
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔خارجہ پالیسی کا تیسرا اہم محاذ جہاں ناصر کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اسرائیل تھا ۔پہلی عرب-اسرائیل جنگ 1948میں ہوئی تھی۔اس جنگ میں مصری فوج کے ساتھ اخوان رضاکار وں نے بڑی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور غزہ کی پٹی اور صحرائے سینا دونوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔لیکن ناصر کے دور حکومت میں ہونے والی 1967 کی چھ روزہ جنگ میں مصر کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔غزہ کی پٹی اور صحرائے سینا کا سارا علاقہ مصر کے قبضے سے نکل گیا، جنگ کے دوران اربوں ڈالر کا روسی اسلحہ بھی مصری سپاہیوں سے چھین لیا ۔اس جنگ میں اخوان شریک نہیں تھے بلکہ 20 ہزار سے لے کر 50 ہزار اخوان، مصر کی مختلف جیلوں میں قید تھے، ہزار ہا وہ تھے جو محض شبہ میں گرفتار کئے گئے تھے ۔
*۔۔۔۔۔۔۔۔جنگ کے بعد مصر شدید اقتصادی بحران کا شکار ہو گیا، مہنگائی خوفناک حد تک بڑھ گئی، نہر سوئز کی بندش کی وجہ سے معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ گئ ۔اس موقع پر سعودی عرب،کویت اور لیبیا نےمصر کو گراں قدر مالی امداد دے کر مصری معیشت کو سہارا دیا ۔آخر شکست خوردگی اور شکستہ دلی کے عالم میں 28۔ستمبر 1970 کو جمال عبدالناصر کا انتقال ہو گیا ۔
ناصر کے بعد ملک کی زمام کار انوارالسادات کے ہاتھ میں آئ، یہ ناصر کے دوست اور اس پیپلز کورٹ کے تین میں سے ایک جج تھے جنہوں نے حسن الہضیبی، عبدالقادر عودہ سمیت 6 اخوانیوں کو پھانسی کی سزا سنا ئ تھی ۔لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اتنا عرصہ انوارالسادات نے ملک میں جو کچھ مشاہدہ کیا اس نے انہیں خاصا تبدیل کر دیا ۔انہوں نے سب سے پہلے مصر سے روسی مشیروں کو رخصت کر دیا جو حکومتی معاملات میں مداخلت کے عادی ہو چکے تھے ۔اخوان کے ہزار ہا کارکنوں کو جو محض شبہ کی بنیاد پر برسہا برس سے قید تھے، رہا کر دیا ۔ملک میں تحریر و تقریر کی آزادی بحال کر دی۔ 
اخوان کو دوبارا سنبھلنے کا موقع ملا ۔گو کہ ان کا بہت نقصان ہو چکا تھا، نفع میں چلنے والی ان کی تجارتی کمپنیاں برے حالوں میں تھیں، سب سے بڑھ کر ان کے اپنے گھر والے گھر سے بے گھر تھے ۔نوکریاں ختم ہو چکی تھیں، غرضیکہ انہیں سنبھلنے کے لئے خاصا وقت درکار تھا ۔لیکن کئی چیلنجز ان کے سامنے تھے اور یہ تھے سوشلزم ۔۔۔۔لادینیت اورقوم پرستی کے بت ۔
وقت کے ساتھ اخوان کے اہداف بدلتے رہے ۔جب اخوان کی تاسیس ہوئ تھی تو ان کا ایک بڑا مقصد مصر کو برطانوی استعمار سے نجات دلانا بھی تھا ۔برطانیہ مصر پر 1882 سے قابض چلا آ رہا تھا ۔۔۔مصر میں ایک اسلامی حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا تھا جب تک اسے غیر ملکی تسلط سے آزادی نہ دلائ جائے ۔اسی لیے اخوان المسلمین نے اپنے نوجوانوں کی عسکری تربیت بھی کی ۔اخوان نے برطانوی استعمار کے خلاف پہلی جنگ نحاس پاشا کے دور وزارت میں مصری فوج کے پہلو بہ پہلو لڑی ۔دوسری جنگ 1948میں اسرائیل کے خلاف اپنی فوج کی ما تحتی میں لڑی ۔۔۔اخوان کی اسی عسکریت کو بعد ازان "دہشت گردی "سے جوڑ دیا گیا ۔
جنوں کا نام خرد رکھ دیا، خرد کا جنوں 
جو چاہیے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
 انورالسادات کے زمانے میں اخوان کو محدود سیاسی آزادی مل گئ تھی مگر شبہ کے الزام میں وہ ایک بار پھر زیر عتاب آ گئے ۔1981میں فوجی پریڈ کے دوران انور السادات کو "جماعتہ التکفیر والھجرہ " کے کارکن نے قتل کر دیا، اگرچہ اخوان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا مگر شبہ میں بہت سے اخوانی کارکنوں اور رہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا ،یہ شبہ اس لئے پیدا ہوا کہ اخوان انورالسادات کے اسرائیل کے دورے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے خلاف تھے تا وقتیکہ القدس کا شہر فلسطینیوں کو واپس نہ مل جائے ۔گرفتار شدہ اخوان کے خلاف پانچ سال تک تحقیقات چلتی رہیں یہاں تک کہ عدم ثبوت کی بنا پر انہیں رہا کر دیا گیا ۔ ع
ترے عہد میں دل زار کے سبھی اختیار چلے گئے 
تاریخ میں بہت سے واقعات کو صحیح سیاق و سباق کے ساتھ رپورٹ نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تاریخ مسخ ہو جاتی ہے۔ہر شخص تحقیق و تفتیش کے چکر میں نہیں پڑتا لہذا سنی سنائی باتیں اور بعض اوقات گھڑی ہوئی باتوں کو زبانیں لیتی چلی جاتی ہیں ۔حالانکہ قران کی نصیحت یہ ہے کہ جو بات کسی کے پاس پہنچے، اسے چاہیے کہ وہ اس کی تصدیق کر لے ۔
ناصر کی موت کے بعد جب سیاسی آزادی بحال ہوئی تو چند جماعتیں قائم ہوئیں ان میں دو جماعتیں شدت پسند تھیں جو انورالسادات کی اسرائیل اور امریکہ نواز پالیسی کے سخت خلاف تھیں ۔ان میں ایک جماعتہ التکفیر والھجرہ تھی جس نے انورالسادات پر قاتلانہ حملہ کر کے انہیں قتل کیا اور دوسری جماعتہ الاسلامیہ تھی جس کی انتہا پسند کارروائیاں حسنی مبارک کے دور میں سامنے آئیں ۔اخوان نے ہر پلیٹ فارم پر واضح کیا کہ ان دونوں جماعتوں سے ان کا تعلق نہیں ہے اور یہ کہ اخوان امن اور اصول پسند جماعت ہے جس کا انتہا پسندی اور دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ۔
کامن سینس کی بات ہے کہ اگر اخوان کا تشدد پر یقین ہوتا تو خود برسہا برس جیلوں میں سڑنے کے بجائے، مخالفین کو بہ نوک شمشیر جیلوں میں سڑا دیتے ۔
ایک بات کا ذکر رہ گیا ۔اخوان کے دوسرے مرشد حسن الہضیبی، ناصر کی موت کے بعد رہا ہوئے اور 1973میں انتقال کر گئے تو عمر تلمسانی کو اخوان المسلمین کا تیسرا مرشد منتخب کیا گیا، جنہوں نے 1954 سے تقریبا 20سال کا عرصہ جیلوں میں گزارا تھا ۔
انورالسادات کے بعد حسنی مبارک ملک کے چوتھے صدر بنے، ان کا تعلق مصری آئر فورس سے تھا ۔اس سے قبل کے مصر کے تینوں صدور کا تعلق بھی مصری فوج سے تھا یعنی جنرل نجیب ۔۔۔کرنل جمال عبدالناصر ۔۔۔کرنل انورالسادات ۔
حسنی مبارک 1981سے 2011 تک یعنی 29سال مصر کے صدر رہے اور عرب اسپرنگ کی لہر میں انہیں مستعفی ہونا پڑا ۔حسنی مبارک کا طویل دور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں، پولیس ایکشن، سنسر شپ، تحریر و تقریر کی پابندیوں، سیاسی اجتماعات پر پابندیوں کی وجہ سے مشہور ہے ۔حکومت کے خلاف بغاوتیں بھی ہوئیں مثلا 1986میں سینٹرل سیکیورٹی فورسز نے بغاوت کر دی، سڑکوں پر جلاو گھیراو، تشدد اور لوٹ مار شروع ہو گی، یہاں تک کہ مصری فوج کو طلب کرنا پڑا، جس نے آ کر حالات کو قابو میں کیا ۔
دوسری بغاوت 1992میں جماعتہ الاسلامیہ کی طرف سے ہوئی، انہوں نے چند مقامات پر قبضہ کر لیا، ان کو قابو میں کرنے کے لئے بھی فوج بھیجی گئی، جس کی باغیوں سے چھے ہفتے تک جنگ ہوتی رہی، یہاں تک کہ باغیوں کو پسپا ہونا پڑا۔
2007 سے 2008 کے درمیان 150 مرتبہ حکومت مخالف مظاہرے اور اسڑائیک ہوئیں در آں حالیکہ حسنی مبارک کے پورے دور میں ایمرجنسی نافذ رہی ۔عالمی اور غیر سرکاری ایجنسیوں مثلا ہیومن رائٹس واچ اور ایمینسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹیں پڑھیں تو آنکھیں کھل جاتی ہیں کہ ریاستی دہشت گردی اس حد تک بھی ہو سکتی ہے، وہ بھی بیسویں صدی میں 🤔
حسنی مبارک کے مستعفی ہونے کے بعد انتخابات منعقد ہوئے، عوام کا فیصلہ اخوان کے حق میں آیا، فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے پلیٹ فارم سے محمد مرسی، جن کا تعلق اخوان المسلمون سے تھا مصر کے پانچویں صدر منتخب ہو گئے ۔یہ پہلے سویلین صدر تھے جو آئینی طریقے سے برسراقتدار آئے ۔یہ سارا عمل یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اخوان اصولی اور امن پسند جماعت ہے اگر انتہا پسند ہوتے تو انتخاب کے ذریعے نہیں بلکہ انقلاب کے ذریعے برسر اقتدار آتے ۔ 
مجھے اچھی طرح یاد ہے، ہیلیری کلینٹن نے اپنی یادداشت میں لکھا تھا کہ مصر اور فلسطین کے انتخابات کے نتائج نے انہیں شدید دھکا پہنچایا ہے، امریکہ مسلمان رجعت پسندوں کے اقتدار میں آنے کو سخت تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد مرسی کے مصر میں اور خالد مشعل کے فلسطین میں برسراقتدار آنے پر امریکہ اور اسرائیل کے حکمرانوں کی نیندیں اڑ گئی تھیں ۔
شومئ قسمت محمد مرسی نے اقتدار ملنے کے ایک سال بعد ایک ایسی غلطی کی کہ امریکہ کو موقع مل گیا کہ مصر کے اندر موجود اپنے گماشتوں کی مدد سے مرسی کا تختہ الٹ دیں ۔مرسی نے ایک حکم جاری کیا کہ کسی صدارتی فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکے گا ۔اس کو بنیاد بنا کر اپوزیشن نے ملک گیر ہنگامے شروع کروا دئے، اور مرسی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شروع کر دیا گیا، ،ان ہنگاموں کو امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی آشیر باد حاصل تھی یہاں تک کہ مصر کے وزیر دفاع جنرل عبدالفتاح سیسی نے انقلاب کے ذریعے مرسی کو بے دخل کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔اب صورت حال یہ ہے کہ مصری عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی "دہشتگرد جماعت" کا صدر توجیل میں ہے اور "امن پسند " باغی انقلاب کے ذریعے کرسی صدارت پر ۔اسی کو کہتے ہیں کہ خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد ۔۔۔۔۔جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ۔
اخوان المسلمین نے طویل جدوجہد کے بعد دو ملکوں میں اپنی حکومت بنائ یعنی مصر اور فلسطین مگر دونوں جگہ انہیں کام نہیں کرنے دیا گیا، حالانکہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومتیں تھیں ۔صرف اس لئے کہ مصری اور فلسطینی عوام کا یہ فیصلہ اسرائیل اور امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں تھا ۔اس کے باوجود اگر کوئی امریکہ +اسرائیل کو ریاستی دہشت گرد کہنے کے بجائے اخوان المسلمین ہی کو مورد الزام ٹھراے تو اسے ہلکے لفظوں میں "تعصب" اور سخت لفظوں میں "عقل کا فتور " کہ سکتے ہیں ۔
مصطفے کمال پاشا کے ہاتھوں خلافت کے خاتمے کے بعد اسلامی دنیا لا مرکزیت کا شکار تھی،کئ عرب ریاستیں وجود میں آ چکی تھیں جو غیر ملکی استعمار کے زیر انتظام تھیں ۔مایوسی کے اس دور میں اخوان المسلمین نے واضح ایجنڈے کے تحت کام شروع کیا، جس میں غیر ملکی استعمار سے نجات اور اسلامی ملکوں کے ایک دولت مشترکہ کا قیام بھی شامل تھا ۔لہذا حسن البنا نے اپنے وفود دیگر عرب ممالک میں بھیجے اور ان ممالک میں اخوان المسلمین کی شاخیں کھلنے لگیں۔شام،اردن،لبنان، فلسطین، سوڈان، الجزائر، مراکش، لیبیا وغیرہ ۔اور جن ملکوں میں شاخیں نہیں کھل سکیں جیسے عراق اور سعودی عرب وغیرہ وہاں بھی ان کے ہمدردوں کا طبقہ پیدا ہو گیا ۔یہ شاخیں مختلف اوقات میں قائم ہوئیں،ان کے نام بھی مختلف تھے اور ان کا مصر کے اخوان سے ڈھیلا ڈھالا تعلق تھا،یہ تنظیمیں آزاد تھیں کہ اپنے ملکی حالات کے مطابق کام کریں ۔
اخوان المسلمین مصر کا سب سے بڑا حریف برطانوی استعمار تھا، جب اس سے نجات ملی تو دوسرا حریف سوشلزم تھا جو بڑی تیزی کے ساتھ عرب ممالک میں پھیل رہا تھا اور اس کی نمائندہ جماعت "بعث پارٹی "تھی ۔ 
Arab Socialist Ba'ath Party 
یہ پارٹی شام میں 1940کے عشرے میں قائم ہوئی ۔اس کے بانیوں میں مائیکل افلاق(مذہبا عیسائ )اور صالح البیطار(سنی مسلم) شامل تھے ۔بعث کے اہم نظریات میں عرب قوم پرستی ۔۔۔۔سوشلزم ۔۔۔سیکیولر ازم ۔۔۔اہم تھے۔بعث پارٹی ابتدا میں اتنی منظم اور مضبوط نہیں تھی لیکن جب یہ فوج میں متعارف ہو گی اور شامی فوجیوں نے اس میں شامل ہونا شروع کر دیا تو منظم بھی ہو گئ اور عسکری بھی ۔یہ صحیح معنوں میں ایک militant organisation تھی۔بعث پارٹی چونکہ لا دین جماعت تھی لہذا باطنی فرقوں کےلئے اس میں بڑی گنجائش تھی دروز،اسماعیلی، شیعہ اور نصیری اس میں شامل ہو گئے ۔
بعث پارٹی عراق میں بھی قائم ہو گئ ۔ اور دونوں ملکوں میں فوجی انقلاب کے ذریعے حکومتوں پر قابض ہو گئے، عراق میں صدام حسین اور شام میں حافظ الاسد اور ان کے بعد اسی تسلسل میں ان کا بیٹا بشار الاسد ۔
شامی اخوان جمہوریت پر یقین رکھتے تھے، اور شام میں جمہوری عمل کا نفاذ چاہتے تھے ۔اگر حافظ الاسد جمہوریت بحال کرتے تو اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھتے ،کیونکہ مذہبا وہ نصیری شیعہ تھے جو ملک کا صرف 4 فیصد تھے، جبکہ اخوان کا وسیع حلقہ اثر بھی تھا اور شام میں سنی مسلمانوں کی تعداد 80 فیصدسے زائد ہے ۔ لہذا حافظ الاسد نے بعث پارٹی کی مدد سے ایک بار اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد 30 سال تک حکومت کی اور اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا بشار الاسد اب تک اقتدار میں ہے ۔اخوان دونوں باپ بیٹے کے دور حکومت میں کچلے جاتے رہے یہاں تک کہ ان کے علاقوں میں بمباری تک کی گئی، اخوان نے دفاع بھی کیا مقابلہ بھی کیا لیکن حالیہ خانہ جنگی میں وہ پسپا ہوئے فی الحال میرے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں کہ وہ ملک چھوڑ کر کہاں اور کتنے گئے ۔
آخر میں سعودی عرب کا ذکر ضروری ہے ۔سعودی عرب میں چونکہ سیاسی جماعتوں کے قیام پر پابندی ہے اس لئے وہاں اخوان کی کسی شاخ کا کھلنا خارج از امکان تھا لیکن شاہ فیصل اور دیگر سعودی فرمانروا وں کے زمانے میں ان کے اخوان کے ساتھ اچھے تعلقات تھے لیکن گزشتہ عشرے میں جب سعودی عرب اور امریکہ کی قربت بڑھی تو اخوان کے ساتھ سرد مہری بھی بڑھی ۔اور پچھلےسال جب امریکہ نے اسرائیل کی ایما پر اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور سعودی عرب نے اس کی بھر پور تائید کی، اور اس کی وجہ سے کئی ممالک جو سعودی عرب کے حلقہ اثر میں تھے ان سب نے اس فیصلے پر صاد کیا تو گویا فلسطین کاز کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی ۔کیونکہ فلسطینی قیادت(خالد مشعل +اسماعیل ھانیہ) حماس سے تعلق رکھتی ہے اور حماس، اخوان ہی ہیں ۔
سعودی عرب کی "کاٹ کھانے والی ملوکیت" مسلمانان فلسطین کے مقابلے میں صہیونی اسرائیل کا ساتھ دینا، مسلمانوں کی اکثریت کے لئے دکھ کا باعث ہے۔آج بھی کتنے ہی سعودی علما(یہ اخوانی نہیں ہیں)سعودی جیلوں میں صرف اس لئے سڑ رہے ہیں کہ وہ فلسطین کی حمایت میں بولتے ہیں ۔ ایک سامنے کی مثال سفر الحوالی کی ہے ۔ اختلاف رائے کا مطلب "مخالفت "نہیں ۔مگر اس کاٹ کھانے والی ملوکیت میں اختلاف رائے کا مطلب "مخالفت " ہے۔۔۔اور مخالفت کا مطلب بغاوت ہے اور بغاوت کی سزا موت ہے۔
زمانے کی شکایت کیا، زمانہ کس کی سنتا ہے؟
مگر تم نے تو آواز جنوں پہچان لی ہوتی ☹
وما علینا الا البلاغ ۔

Wednesday, September 16, 2020

قرآن ‏کی ‏چار ‏بنیادی ‏اصلاحات

September 16, 2020 0
امت مسلمہ کے اگر زوال پر غور کیا جائے تو اس میں سر فہرست یہ سبب نظر آئے گا کہ اس نے قرآنی تعلیمات کو فراموش کر دیا اور اس کی انقلابی دعوت سے نا آشنا ہو گئی۔ آج اگر ہم قرآن مجید کو پڑھتے بھی ہیں تو اس کے معنی ومفہوم سے بے خبر ہو کر محض رسمأ. یہی وجہ ہے کہ اپنے دکھوں کا علاج اور ترقی کا زینہ دنیا بھر کے افکار ونظریات میں تلاش کرتے ہیں۔ لیکن خود اس نسخہء شفا سے استفادہ نہیں کرتے یا استفادہ کی اہلیت نہیں رکھتے جو الله تعالیٰ نے ہمارے لیے نازل کیا ہے۔ 
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اس کتاب کو لکھ کر قرآن کی اس ہی انقلابی دعوت کو واضح کیا ہے۔ جس نے اونٹوں 🐫 کی نکیل پکڑنے والوں کو دنیا کا امام بنا دیا تھا۔ اور اس کے ذریعے سے فہم قرآن کی راہ کو آسان بنا دیا ہے۔ الله تعالیٰ نے موصوف کو علوم قرآنی میں جو گہری بصیرت عطا فرمائی ہے یہ کتاب اس کی پوری آئینہ دار

ہے۔ DOWNLOAD

DEVTA-PART 2

    "دیوتا" "دیوتا" اردو ادب کی تاریخ کا سب سے طویل اور مشہور سلسلہ وار ناول ہے، جو محی الدین نواب کی تخلیق ہے۔ یہ ناول ...

Search This Blog