Free books "A room without books is like a body without soul."
ترجمہ و تالیف: حافظ اسد الرحمٰن
تلخیص و تدوین: محمود عالم صدیقی
بحیرہ روم پر صدیوں تک رومیوں کا قبضہ تھا
بحیرہ روم پر صدیوں سے بازنطینی سلطنت کا قبضہ تھا۔ اپنے اندرونی خلفشار کے سبب سلطنتِ روما کی ہیبت پہلے جیسے نہ تھی، لیکن اس کی بحری فوج اب بھی انتہائی مضبوط تھی جو سلطنت کے برقرار رہنے کا واحد سبب بن گئی، اور تجارتی لحاظ سے اقوام عالم پر رومیوں کو فوقیت حاصل تھی۔ صلیبی جنگوں کا پس منظر دہرانے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یورپ سے صلیب پرستوں کا بذریعہ سمندر مشرق میں قدم رکھنا اور نوّے سال تک ارضِ مقدس پر قابض رہنا اس امر کا متقاضی تھا کہ ان کی صدیوں کی سمندری طاقت پر کاری ضرب لگائی جائے۔ کیونکہ پورا بحیرہ عیسائیوں کی ہیبت سے کانپتا تھا۔ یہاں پر نہ تو صلیب پرستوں کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ پَر مار سکتا تھا اور نہ ہی کوئی جہاز گزر سکتا تھا۔ اگر کوئی آوارہ جہاز عیسائیوں کے ہاتھ آجاتا تو اُسے یا تو جلادیا جاتا، یا غرق کردیا جاتا۔ رہے مسافر، تو انہیں انتہائی بے دردی سے قتل کردیا جاتا۔
امت میں بے شمار فتنے پیدا ہوتے رہے ہیں ،جن میں معتزلہ ،خوارج،باطنیہ ،بہائیہ،بابیہ وغیرہ نے امت کو بے حد نقصان پہنچایا ہے ۔فی زمانہ جناب جاوید احمد غامدی کے نظریات بھی فتنہ بنتے جار ہے ہیں ۔انہوں نے بے شمار مسائل میں امت کے متفقہ اور اجماعی مسائل سے انحراف کی راہ اختیار کی ہے ۔زیر نظر کتاب میں جناب رفیق چودھری صاحب نے غامدی صاحب کے نظریات کی علمی تردید کی ہے اور ان کے منحرف افکار کا تعارف کرایا ہے ۔ان کے یہ قول غامدیت،پورے دین اسلام کو بگاڑنے اور اس میں فساد برپا کرنے کا دوسرا نام ہے اور اسلام کے متوازی ایک نیا مذہب ہے ،ممکن ہے اس میں مبالغہ محسوس ہو لیکن اگر دیکھا جائے کہ غامدی صاحب کے نزدیک رجم کی سزا ثابت نہیں:دوپٹہ اور داڑھی دین کا حصہ نہیں ،موسیقی اور مصوری جائز ہیں اور اسی طرح کے دیگر نظریات تو بہت حد تک یہ رائے واضح نظر آتی ہے ۔غامدی صاحب کے افکار سے آگاہی کے لیے اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید رہے گا کہ اس کے مصنف غامدی صاحب کو ذاتی طور پر ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں اور ان کے ذہنی وفکری ارتقاء سے پوری طرح باخبر ہیں نیز اسلامی حمیت وغیرت بھی رکھتے ہیں ،جس کا ایک عمدہ نمونہ یہ کتاب ہے ۔دعا ہے کہ خداوند عالم مسلمانوں کو اس قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے اور دین پر صحیح معنوں میں عمل پیرا ہونے کی توفیق فرمائے ۔
اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد بھی کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ پیغمبر صحرا ﷺ ‘‘ کے ایل گابا کی سیرت النبی ﷺ پر انگریزی تصنیف کا اردوترجمہ ہے اس کتاب میں مصنف نے نبی کریم ﷺ کے تمام اہم حالات وخصائص اس انداز سے بیان کیے ہیں کہ قاری ہزاروں سال پہلے کےعربستان میں اس لق ودق صحرا اور اس کی بدویانہ زندگی میں محمدﷺ کو چلتا پھرتا، جیتا جاگتا، اسلامی انقلاب کے لیے جدوجہدکرتے ہوئے خود محسوس کرے ۔
قادیانیت کے ناسور کی چیر پھاڑ اور عامتہ االمسلمین کو اس کے خطرات سے آگاہ رکھنا ہمارے دور کی ایک اہم ضرورت کی حثیت رکھتے ہیں تا کہ اس دام شیطانی زمین کی گرہیں کھولی اور اس کے پیچ و خم کے بخیے ادھیڑے جا سکیں اس لحاظ سے وہ افراد اور ادارے لائق تبریک ہیں جو اس دینی فریضہ کی انجام دہی کے لئے کوشاں ہیں اور قادیانیت کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جہد کناں ہیں۔
مجلس طلباء اسلام پاکستان بھی ان تنظیموں میں سے ایک ہے جو اس مقصد کے لیے سر بکف ہے بے شک یہ بنیادی طور پر طلباء کی ایک جماعت ہے لیکن ناموس رسول عربی کا تحفظ مسلمانوں کا بچہ بچہ اپنا پہلا فرض گردانتا ہے اس لیے ہمیں اس تنظیم کی طرف سے مرزائیل نامی کتاب کی اشاعت پر کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے۔
اس کتاب کے ناثر ایک مقامی کالج کے نوجوان اور پرجوش طالب علم شیخ پرویز احمد ہیں۔ وہ اس تاریخی قصبہ چنیوٹ کے رہنے والے ہیں جہاں دریائے چناب کے ایک جانب تحفظ ختم ںبوت کے نام لیواؤں کی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں اور دوسری طرف ظلی وبردزی نبی کی ہاہاکار مچتی ہے۔
اس کتاب میں قادیانیت کا مکمل اور جامع پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اس کتاب میں انہوں نے وہ تمام مضامین یکجا کر دیے ہیں جو 1967 کے دوران ہفت روزہ چٹان میں آغا شورش کاشمیری کے قلم سے نکلتے رہے بھر اس میں آغا صاحب کی معرکتہ الآرا تقریر بھی شامل ہیں جو انہوں نے چنیوٹ کے ایک عام اجتماع میں کی تھی۔ اور جس میں قادیانیت کے مکروہ خدوخال کی بہ کمال و تمام نقاب کشائی کی گئی تھی۔اس تقریر میں اسلامیان پاکستان کو واشگاف الفاظ میں آگاہ کیا گیا تھا کہ قادیانی پاکستان میں ایک نئے اسرائیل کی بنیادیں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آغا صاحب نے سر ظفر اللہ خان کے ناپاک عزائم سے بھی ملت اسلامیہ کو خبردار کیا تھا۔
مختلف دوسرے مضامین کے ساتھ اس تقریر کے اضافہ نے اس تصنیف کی افادیت کو اور بڑھا دیا ہے۔ اس میں مشمولہ مضامین کی اثر آفرینی کا اندازہ اسی ایک امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ چٹان میں ان کی اشاعت پر مرزائی حلقے بوکھلا اٹھے اور اپنے مخصوص ہتھکنڈوں کو بروئےکار لاکر چٹان پر سنسر شپ نافذ کروانے میں کامیاب ہو گئے لیکن۔۔۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اےمیرے آقاﷺ جس دین کے کیلئے آپ نے بے بہا مشقتیں اٹھائیں۔۔۔۔جس دین کیلئے آپ نے اتنی تکلیفیں برداشت کیں۔۔۔۔جس دین کیلئے آپ نے اتنے مصائب جھیلے۔۔۔۔جس دین کیلئے آپ نے اتنے غم سہے۔۔۔۔۔ جس دین کیلئے آپ نے اتنی قربانیاں دی۔۔۔۔!!!!
آج وہ دین لٹ رھا ھے۔۔۔۔ وہ دین برہنہ سر ہوچکا ہے ۔۔۔۔اس دین کا لباس تار تار ہے۔۔۔۔۔ اس دین کی دستار خاک آلود ھے۔۔۔۔ اس دین کا جسم زخموں سے چور چور ہے۔۔۔۔اور اس دین کی روح لہو لہو ہے۔۔
اے میرے آقاﷺ آپ کی جگہ مرزا قادیانی محمد رسول اللہ بن چکا ہے۔ خدیجہ و عائشہ کی جگہ مرزا قادیانی کی بیوی نصرت جہاں عرف نصوامالمومنین بن چکی ہے۔ آپ کی لاڈلی بیٹی فاطمہ الزہرا کی جگہ مرزا قادیانی کی بیٹی سیدۃالنساء بن چکی ہے۔۔۔
سیدنا ابو بکرصدیق کی جگہ حکیم نورالدینِ، سیدنا عمر فاروق کی جگہ مرزا بشیرالدین، سیدنا عثمان غنی کی جگہ مرزا ناصر اور سیدنا علی المرتضی کی جگہ مرزا طاہر قابض ہو چکے ہیں ۔۔۔مرزا قادیانی کی بے سروپا و بے ہودہ گفتگو کو احادیث کہا جا رہا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی جگہ قادیان اور ربوہ لائے جا چکے ہیں۔۔ مرزا قادیانی کے ساتھیوں کو صحابہ کہا جا رہا ھے۔ تین سو تیرہ صحابہ کی جگہ مرزا قادیانی کے چیلوں کو لایا جا چکا ہے۔
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑھا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغرباء ہے
جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصرو کسریٰ
خود آج وہ مہمان سرائے فقراء ہے
وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں
اب اس کی مجالس میں نہ بتی ہے نہ دیا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے
” | مجھے ایسے کسی آدمی کا علم نہیں ، جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اس لڑکے سے زیادہ نقش ہو | “ |
"دیوتا" "دیوتا" اردو ادب کی تاریخ کا سب سے طویل اور مشہور سلسلہ وار ناول ہے، جو محی الدین نواب کی تخلیق ہے۔ یہ ناول ...