KitabGhar.Blog: Historical

Free books "A room without books is like a body without soul."

Showing posts with label Historical. Show all posts
Showing posts with label Historical. Show all posts

Thursday, October 29, 2020

ابلیکا

October 29, 2020 0

 #ابلیکا

ابلیکا۔۔۔۔۔ ایک مکمل تاریخ اور گرم نعروں کے زور و جوش سے بھرپور ایک داستان بھی ہے۔ ابلیکا اپنی ذات میں دنیا کی تاریخ کاایک مکمل انسائیکلوپیڈیا اور مردہ پھولوں کے اندر سے نکالی ہوئی ایک حسین اور جذب وکشش رکھنے والی ایک عمدہ اور طویل کہانی بھی ہے جس کے کردار حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر موجودہ دور تک یلغار کرتے ہیں اس لحاظ سے یہ ایک دنیا کی مکمل تاریخ بھی ہے۔

Sunday, September 6, 2020

قراقرم کا تاج محل

September 06, 2020 0

 راکا پوشی کی چوٹی ہنزہ جانے والوں سیاحوں کو ہمیشہ آگرہ کے تاج محل کی سی سفید اور حسین لگتی ہے۔ اسے بہت سے لوگ "قراقرم کا تاج محل" کہتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک پربتوں کی یہ دیوی  جس کی صدیوں پرانی باسی برف میں بہت سی داستانیں دفن ہیں۔ شاہ جہان کے تاج محل سے زیادہ خوبصورت اور پر فسوں ہے۔ 

، قراقرم کا تاج محل بھی ایسی ہی ایک داستان ہے۔ رشتوں، محبتوں خوابوں اور پہاڑوں کی داستان۔۔۔۔ اس میں ذکر ہے۔۔۔ بہت سے کرداروں۔۔۔ بہت سی محبتوں۔۔۔۔ اور بہت سی وادیوں کا۔ اشوکے دریا کنارے گیت گاتی اداس چڑیا اور سوات کی بارشوں کا۔۔۔ وائٹ پیلس کی سیڑھیوں کے ساتھ نصب پنجرے میں مقید موروں کے اس جوڑے کا ۔۔۔۔جو اک ترک سیاح کی راہ تکتا تھا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پہ اترے بادلوں اور راکا پوشی کے قدموں میں جمتے پگھلتے برفانی نالے کا۔۔۔ یہ ھمالیہ کے عظیم پربتوں اور برف کے سمندروں کی کہانی ہے۔۔۔۔یہ اس کوہ پیما کی کہانی ہے جو دنیا کا سب سے حسین پہاڑ سر کرنے آیا تھا۔۔ یہ اس پری کی کہانی ہے جس نے عشق میں برف کا صحرا پار کیا تھا۔۔۔ اور یہ ان دوستوں کی کہانی ہے جو چوٹیوں سے لوٹ کر نہیں آتے

قراقرم کا تاج محل میرے تحریری سفر کی سب سے یادگار تخلیق ہے۔ اسے میں نے تو مازہومر کے ریسکیو آپریشن سے متاثر ہو کر لکھا تھا۔ میں اپنی اس تحریر کو ان تمام کوہ پیماؤں کے نام کرتی ہوں جو پہاڑوں میں کھو جاتے ہیں۔۔

نمرہ احمد


Wednesday, June 24, 2020

پارلیمنٹ میں قادیانی مقدمہ

June 24, 2020 0
مولانا مفتی محمود کے نام جنھوں نے قومی اسمبلی میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل ختم نبوت پاکستان کا مرتب کردہ "ملت اسلامیہ کا موقف" پیش کیا۔
مولانا عبدالحق، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا مصطفٰی الازہری، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا عبدالحکیم، پروفیسر عبدالغفور احمد اور ان کے دیگر رفقاء گرامی کے نام جنھوں نے اسلام کا پرچم سر بلند کر کے قادیانیت کو سرنگوں کر دیا۔

Wednesday, June 17, 2020

قائد ‏اعظم ‏کیا ‏تھے ‏کیا ‏نہیں ‏تھے

June 17, 2020 0
تاریخ میں شخصیتوں کا کردار اہم ہوتا ہے ایسی شخصیتیں جو تاریخ میں تبدیلی لے کر آئیں اور اس کے رخ کو موڑ دیے ہر معاشرہ میں پیدا ہوتی ہیں مگر شخصیتیں اپنا کردار ادا کر کے تاریخ کا حصہ ہو جاتی ہیں اس لئے وہ معاشرے جن میں نئے خیالات وافکار پیدا ہوتے رہتے ہیں اور جو برابر آگے کی جانب بڑھتے ہیں ان میں شخصیت پرستی کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ وہ اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی اداروں اور روایات کو اس قدر مستحکم کر لیتے ہیں کہ وہ ان کی رہنمائی کرتے ہیں ایسے معاشرے میں شخصیت کا کردار کم سے کم ہو جاتا ہے اگر اہم اور با اثر شخصیتیں پیدا ہوتی ہیں تو وہ اپنا کردار ادا کر کے خاموش ہو جاتی ہیں نئے رہنما آ تے رہتے ہیں اور معاشرہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔
اس کے برعکس پس ماندہ معاشرہ میں تخلیقی ذہن اور با اثر شخصیتیں کم پیدا ہوتی ہیں۔ اس لیے وہ کسی شخصیت کے سحر میں ایسے مبتلا ہوتے ہیں کہ اس کے خیالات وافکار اور اس کے کردار کو لافانی بنا دیتے ہیں اور ایسا ماحول پیدا کر دیتے ہیں کہ جس میں اس کے خیالات اور شخصیت کے مقابلہ میں کبھی  کوئی بھی شخصیت نہ ابھر سکے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ معاشرہ چاہے جس قدر پس ماندہ ہو وہ ایک جگہ ٹھہرا ہوا نہیں رہتا ہے ہر آنے والی نسل اپنے عزائم اور منصوبوں کو لے کر آتی ہے اس صورت میں جب نئی شخصیت کی جگہ نہ ہو اور معاشرہ بھی اس قدر پس ماندہ ہو کہ وہ تخلیقی اور مثالی کردار کے افراد کو پیدا نہ کر سکے تو اس صورت میں ایک ہی شخصیت کو ہر آنے والی نسل اپنے خاکہ میں ڈھالتی رہتی ہے اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ تاریخی اور حقیقی شخصیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ شخصیت جماعتوں اور فرقوں کے مفادات میں اپنا روپ بدلتی رہتی ہے۔ 
ایک اور صورت یہ ہوتی ہے کہ شخصیت کے جانے کے بعد حالات کے تحت معاشرے کی مختلف جماعتیں اور گروہ اس کو اپنے مفاد میں استعمال کرتے ہیں اور اس سے منسوب ایسے خیالات کر دیتے ہیں کہ جن سے اس کا کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اس طرح ایک شخصیت کے مختلف روپ ابھرتے ہیں اور یوں اس کی تاریخی  اور حقیقی شخصیت ختم ہو جاتی ہے۔ 
پاکستان میں قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا ہے کہ مختلف جماعتوں گرہوں اور افراد نے اپنے مفادات کے تحت ان کی شخصیت اور خیالات کو بدل دیا ہے۔ 
مزید اس تمام صورتحال کا اس کتاب میں بھرپور انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

Wednesday, May 27, 2020

غدار

May 27, 2020 0
ہماری تاریخ غداریوں اور غداروں کے ابواب سے بھری پڑی ہے۔ پہلے بڑے غدار کے طور پر میرے ذہن میں عباسی خلیفہ مستنصر باللہ کا وہ ” باتدبیر اور معتمد وزیر “ اُبھر رہا ہے جس نے چنگیز خان کے دربارمیں ایک سفارتی وفد اس انتباہی پیغام کےساتھ بھیجا تھا کہ اگر منگول شہنشاہ نے خوارزم کی اسلامی سلطنت پر یلغار کی تو بغداد سلطان خوارزم علاو الدین کا ساتھ پوری قوت سے دےگا۔ مگراس سفارتی وفد میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جس نے بڑے بڑے بال رکھے ہوئے تھے جو اُس نے منگول دارالحکومت میں پہنچ کر منڈوا لئے۔ سفارتی وفد میں اور کوئی شخص نہیں جانتا تھا کہ اس شخص کی کھوپڑی پر ایک خفیہ پیغام کندہ تھا جس میں منگول خاقان کو یقین دلایاگیا تھا کہ منگولوں اور خوارزمیوں کی جنگ کی صورت میں بغداد مکمل طور پر غیر جانبدار رہے گا۔غداری کی اسی داستان کو نسیم حجازی مرحوم نے اپنے مشہور ناول آخری چٹان کا موضوع بنایا تھا۔عباسیوں سے غیرجانبداری کی یقین دہانی حاصل کرنے کے فوراً بعد چنگیز خان وسطی ایشیا پر ٹوٹ پڑا اور اسلامی تہذیب کے مراکز بلخ بخارا مرو تاشقند اور قوقند نے جو تباہی دیکھی اس کی نظیر نہیں ملتی
چند برس بعد عباسی دربار سے ہی ایک اور بڑی غداری نے جنم لیا۔ آخری عباسی خلیفہ النصر کے وزیراعظم ابن علقمی نے خفیہ طورپر چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان سے یہ سمجھوتہ کیا کہ بغداد کے دروازے تاتاریوں پر کھول دیئے جائینگے جس کے عوض ہلاکو خان مسندِ خلافت ابن علقمی کے سپرد کردےگا۔ ابن علقمی نے جو کہا کر دکھایا لیکن اسکے مقدر میں نہایت عبرتناک انجام لکھاہوا تھا۔ اُسے اذیتیں دے کر موت کے گھاٹ اتارتے وقت ہلاکوخان نے کہا۔

 ” جو شخص اپنی قوم کا نہ بن سکا وہ میرے ساتھ وفاداری کیسے نبھائے گا۔؟“ کم و پیش ایسے ہی عبرتناک انجام کا سامنا غرناطہ کے آخری حکمران ابو عبداللہ نے کیا جس نے اس امید پر الحمرا کی چابیاں فرڈی نینڈ کے سپرد کی تھیں کہ قسطلہ کا حاکم انعام میں اسے غرناطہ کی بادشاہی بخش دےگا۔ غداروں اور غداریوں کی یہ طویل داستان تاریخ کی شاہراہ پر سفر کرتے کرتے برصغیر میں بھی پہنچی۔ اور اس ضرب المثل سے کون نا آشنا ہوگا کہ...


Tuesday, May 26, 2020

اگر مجھے قتل کیا گیا

May 26, 2020 0
یہ ذوالفقار علی بھٹو کی وہ کتاب ہے جو سپریم کورٹ میں ان کی طرف سے دائر کردہ فوجداری اپیل کے مواد سے ترجمہ کر کے چھاپی گئی ہے۔ آج کے دن 4اپریل 1979 کو راولپنڈی میں انہیں پھانسی دی گئی، ان پر نواب محمد احمد خاں قصوری کو قتل کروانے کا الزام تھا۔
قصہ یوں ہے کہ 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات لگا کر ایک ہیجان برپا کیا گیا، جب یہ تنازعہ حل ہو گیا اور آخری معاہدہ لکھا جانا باقی رہ گیا تو 5 جولائی 1977ء کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا ء نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
جب ان کی اپیل زیر ِ سماعت تھی تو جنرل ضیاء کی حکومت نے سپریم کورٹ میں ان کی اپیل کی سماعت کو متاثر کرنے کیلئے اور ان کی کردار کشی کیلئے سرکاری سطح پر بھٹو کی معذول کی گئی حکومت کے خلاف وائٹ پیپرز شائع کر دیے

DOWNLOAD



سیاست کے فرعون

May 26, 2020 0
کتاب سیاست کے فرعون مصنف وکیل انجم.
پنجاب کے پرانے خاندانوں میں کھرل ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اس خاندان نے صوبے میں انگریزوں کے عروج سے پہلے ہر تاریخی ہنگامے میں اہم کردار ادا کیا ہے خاص طور پر سکھوں کے ابتدائی ایام میں کھرل کافی عرصے تک اپنی طاقت اور شہ زوری کے بل بوتے پر ناقابل حل معمہ بنے رہے .
پنجاب کے اس صحت مند اور توانا خاندان کو جاگیرداروں کے زمرے میں شامل کرتے وقت یہ وضاحت ضروری ہے کہ کھرلوں کو بحیثیت ایک خاندان جاگیردار نہیں کہا جا سکتا کیونکہ خاندان کی مختلف شاخوں میں کئی کنبے اور افراد ایسے بھی ہیں جو زمینوں کی تقسیم در تقسیم کی وجہ سے اب کسانوں کی معمولی زندگی گزار رہے ہیں لیکن اس خاندان میں اب بھی بڑے بڑے جاگیردار موجود ہیں.

ؓ سیرت سیدہ عائشہ صدیقہ

May 26, 2020 0
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ، حضرت ابوبکر صدیق ﷜ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب تھا۔ ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور ﷺ نے سن 11 نبوی میں سیدہ عائشہ ؓ سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ آپ حضور ﷺ کی سب سے کم عمر زوجہ مطہرہ تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نو برس گذارے۔ ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاوہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور کی زوجہ محترمہ اور ”ام الموٴمنین“ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے

Wednesday, May 13, 2020

خاک ‏اور ‏خون

May 13, 2020 0
خاک اور خون نسیم حجازی کا ایک تاریخی ناول 1947 میں تقسیم ہند کے دوران میں برصغیر کے مسلمانوں کی قربانیوں کو بیان کرتا ہے۔ نسیم حجازی نے اس ناول میں مسلمانان ھند کے درد و کرب کو بیان کیا ہے اس ناول میں ان واقعات کوحقیقی شکل دی گئی ہیں جواس وقت پنجاب کے ساتھ ساتھ دیگرریاستوں میں پیش آئے۔

نمل

May 13, 2020 0

نمرہ احمد پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ انگریزی یا جاسوسی ناولز سے آئیڈیاز لے کر ناول لکھتی ہیں۔ لکھتی ہوں گی ان کا ایمان ان کے ساتھ لیکن جس طرح وہ اپنے ناولز میں قرآن کے حوالے شامل کرتی ہیں، اور قارئین کو قرآنی احکامات کی طرف راغب کرتی ہیں اس طرح کسی انگریزی یا جاسوسی ناول میں نہیں ہوتا۔ نمرہ احمد کے ناولز میں مجھے یہی چیز سب سے زیادہ پسند ہے کہ وہ قاری کو اس کے دین اور اللہ کے قریب لاتی ہیں۔

اس ناول میں بھی انہوں نے ہیروئن نمبر تین یا چار کو جس طرح نماز کی طرف رغبت دلائی ہے، بتایا ہے کہ ہر ایک کی 'خمر' یا 'چرس' الگ الگ ہوتی ہے، اور ہر وہ چیز جو آپ کو اپنا عادی کرلے، کسی اور طرف دھیان نہ دینے دے وہ خمر ہی ہوتی ہے اور خمر ہی کی طرح ہر نشہ آور شے حرام ہوتی ہے چاہے وہ کسی سے ان باکس میں بظاہر بے ضرر چیٹ کرنے کا نشہ ہی کیوں نہ ہو۔ جس طرح نمرہ احمد نے اسے نامحرم کے ساتھ ان باکس، ان باکس کھیلنے سے منع کیا ہےاس آئینے میں بہت سے لوگوں کو اپنا چہرہ اور کردار نظر آئے گا اور بہت سی لڑکیوں کو یہ ناول اس بظاہر بے ضرر لیکن تباہ کن راستے پر مزید چلنے سے روک دے گا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ اس "خمر" سے کس طرح اپنا پیچھا چھڑانا ہے۔

سکندر ‏اعظم

May 13, 2020 0
سکندر 350 سے 10 جون 323 قبل مسیح تک مقدونیہ کا حکمران رہا۔ اس نے ارسطو جیسے استاد کی صحبت پائی۔ کم عمری ہی میں یونان کی شہری ریاستوں کے ساتھ مصر اور فارس تک فتح کر لیا۔ کئی اور سلطنتیں بھی اس نے فتح کیں جس کے بعد اس کی حکمرانی یونان سے لے کر ہندوستان کی سرحدوں تک پھیل گئی۔صرف بائیس سال کی عمر میں وہ دنیا فتح کرنے کے نکلاتھا۔ یہ اس کے باپ کا خواب تھا اور وہ اس کے لیے تیار ی بھی مکمل کر چکا تھا لیکن اس کے دشمنوں نے اسے قتل کرا دیا۔ اب یہ ذمہ داری سکندر پر عاٰئد ہوتی تھی کہ وہ اپنے باپمشن کو کسی طرح پورا کرے۔اس  کے باپ کی موت کے وقت سکندر کی عمر بیس سال تھی۔ لیکن وہ اس لحاظ سے خوش قسمت تھا کہ کسی مشکل کے بغیر ہی اسے مقدونیہ کی حکمرانی مل گئی تھی۔ ورنہ اس زمانے کا قاعدہ تو یہی تھا کہ بادشاہ کا انتقال ہوتے ہی تخت کے حصول کے لیے لڑائیاں شروع ہو جاتیں اور اس لڑائی میں ہر وہ شخص حصہ لیتا جس کے پاس تخت تک پہنچنے کا ذرا سا بھی موقع ہوتا۔ سکندر ایک تو اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، دوسرا اس وقت مقدونیہ کی حکمرانی کا کوئی اور خاص دعوے دار نہیں تھا۔ لیکن احتیاط کے طور پر سکندر نے ایسے تمام افراد کو قتل کرا دیا جو کسی بھی طرح اسے نقصان پہنچا سکتے تھے۔یہاں تک کہ اپنی ماں کے اکسانے پر اس نے اپنی دودھ پیتی سوتیلی بہن کو بھی قتل کر دیا۔ 

DOWNLOAD

راز ‏حیات

May 13, 2020 0
راز حیات
از خواجہ کمال الدین العییری 
جب خلافت عثمانیہ ختم ہو رہی تھی اور برصغیر میں بھی مسلمانوں کے
 حالات خراب تھے ان حالات میں خواجہ کمال الدین صاحب کی ایک بہترین کاوش. جس کو پڑھنے کے بعد آپ کی عملی زندگی میں ایک مکمل تبدیلی آسکتی ھے ایک پر اثر تحریر. میرا خیال ھے کہ یہ آپ کو لازمی پڑھنی 
چاھعیے۔
لھا ما کسبت و علیھا مااکتسبت
 اللہ تعالیٰ نے انسان کی سرشت (جبلّت) میں ایک ایسی صفت منسوب کر دی ہے، و اسے کارگاہِ حیات میں رواں دواں رکھتی ہے اور یہ صفت ’’حرکت‘‘ ہے۔ انسان کی اس خوبی نے نہ صرف اسے کرۂِ ارض میں زندہ رہنے کے لیے حوصلہ و اعتماد سے نوازا، بلکہ ایک ایسا بلند مقام عطا کیا کہ وہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک ترقی کی منازل طے کرتا رہا ہے اور آج بھی اس راہ پر گامزن ہے۔ 
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں 
ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں کہ ’’حرکت میں برکت ہے‘‘ اللہ تعالیٰ نے بھی زمین ، سورج ، چاند اور ستاروں کو گرد ش میں رکھا ہے اور سورج تو اپنے ٹھکانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کمیت اور جسامت کے لحاظ سے انتہائی مختصر ذرات (پروٹون، نیوٹرون وغیرہ) پیدا کئے جو ہمیشہ گردش میں رہتے ہیں اور جن کو دریافت و تسخیر کر کے انسان نے ایٹمی توانائی حاصل کی اورترقی کے نئے در وا کئے۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’کامیاب ہو گیا وہ شخص جس کا آج اس کے گزشتہ کل سے بہتر ہے‘‘ اس میں بھی ہمیں نہ ختم ہونے والی جدوجہد اور مستقل مزاجی سے بلند عزائم اور ارادوں کے حصول کا سبق ملتا ہے۔ 
اپنے پیغام کو دو ایسے اشعار پر ختم کرتا ہوں جو کہ عنوان کی مناسبت سے ہمیں سرتوڑ کوشش اور لگن سے آشنا کرتے ہیں۔ 
رازِ حیات پوچھ لے خضرؑ خجستہ گام سے 
زندہ ہر ایک چیز ہے کوششِ ناتمام سے 
(اقبالؒ)
ؔآتی ہے مجھے غیب سے آواز مسلسل 
ہے عرش بھی نیچا جو ہو پرواز مسلسل

Download

عے.. 

Monday, May 11, 2020

شمشیر ‏بے ‏نیام

May 11, 2020 0
شمشیرِ بے نیام، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ 
( قسط نمبر -1 )

وہ مسافر عرب کے صحرا میں اکیلا چلا جا رہا تھا۸ ہجری کے زمانے میں عرب کا وہ علاقہ جہاں مکہ اور مدینہ واقع ہےبڑا ہی خوفناک صحرا ہو اکرتا تھا۔ جلتا اور انسانوں کو جھلساتا ہوا ریگزار۔ ایک تو صحرا کی اپنی صعوبتیں تھیں دوسرا خطرہ رہزنوں کا تھا۔مسافر قافلوں کی صورت سفر کیا کرتے تھے لیکن یہ مسافر اکیلا چلا جا رہا تھا۔ وہ اعلیٰ نسل کے جنگی گھوڑے پر

DOWNLOAD

Sunday, May 10, 2020

حاضر ‏غائب

May 10, 2020 0
تصنیف: اظہر کلیم
حاضر غائب ایک ایسے انسان کی داستان جو حاضر غائب ہونے کا فارمولا ایجاد کرلیتا ہے مگر کچھ کمی کے سبب اپنی مرضی سے نہیں ہوسکتا، تو ہر جگہ
  جہاں حاضر ہونا مقصود ہو وہاں غائب ہوجاتا ہے اورجہاں غائب ہونا چاہتا ہو وہاں حاضر.
براہ مہربانی اس کتاب کو آفس یا پبلک پلیس میں نہ پڑھیں ورنہ لوگ آپکی ذہنی حالت کے بارے میں مشکوک ہوجاینگے.
  ہنسی میں دوہرا ہونے کا تجربہ 
کرنا ہو تو ابھی پڑھیں.

Saturday, May 2, 2020

اور ‏بغداد ‏جلتا ‏رھا

May 02, 2020 0
تیرھویں صدی عیسوی منگولوں کے ظلم ستم کی صدی ہے جو چنگیز خان سے شروع ہو کر اس کے پوتا ہلاکوں خاں پر ختم ہوتی ہیں  چنگیز خان جو کہ ہاتھ میں خون کا لوتھڑا لے کر پیدا ہوا تھاجب دنیا میں آیا تو اپنے 

ساتھ زندہ رہنے کی جبلت لے کر آیا۔ 
اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے نیچے دیے گے لنک پر کلک کریں۔
DOWNLOAD

Wednesday, April 29, 2020

علاؤالدین ‏شاہ ‏خوارزم

April 29, 2020 0
  علاؤالدین شاہ خوارزم
اس کتاب کو ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے نیچے دیے گے لنک پر کلک کریں
علاؤالدین شاہ خوارزم

Tuesday, April 21, 2020

PORAS KAY HATHI

April 21, 2020 0

YOUSIF BIN TASHFEIN

April 21, 2020 0

سفید ‏جزیرہ ‏ ‏ ‏ ‏ ‏ ‏ ‏ ‏

April 21, 2020 0
سفید جزیرہ ایک اچھی کتاب ھے۔ اور اس کو پڑھ کر ایسا لگتا ھے جیسے کہ یہ موحودہ حالات پر ہی لکھی گئی ھے 
اس کو ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے نیچے دئے گے لنک پر کلک کریں۔

Monday, April 20, 2020

دولت عثمانیہ

April 20, 2020 0
برطانوی مورخ کیرولین فنکل نے اپنی کتاب ’عثمان کا خواب‘ میں لکھا ہے کہ ایک رات عثمان ایک بزرگ شیخ ادیبالی کے گھر میں سو رہے تھے کہ انھوں نے ایک خواب دیکھا کہ ان کے سینے سے ایک درخت اگ کر ساری دنیا پر سایہ ڈال رہا ہے۔ انھوں نے جب شیخ کو خواب سنایا تو انھوں نے کہا: ’'عثمان، میرے بیٹے، مبارک ہو، خدا نے شاہی تخت تمھارے اور تمھاری اس خواب نے عثمان غازی کے لیے مہمیز کا کام کیا کیوں کہ وہ سمجھنے لگے کہ اب انھیں خداوندی تائید حاصل ہو گئی ہے۔ اس کے بعد انھوں نے آس پاس کی سلجوق اور ترکمان ریاستوں، اور بالآخر بازنطینیوں کو پے در پے شکستیں دے کر اناطولیہ کے بڑے حصے پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔
یہی خواب بعد میں چھ صدیوں تک راج کرنے والی سلطنتِ عثمانیہ کا بنیادی جواز اور اسطورہ بن گیا جس کے سائے میں انھوں نے نہ صرف اناطولیہ بلکہ تین براعظموں کے بڑے حصوں پر صدیوں تک حکومت کی۔
عثمان کے جانشینوں نے جلد ہی اپنی نظریں یورپ پر جما دیں۔ 1326 میں انھوں نے یونان کا دوسرا بڑا شہر تھیسالونیکی فتح کر لیا، جب کہ 1389 میں وہ سربیا پر قابض ہو گئے۔ لیکن ان کی تاریخ ساز کامیابی 1453 میں بازنطینی دارالحکومت قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی فتح تھی۔
مسلمان پچھلے سات سو برسوں سے اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوششیں کرتے چلے آئے تھے لیکن اس کا جغرافیہ کچھ ایسا تھا کہ وہ ہر بار ناکام رہے۔
قسطنطنیہ کو تین طرف سے بحیرۂ باسفورس نے گھیرے میں لیا ہوا ہے جو اس کے لیے شہر پناہ کا کام کرتا ہے۔ بازنطینیوں نے گولڈن ہورن کو زنجیریں لگا کر بند کر رکھا تھا جب کہ دوسری جانب ان کے 28 جنگی جہاز پہرے پر مامور تھے۔
22 اپریل 1453 کو عثمانی سلطان محمد فاتح نے ایک ایسی چال چلی جو کسی کے سان و گمان میں بھی نہ تھی۔ انھوں نے خشکی پر تختوں کی شاہراہ تیار کی اور اس پر تیل اور گھی ڈال کر اسے خوب پھسلواں بنا دیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے 80 بحری جہاز اس راستے پر مویشیوں کی مدد سے گھسیٹ کر دوسری طرف پہنچا دیے اور شہر کے حیرت زدہ محافظوں پر آسانی سے قابو پا لیا۔
محمد فاتح نے اپنا دارالحکومت قسطنطنیہ منتقل کر کے اپنے لیے قیصرِ روم کا خطاب اختیار کیا۔اولاد کے حوالے کر دیا ہے۔‘


To Download click below.............
DOLIT-E-OSMANIA
PART-2 DOWNLOAD 
PART-1 DOWNLOAD




DEVTA-PART 2

    "دیوتا" "دیوتا" اردو ادب کی تاریخ کا سب سے طویل اور مشہور سلسلہ وار ناول ہے، جو محی الدین نواب کی تخلیق ہے۔ یہ ناول ...

Search This Blog