Free books "A room without books is like a body without soul."
راکا پوشی کی چوٹی ہنزہ جانے والوں سیاحوں کو ہمیشہ آگرہ کے تاج محل کی سی سفید اور حسین لگتی ہے۔ اسے بہت سے لوگ "قراقرم کا تاج محل" کہتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک پربتوں کی یہ دیوی جس کی صدیوں پرانی باسی برف میں بہت سی داستانیں دفن ہیں۔ شاہ جہان کے تاج محل سے زیادہ خوبصورت اور پر فسوں ہے۔
، قراقرم کا تاج محل بھی ایسی ہی ایک داستان ہے۔ رشتوں، محبتوں خوابوں اور پہاڑوں کی داستان۔۔۔۔ اس میں ذکر ہے۔۔۔ بہت سے کرداروں۔۔۔ بہت سی محبتوں۔۔۔۔ اور بہت سی وادیوں کا۔ اشوکے دریا کنارے گیت گاتی اداس چڑیا اور سوات کی بارشوں کا۔۔۔ وائٹ پیلس کی سیڑھیوں کے ساتھ نصب پنجرے میں مقید موروں کے اس جوڑے کا ۔۔۔۔جو اک ترک سیاح کی راہ تکتا تھا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں پہ اترے بادلوں اور راکا پوشی کے قدموں میں جمتے پگھلتے برفانی نالے کا۔۔۔ یہ ھمالیہ کے عظیم پربتوں اور برف کے سمندروں کی کہانی ہے۔۔۔۔یہ اس کوہ پیما کی کہانی ہے جو دنیا کا سب سے حسین پہاڑ سر کرنے آیا تھا۔۔ یہ اس پری کی کہانی ہے جس نے عشق میں برف کا صحرا پار کیا تھا۔۔۔ اور یہ ان دوستوں کی کہانی ہے جو چوٹیوں سے لوٹ کر نہیں آتے
قراقرم کا تاج محل میرے تحریری سفر کی سب سے یادگار تخلیق ہے۔ اسے میں نے تو مازہومر کے ریسکیو آپریشن سے متاثر ہو کر لکھا تھا۔ میں اپنی اس تحریر کو ان تمام کوہ پیماؤں کے نام کرتی ہوں جو پہاڑوں میں کھو جاتے ہیں۔۔
نمرہ احمد
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ، حضرت ابوبکر صدیق کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب تھا۔ ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور ﷺ نے سن 11 نبوی میں سیدہ عائشہ ؓ سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ آپ حضور ﷺ کی سب سے کم عمر زوجہ مطہرہ تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نو برس گذارے۔ ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاوہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور کی زوجہ محترمہ اور ”ام الموٴمنین“ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے
"دیوتا" "دیوتا" اردو ادب کی تاریخ کا سب سے طویل اور مشہور سلسلہ وار ناول ہے، جو محی الدین نواب کی تخلیق ہے۔ یہ ناول ...