KitabGhar.Blog: Historic Books

Free books "A room without books is like a body without soul."

Showing posts with label Historic Books. Show all posts
Showing posts with label Historic Books. Show all posts

Sunday, August 25, 2024

خیرالدین باربروسہ

August 25, 2024 1

 

بحیرہ روم پر ایک ہزار سال تک قابض رہنے والوں کو شکستِ فاش دینے والا عظیم سپہ سالار

ترجمہ و تالیف: حافظ اسد الرحمٰن
تلخیص و تدوین: محمود عالم صدیقی

بحیرہ روم پر صدیوں تک رومیوں کا قبضہ تھا

بحیرہ روم پر صدیوں سے بازنطینی سلطنت کا قبضہ تھا۔ اپنے اندرونی خلفشار کے سبب سلطنتِ روما کی ہیبت پہلے جیسے نہ تھی، لیکن اس کی بحری فوج اب بھی انتہائی مضبوط تھی جو سلطنت کے برقرار رہنے کا واحد سبب بن گئی، اور تجارتی لحاظ سے اقوام عالم پر رومیوں کو فوقیت حاصل تھی۔ صلیبی جنگوں کا پس منظر دہرانے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یورپ سے صلیب پرستوں کا بذریعہ سمندر مشرق میں قدم رکھنا اور نوّے سال تک ارضِ مقدس پر قابض رہنا اس امر کا متقاضی تھا کہ ان کی صدیوں کی سمندری طاقت پر کاری ضرب لگائی جائے۔ کیونکہ پورا بحیرہ عیسائیوں کی ہیبت سے کانپتا تھا۔ یہاں پر نہ تو صلیب پرستوں کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ پَر مار سکتا تھا اور نہ ہی کوئی جہاز گزر سکتا تھا۔ اگر کوئی آوارہ جہاز عیسائیوں کے ہاتھ آجاتا تو اُسے یا تو جلادیا جاتا، یا غرق کردیا جاتا۔ رہے مسافر، تو انہیں انتہائی بے دردی سے قتل کردیا جاتا۔

Tuesday, April 25, 2023

مالا

April 25, 2023 0

 مشہور اردو رائٹر نمرہ احمد کا تازہ ترین ناول ہے۔ نمرہ احمد دورحاضر کی مشہور ترین ناولسٹ ہی


ں جنہیں نوجوانوں میں بہت پزیرائی ملی ہے۔ نمرہ احمد اپنے مخصوص اندازِبیاں سے جانی جاتی ہیں جسے لوگ بے حد پسند کرتے ہیں۔ انکے چاہنے والوں کی تعداد ہر ناول کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ نمرہ احمد کو نا صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پزیرائی حاصل ہے۔ جہاں جہاں اردو پڑھی اور سمجھی جاتی ہے نمرہ احمد کے چاہنے والے موجود ہوتے ہیں۔ مالا نمرہ احمد کا تازہ ترین ناول ہے جو کہ ابھی مکمل نہیں ہوا اور قسطوار شائع ہو رہا ہے

Sunday, August 29, 2021

ہمہ ‏یاراں ‏دوزخ

August 29, 2021 0
صدیق سالک فوجی لکھاریوں کے گروپ میں ایک ممتاز رکن ہیں۔ ان کے پاس اردو ادب کی دنیا میں شہرت کے ایک سے زیادہ حوالے ہیں۔ وہ اہم مزاح نگاروں میں سے ہیں اور جدید دور کے پڑھے لکھے ناول نگار ہیں۔ وہ صحافت کی ایک اہم شخصیت بھی ہیں انہوں نے محکمہ تعلیم ، وزارت اطلاعات و نشریات اور پاک فوج میں خدمات انجام دیں۔
"ہما یاران دوزخ" ان کی پہلی ادبی تخلیق ہے .یہ ایک جنگی قیدی کی سوانح ہے. اس افسوسناک اور تباہ کن کہانی کا ایک خوشگوار ، روانی اور اپیلنگ سٹائل ہے۔ ترتیب کا نقطہ یہ ہے کہ قاری اس کہانی میں اس حد تک شامل ہو جاتا ہے کہ وہ آنکھوں میں آنسو ، روح کے درد میں درد کے ساتھ پڑھتا ہے۔ مصنف نے اپنی پہلی کتاب کے ساتھ اردو ادب میں ایک مقام حاصل کیا ہے ، جسے بیشتر مصنفین آج تک حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

Thursday, April 22, 2021

علامہ ‏اقبال ‏اور ‏ایما

April 22, 2021 0

میں زیادہ لکھ یا کہہ نہیں سکتا، آپ تصور کر سکتی ہیں کہ میری روح میں کیا ہے۔ میری بہت بڑی خواہش ہے کہ میں دوبارہ آپ سے بات کر سکوں اور آپ کو دیکھ سکوں، لیکن میں نہیں جانتا کیا کروں۔ جو شخص آپ سے دوستی کر چکا ہو اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ آپ کے بغیر جی سکے۔ براہِ کرم میں نے جو لکھا ہے اس کے لیے مجھے معاف فرمائیے۔'

Sunday, March 14, 2021

غداروں ‏کی ‏تاریخ

March 14, 2021 1
 " غداروں کی تاریخ "

تاریخ کے جھروکوں سے : پہلی قسط

وطن عزیز میں عرصہ دراز سے غداری کے سرٹیفکیٹس سرعام بانٹے جارہے ہیں، 
ہماری نئی نسل نے آنکھیں کھولنے کے بعد یا تو مطالعہ پاکستان پڑھا ہے یا الیکٹرانکس اور سوشل میڈیا پر مخصوص پروپیگنڈہ سنا ہے،
 اس خطے میں غداری کی تاریخ کیا ہے ؟ 
سب سے اول غدار کون تھے ؟ 
ان کی اولادیں آج کل کہاں کہاں حب الوطنی کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں؟ 
نئی نسل کو ان حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے یہ سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔ 
 

اورنگ زیب عالم گیر کی وفات کے بعد مغل سلطنت کمزور ہوتی چلی گئی اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستیں قائم ہوئیں،اسی ابتری کے دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور دوسری یورپی کاروباری قوموں نے اپنے پاؤں پھیلانے شروع کر دیئے،

بنگال پر نواب علی وردی خان کی حکومت تھی،
1754 میں وفات سے پہلے اس نے اپنے 18 سالہ نواسے سراج الدولہ کو جانشین مقرر کرتے ہوئے خصوصی وصیت کی کہ انگریزوں کو قلعے بنانے اور فوج رکھنے کی کبھی اجازت نہ دینا۔

اپریل 1756ء میں جب سراج الدولہ تخت نشیں ہوا تو انگریزوں نے رسمی مبارک اور  تحفے دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔
 نوعمر نواب کو بچہ اور کمزور سمجھ کر اس کی اجازت کے بغیر ہی کلکتہ کے قلعے کی مرمت شروع کر دی۔ نئے قلعے تعمیر ہونے لگے، مورچے بننے لگے۔ ریاست کے بھاگے ہوئے مجرموں کو پناہ دی جانے لگی۔ ڈھاکہ کے دیوان کا بیٹا بھی انہی میں شامل تھا جو ریاست کا مجرم تھا۔

نرم خو نواب نے انگریزوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر انگریزوں نے اس نیک نیتی کو کمزوری سمجھا، 
آخر ان کی بڑھتی ہوئی سرکشی سے تنگ آ کر نواب سراج الدولہ نے نے جون 1756 میں انگریزوں پر حملہ کرکے انہیں کلکتہ سے نکال دیا۔ شریف مزاج نواب نے فتح کے بعد ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کی جو باغی انگریز قید ہو کر آئے تھے ان کی جاں بخشی کردی اور انہیں اپنا ساز و سامان لے کر جانے دیا۔ 
ان میں ایک فتنہ پرداز انگریز واٹس بھی تھا،

مدراس میں مقیم کلائیو کو جب اس شکست کی خبر ملی تو جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ مگر جلد ہی اس کے مکار ذہن کو احساس ہوا کہ اس کا نواب سے کوئی مقابلہ نہیں۔اس نے نواب کے دربار میں سازشوں کا جال بچھا کر وہاں مردہ ضمیر غداروں کی تلاش شروع کردی۔ 

کلائیو نے اپنی مکاری کو عملی جامہ پہنانے کے لئے نواب سے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے دربار میں کمپنی کا ایک سفیر ہو جو کہ ہمارے درمیان رابطے کا ذریعہ ہو۔

امن پسند نواب نے نہایت خوش دلی سے اس تجویز کو مان لیا۔کلائیو نے اسی فتنہ پرور واٹس کواپنا سفیر بنا کر نواب کے دربار میں بھیج دیا اور واٹس نے بڑی آسانی سے سازشیوں کی ایک جماعت تیار کر لی۔ ان کا سرغنہ میر جعفر نواب کی فوجوں کا سپہ سالارتھا۔ اسے کلائیو نے سراج الدولہ کی جگہ نواب بنانے کا لالچ دیا۔

حالات کو ساز گار دیکھ کر دسمبر 1756ء میں کلائیو اپنی فوج لے کر آیا، اور 29 دسمبر کو کلکتہ کا قلعہ دوبارہ فتح کیا، جہاں تمام ساز وسامان اسی طرح محفوظ تھا، جیسا وہ چھوڑ گئے تھے۔ اس سامان کی حفاظت نواب سراج الدولہ کے حکم سے ہو رہی تھی۔
 
26 اپریل کو واٹس نے کلائیو کو اطلاع دی کہ اس نے میر جعفر کو بھی غداری پر آمادہ کر لیا ہے۔ 4 جون کو واٹس ایک زنانی پالکی میں بیٹھ کر آدھی رات کے وقت میر جعفر کے محل میں گیا۔ اس سے عہد نامہ اور شرائط مکمل کرائیں۔ اس سازش میں میر جعفر کے علاوہ درلب رام، یار لطف خاں اور جگت سیٹھ وغیرہ شامل تھے، معاملات امی چند کے ذریعے طے ہوئے۔

12 جون 1757  کو میر جعفر اور دیگر غداروں نے اطلاع دی کہ وہ سب کام درست کر چکے ہیں۔ طے یہ ہوا کہ جب کلائیو اور نواب کی فوجیں آمنے سامنے ہوں گی تو نواب کی فوج نواب کو قتل کر دے گی اور انگریزی فوج آسانی سے قبضہ کر لے گی۔
23 جون 1757 کو عید الفطر کا چھٹا دن تھا،
صبح سے ہی تیز بارش ہورہی تھی، 
 بھاگیرتی ندی کے کنارے انگریز اور نواب کی فوجوں کا آمنا سامنا ہوا،
 نواب کی فوج کا بڑا حصہ میر جعفر، ڈرلب رام اور یارطف خان کی زیر کمان تھا۔ عین وقت پر یہ الگ ہو گئے اور لڑائی میں حصہ نہیں لیا صرف مہاراجہ موہن لال، میر مدن اور فرانسیسی افسر سان فریز اپنی تھوڑی سی فوج کے ساتھ رہ گئے۔ ان جان نثار پروانوں نے اپنی جان پر کھیل بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ انگریز فوج پسپائی پر مجبور ہو گئی۔
شکست خوردہ انگریز فوج نے ایک باغ میں پناہ لی، اور جان بچا کر بھاگنے کے لیے رات کی تاریکی کا انتظار کرنے لگے۔

صورت حال دیکھ کر کلائیو سخت خواص باختہ ہوا۔
اس جنگ میں شکست کا مطلب انگریزوں کا ہندوستان سے بوریا بستر گول ہونے کے مترادف تھا۔ 
وہ میر جعفر کے نمائندہ پر پھٹ پڑا کہ تمہارے آقا نے تو کہا تھا کہ سپہ سالار اور فوج لڑائی شروع ہوتے ہی نواب کا کام تمام کردیں گے، 
بدقسمتی سے تیز بارش کی وجہ سے نواب کا سارا بارود بیکار ہو گیا، پھر بھی حملہ جاری رہا،
جس وقت میر مدن اور موہن لال انگریزی توپ خانے کے قریب پہنچ گئے۔ عین اسی لمحے ایک گولا میر مدن کو لگا اور وہ شہید ہوگئے، میر مدن کی شہادت نے نواب کو دل شکستہ کر دیا،
شام  کا اندھیرا چھا گیا ، مگر بہادر موہن لال برابر موت کی طرح انگریزوں کے سر پر مسلط تھا اور قریب تھا کہ قسمت کا فیصلہ ہو جائے کہ غدار میر جعفر نے نواب کو جنگ بند کرنے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ کل صبح جنگ شروع کریں گے اور اس کا لشکر اس میں شامل ہوگا۔ اس وقت لشکر واپس بلا لیا جائے۔ دوسری طرف انگریزوں کو لڑائی جاری رکھنے کی تاکید کر دی۔

اس وقت موہن لال انگریزوں سے گھمسان کی جنگ کر رہا تھا اور اس کا توپ خانہ قہر کی گولہ باری کر رہا تھا۔ سپاہیوں کی بندوقیں بارش کی طرح گولیاں برسا رہی تھیں۔ عین اس وقت اسے جنگ بند کر کے لوٹ آنے کا حکم ملا۔ اس نے جواب دیا یہ جنگ بند کرنے کا وقت نہیں، فیصلہ ہونے میں اب دیر نہیں ہے۔ 

اس جواب پر نواب نے پھر میر جعفر سے مشورہ کیا تو اس نے پھر جنگ بند کرنے کا مشورہ دیا اور یقین دلایا کہ کل وہ اپنا لشکر لے کر لڑائی میں شامل ہو گا۔ نواب کے بار بار احکامات بھیجنے پر بہادر موہن لال نے بادل نخواستہ اپنے سپاہیوں کو واپسی کا حکم دیا۔ واپس ہوتے سپاہیوں پرانگریز لشکر جو تاریکی سے فائدہ اٹھا کر بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا، پل پڑا اور جو جوان فتح کی لڑائی لڑ رہے تھے گاجر مولی کی طرح کٹنے لگے، 

 " غداروں کی تاریخ "

تاریخ کے جھروکوں سے: دوسری قسط

برصغیر کے  غدار کرداروں کی اصل داستاں 

میر جعفر ایک جانب لڑائی سے غیر جانبدار ہو کر نواب کو واپسی کا مشورہ دے رہا تھا اور دوسری جانب انگریزوں کو حملے کے لیے خفیہ مدد دے رہا تھا۔ 

اپنے کیمپوں کی طرف جانے والی سراج الدولہ کی فوج اس اچانک حملے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھی۔
نتیجتاً ساری فوج بوکھلا گئی ، یہ وہ سازش تھی جس میں جگت سیٹھ، میر جعفر اور کرشن چندرا شامل تھے۔
مورخین کے مطابق سراج الدولہ کی شکست کے تین اسباب تھے ، بارش کی وجہ سے نواب کے توپوں کا بیکار ہونا، نواب کے وفادار سپہ سالار میر مدن کی اچانک موت اور عین وقت پر فوجوں کی پسپائی، کچھ وقائع نگاروں کے مطابق میرجعفر نے توپوں میں پانی ڈال کر اسے بیکار کیا تھا اور سپہ سالار میر مدن انگریز نہیں میر جعفر کے غداری فوجیوں کے گولی کا نشانہ بنا تھا۔

میر جعفر اور ان کے ساتھیوں کی غداری کی وجہ سے  
سراج الدولہ کی پچاس ہزار فوجیوں کو پلاسی کے میدان میں شکست ہوئی۔ انگریز فوجیوں کی تعداد چار ہزار بتائی جاتی ہے۔ مورخین اس لڑائی کو جنگ پلاسی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ جنگ برصغیر میں انگریزی فتوحات کا نقط آغاز تھا۔ لارڈ کلائیو نے میر جعفر کے ساتھ سازش کر کے نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر برصغیر میں برطانوی سامراج کی بنیاد ڈالی،
اور یوں پھر جنگ پلاسی کے سو سال بعد 1857 میں پورے ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ 

جنگ کے اختتام کے بعد کلائیو بنگال کے دارالحکومت مرشد آباد پہنچا۔ وہ کٹھ پتلی شاہ دہلی سے پہلے ہی میر جعفر کی تقرری کا فرمان حاصل کر چکا تھا،
میر جعفر برصغیر کی تاریخ کا پہلا غدار جرنیل تھا۔
علامہ اقبال نے ان ہی کے بارے میں کہا تھا،

جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگ آدم، ننگ دین ، ننگ وطن

نواب سراج الدولہ کی شہادت :

شکست کے بعد نواب سراج الدولہ روپوش ہوگئے، 
وہ اپنی بیوی لطف النساء اور بیٹی کے ہمراہ پہلے مرشد آباد اور پھر کشتی کے ذریعے پٹنہ چلے گئے،
میر جعفر کو سکون نہیں آرہا تھا اس نے اپنے بیٹے میر میرن کو نواب کے پیچھے لگا دیا۔ نواب گرفتار ہوئے،
2 جولائی 1757 کو  میر میرن کے حکم پر محمد علی بیگ نے نواب سراج الدولہ کو میر جعفر کی رہائش گاہ پر تختہ دار پر لٹکا دیا، کچھ وقائع نگاروں کے مطابق میر میرن نے نواب کو نہایت درد ناک طریقے سے قیمہ قیمہ کرا دیا۔ اس کی لاش کو تمام شہر میں ہاتھی پر رکھ کر پھرایا گیا۔ تاکہ عوام کو یقین ہو جائے کہ نواب قتل ہوچکا ہے۔

نواب کی لاش کے ہمراہ  ماتم کرنے والے ہزاروں انسانوں کا ایک ہجوم تھا۔ اسی طرح نواب کے وفادار ساتھی راجہ موہن لال کو بھی بے حد تکلیف اور اذیتیں دے دے کر قتل کیا گیا
شہادت کے وقت نواب کی عمر 24 سال تھی ۔

نواب سراج الدولہ حریت اور جدوجہد کا استعارہ تھے۔
جس نے غیر ملکی قابضین کے خلاف عملی جدوجہد کی۔سراج الدولہ اپنی رعایا کے دلوں پر حکمرانی کرتے تھے۔سراج الدولہ کی شہادت کی خبر آگ کی طرح ہندوستان کے طول و عرض میں پھیلی،بیر بھوم کے جاگیر دار نواب بدیع الزماں کوجب یہ خبر ملی تو وہ فقیرانہ لباس پہن کر جنگل کی طرف نکل گیا۔ 

پٹنہ کے صوبیدار نرائن نے شدت غم سے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے، سارے شہر میں ماتم تھا، نرائن ہجوم کے آگے آگے سینہ کوبی کرتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جارہے تھے۔
 
"غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مر گیا آخر کو ویرانے پہ کیا گذری " 

سراج الدولہ سے عقیدت نے شعر اور شاعر دونوں کو تاریخ میں امر کردیا۔

دوسری جانب میر جعفر کی جس رہائش گاہ پر نواب سراج الدولہ کو شہید کیا گیا تھا اسے بعد میں عوام نے نمک حرام ڈیوڑھی کا نام دیا، اور تقریباً ڈھائی سو سال گزرنے کے بعد آج بھی اسی نام سے مشہور ہے ۔ برصغیر کے لوگوں کی اس عمارت سے نفرت تو سمجھ آتی ہے لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ سب سے بڑے عالمی ادارے یونیسکو نے بھی اسے غدار محل کا نام دے رکھا ہے ۔
اس عمارت کو نہ تو استعمال کیا جا سکتا ہے نہ ہی اسے توڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کا نام تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ 

(جاری)

( زیر نظر تصویر نمک حرام ڈیوڑھی کی ہے " غداروں کی تاریخ "

تاریخ کے جھروکوں سے : تیسری قسط 

میر جعفر کا خاندان :

اپنے مکروہ کردار کو درست ثابت کرنے کے لیے میر جعفر اپنے خاندان کا تعلق مغلوں کے ساتھ جوڑتا تھا۔ 
اس کے لیے دو نام نہاد، جھوٹی، من گھڑت اور غیر منطقی داستانیں گھڑی گئیں۔

پہلی داستان ؛ 
یہ کہ میر جعفر کے دادا نے اورنگزیب عالمگیر کے شاہی ملازمت اختیار کی اور وہ شاہی خاندان کے امور کے نگران بنے اور بعد میں یہ قاضی القضا کے عہدے پر فائز رہے۔

دوسری داستان : 
یہ کہ سید حسین نجفی کے بیٹے سید احمد نجفی کی شادی اورنگزیب عالمگیر کی بھتیجی یعنی داراشکوہ کی بیٹی سے ہوئی۔ جس کے بطن سے سید محمد نجفی جس کا سرکاری نام میر جعفر علی خان تھا کی پیدائش1691ءمیں ہوئی۔ 
اور یوں میر جعفر ننھیال کی جانب سے مغل خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ 

ڈاکٹر عارف محمود چغتائی کی تحقیق کے مطابق میر جعفر کے خاندان کی اصل کہانی کچھ یوں ہے۔ 

"میر جعفر کے دادا کا نام سید حسین نجفی تھا۔ جو نجف سے آبائی تعلق رکھتے تھے اور روضہ حضرت علی ؓ کے خادم  نگران تھے۔ سید اور نجفی کہلاتے تھے، سادات سے اپنا تعلق جوڑتے تھے اور شعیہ مسلک سے تھے ،شہنشاہ ہند اورنگزیب عالمگیر کے زمانے میں نجف سے ہندوستان آئے تھے،
 سید حسین نجفی مسلکی اعتبار سے شیعہ تھے۔
اورنگزیب شیعہ مسلک کے لیے سخت رویہ رکھتا تھا۔ جب بنگال میں اُسکے بھائی شجاع نے شیعہ مسلک اختیار کیا تو اورنگزیب کا رویہ شجاع کے اقتدار کے لیے نرم نہ تھا۔ اس نے شجاع کو مرتد قرار دے کر قتل کردیا"

فرض کریں اورنگزیب نے مسلکی تعصب سے ہٹ کر اس کو اتنے اہم عہدے دے دیئے ہوں تو بھی وہ سید نجفی سے مغل کیسے بن سکتے ہیں اور شاہی ملازمت اختیار کرنے سے نسل تو تبدیل نہیں ہوسکتی تھی۔ بیشک مغلوں میں کچھ شادیاں شیعہ مسلک میں سیاسی مصلحت کے تحت ہوتی رہی مگر وُہ ایران کے شاہی خاندان سے منسلک تھی۔
اورنگزیب عالمگیر کے دور میں شہزادیوں کا بیاہ جانا بھی ایک اور انداز اختیار کر گیا تھا۔ اس نے بیشک اپنے منحرف بھائیوں کو قتل کیا تھا لیکن ان کی اولاد کی شاہی محلات میں پرورش کی اور شاہی خاندان میں ان کی شادیاں کیں۔

جس طرح آج کل کے دور میں کچھ مذہبی رہنما اقتدار کی ہر راہدری تک پہنچنے کا ہنر جانتے ہیں اسی طرز پر میر جعفر کا شاطر خاندان اقتدار کی ہر سیڑھی تک رسائی کا فن جانتا تھا۔ 

بنگال کے نوابی خاندان سے تعلق ! 
سراج الدولہ کے نانا علی وردی خان کے ہاں کوئی اولادِ نرینہ نہ تھی ۔ تین بیٹیاں تھیں جن کی شادی بڑے بھائی کے تین بیٹوں سے کی تھیں۔ تیسری بیٹی امینہ بیگم کے چھوٹے بیٹے مرزا محمد سراج الدولہ سے نواب علی وردی خان کی تمام امیدیں وابستہ تھیں ۔ وہ سراج الدولہ کو بنگال کا نواب بنانا چاہتے تھے ۔ سراج الدولہ کے والد زین الدین  1748 میں افغانوں کے خلاف ایک جنگ میں مارے گئے تھے۔

سراج الدولہ کی تربیت شاہی محل میں ہوئی۔ وہ بچپن سے ہی نہایت قابل اور جری انسان تھے۔ 13 سال کی عمر میں نانا کے ہمراہ مرہٹوں کے خلاف جنگ میں جوان مردی سے لڑے۔ 

میر محمد جعفر علی خان ولد سید احمد نجفی آیا تو تھا ہندوستان بالکل خالی ہاتھ مگر جلد ہی نواب علی وردی خان کا اعتماد حاصل کر اس کا نہایت قریبی بن بیٹھا ۔ نواب نے نہ صرف یہ کہ ترقی دے کر اسے اپنا بخشی مقرر کیا بلکہ اپنی سوتیلی بہن شاہ خانم کی شادی بھی اس سے کروادی ۔یوں رشتے میں یہ سراج الدولہ کی والدہ کے پھوپھا تھے۔

دوسری جانب اس نے گجرات کے مغل صوبیدار سید امتیاز کے پوتے میر قاسم کو اپنی بیٹی کا رشتہ دے کر طاقت کے ایک اور ستون تک رسائی حاصل کی۔ 

جنگ پلاسی کے بعد :
جنگ کے بعد میر جعفر کو بنگال کا نواب بنایا گیا،۔انگریزوں نے نواب کا خزانہ لوٹ کر مال تقسیم کیا۔ صرف کلائیو کے ہاتھ 53 لاکھ سے زیادہ رقم ہاتھ آئی۔ جواہرات کا تو کوئی حساب نہ تھا۔ میر جعفر کو ایک کٹھ پتلی حکمران کے طور پر رکھا گیا مگر عملاً انگریزوں کی حکمرانی تھی۔
 میر جعفر علی خان 60-1757 تک بنگال کا نواب رہا،

غداروں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنوں میں تو بدنام ہوتے ہی ہی  لیکن جن غیروں کے لیے ملک ؤ قوم سے غداری کرتے ہیں ان کے ہاں بھی ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہیں۔
غداری کے تین سال بعد 1760 میں اسے معزول کرکے اس کے داماد میر قاسم کو نواب آف بنگال بنایا گیا۔ 

لیکن مغل صوبیدار گجرات ”سید امتیاز“ کا پوتا میر قاسم میر جعفر کی شاطرانہ چالوں کا مقابلہ نہ کر سکا۔
میر جعفر نے اپنے مخصوص کارندوں کے ذریعے میر قاسم کو انگریزوں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔
اور دوسری جانب ایک بار پھر انگریز سرکار کو اپنی خدمات پیش کیں اور یوں وہ ایک بار پھر انگریزوں کے نظر کرم میں آیا اور وفات تک نوابِ بنگال، بہار، اوڑیسہ رہا۔

میر قاسم نے مغلوں سے مل کر بکسر کے مقام پر آخری مزاحمت کی مگر شکست کھائی اور کسمپرسی کی حالت میں باقی ماندہ زندگی بسر کرتے ہوئے دلی میں انتقال کیا۔

میر جعفر عمر کے آخری حصے میں سراج الدولہ کو بڑی حسرت سے یاد کرتا تھے۔ 
1765ء میں نواب میر جعفر کا انتقال ہوا۔
اور رہتی دنیا تک غداری کا استعارہ بن گیا۔

مرزا منصور علی خان بنگال کا آخری نواب تھا ۔
اس کے پوتے محمد فتح علی خان مرزا کے ہاں 
13 نومبر 1899 کو مرشدِ آباد کے مقام پر ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کا نام اسکندر خان مرزا نجفی رکھا گیا۔

میر جعفر کی آٹھویں نسل میں پیدا ہونے والے اس بچے نے اس کی تاریخ زندہ رکھی۔

" غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے : چوتھی قسط

کسے معلوم تھا کہ محمد فتح علی خان مرزا کے گھر پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہوکر اسکندر مرزا کے نام سے اپنے پردادا کی تاریخ دہرائے گا۔ اور برصغیر کے نئے اسلامی ریاست میں آئین کو توڑ کر غداری کا مرتکب ہوگا۔ 

اسکندر مرزا کا میر جعفر کے ساتھ تعلق کوئی سازشی افسانہ یا من گھڑت داستان نہیں بلکہ یہ وہ تاریخی حقیقت ہے جس پر اسکندر مرزا اور اس کے خاندان کو آج بھی فخر ہے۔

اسکندر مرزا کے صاحبزادے ہمایوں مرزا نے ایک کتاب لکھی ہے، ".فرام پلاسی ٹو پاکستان"  جس میں اس نے حیرت انگیز طور پر سراج الدولہ کو بدمزاج اور بے رحم ٹھہراتے ہوئے لارڈ کلائیو کے ہاتھوں شکست کا ذمہ دار خود انھی کو قرار دیا ہے اور ساتھ سراج الدولہ کو بے وفا اور غدار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔

حیات مرزا تاریخ کے آئینے میں:

بمبئی میں تعلیم حاصل کی، 1918 میں حکومت برطانیہ نے پہلی بار ہندوستان کے شہریوں کو برطانوی فوج میں کمیشن حاصل کرنے کا حقدار ٹھہرایا ( اسے کنگز کمیشن کہا جاتا تھا) ،
اسکندر مرزا نے درخواست دی جو منظور ہوئی۔
زیادہ تر ہندوستانی کیڈٹ اندور کے کیڈٹ کالج بھیج دیئے گئے۔ 

اسکندر مرزا ان پانچ افراد  میں شامل تھے جنہیں سینڈہرسٹ میں واقع امپئرل ملٹری اکیڈمی میں تربیت کے لیے انگلستان بھیجا گیا۔
لندن میں دو انڈین کیڈٹوں کا انتقال ہوگیا اور دو کو وآپس بھیج دیا گیا۔
اس طرح اسکندر مرزا پہلے بیچ میں سینڈہرسٹ سے واحد ہندوستانی کیڈٹ بن کر 1920 میں کامیاب لوٹ آئے۔ 
1921ء میں کوہاٹ کے مقام پر دوسری اسکاٹش رائفل ریجمنٹ میں شریک ہوئے اور خداداد خیل میں لڑائی میں حصہ لیا۔
1924ء میں وزیرستان قبائل کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے سامراجی فوج نے جنگ شروع کی ،
اسکندر مرزا برٹش فوج کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ 

1922 سے 1924ء تک پونا ہارس ریجمنٹ میں رہے جس کا صدر مقام جھانسی تھا۔

اسکندر مرزا نے صرف چھ سال فوجی خدمات سر انجام دئیے۔ 
1926 میں وہ انڈین پولیٹیکل سروس کے لیے منتخب ہوئے، اور ایبٹ آباد ، بنوں ، نوشہرہ اور ٹانک میں بطور اسسٹنٹ کمشنر کام کیا۔ یہی وہ دور ہے جس میں اسکندر مرزا کا اصل کردار سامنے آیا۔
اس دور میں اہم واقعات کا ذکر اسکندر مرزا نے اپنے خود نوشت " اسکندر مرزا کی یاداشتیں " میں کیا ہے۔ 
یہ آپ بیتی اسکندر مرزا کے وفات کے پچاس سال بعد شائع ہوسکی۔ 
1930 میں یہ نوشہرہ میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تعینات تھے۔ دسمبر 1930 انگریز سرکار نے کانگریس پر پابندی عائد کردی۔ باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک والے چونکہ کانگریس کی اتحادی تھے اس لئے یہ بھی زیرِ عتاب آئے۔ 
باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک ایک علحیدہ تفصیلی مضمون کا متقاضی ہے۔

یہاں صرف اتنی گزارش ہے کہ  1929ء تک اس تحریک کے تمام راہنما صوبہ بدر کر دیے گئے اور مرکزی راہنما گرفتار کر لیے گئے۔ سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیئے اس تحریک کے رہنماؤں نے آل انڈیا مسلم لیگ اور انڈین نیشنل کانگریس سے رابطے بھی قائم کیے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی حمایت نہ ملنے پر اس تحریک نے باقاعدہ طور پر 1929ء میں انڈین نیشنل کانگریس سے الحاق کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

برٹش سرکار کی طرف سے خدائی خدمت گار تحریک کے کارکنان کو منتشر کرنے کا ٹاسک ملا جو نوشہرہ کے قریب پبی کے مقام پر احتجاجی مظاہرے کررہے تھے۔ 
اسکندر مرزا نے اس پر امن جلوس پر برٹش بٹالین پولیس کے دستوں کے ذریعے زبردست لاٹھی چارج کروایا اور پھر یزیدی اسٹریجڈی اپناتے ہوئے ان کا پانی بند کیا ۔ لہولہان کارکن گرمی اور پیاس کی تاب نہ لا سکے اور تحریک منتشر ہوگئی۔
اور یوں اسکندر مرزا برطانوی سرکار کی نظروں میں ایک بہترین اور وفادار منتظم کی صورت میں سامنے آئے۔

 " غداروں کی تاریخ " 

تاریخ کے جھروکوں سے : پانچویں قسط

اسکندر مرزا کچھ عرصہ شمالی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ رہے ، یاد رہے قبائلی علاقوں میں پولٹیکل ایجنٹ کا عہدہ  ڈپٹی کمشنر کے مساوی ہوتا تھا۔ میران شاہ شمالی وزیرستان کا ہیڈکوارٹر تھا۔ ان دنوں فقیر ایپی کے نام سے ایک حریت پسند سامراج کے خلاف برسرِ پیکار تھا۔

بنوں سے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سابق وزیر اعلی خیبرپختونخوا اکرم خان درانی کے دادا گل نواز خان سوارنی جو خلیفہ گل نواز کے نام سے مشہور تھے وہ دیگر حریت پسندوں کے ہمراہ فقیر ایپی کی قیادت میں انگریزوں  کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں میں شامل تھے۔ اس پاداش میں اکرم خان درانی کے خاندان کو گاؤں بدر کیا گیا اور ان کی ساری جائیداد بحق سرکار ضبط کی گئی۔ فقیر ایپی نے گوروں کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی اور گوروں کو ناکوں چنے چبوائے، کرنل محمد خان نے اپنی کتاب " بجنگ آمد " میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ وہ اس وقت انگریز فوج میں بحثیت لیفٹیننٹ وزیرستان میں تعینات تھے۔ اسکندر مرزا نے چونکہ فوجی ملازمت کے دوران وزیرستان میں کاروائیوں میں حصہ لیا تھا اس لئے وہ سرکار کے لیے ایک کامیاب پولٹیکل ایجنٹ ثابت ہوئے۔

لندن کے گول میز کانفرنس کی ناکامی کے بعد برطانوی پارلیمنٹ نے ہندوستان میں ایک حکومتی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے 4 اگست 1935ء کو ایک مسودۂ قانون کی منظوری دے دیدی۔ ہم اس کو ’’قانون ہند مجریہ 1935ء ‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس قانون کے دو حصے تھے۔

1۔ وفاقی حصہ
2۔ صوبائی حصہ

اس قانون کے مطابق مرکزی سطح پر تمام صوبوں اور ریاستوں کے باہمی اشتراک سے ایک آل انڈیا فیڈریشن کا قیام عمل میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اڑیسہ کو ایک نیا صوبہ بنایا گیا۔ صوبہ سرحد کو مکمل طور پر صوبے کا درجہ دیا گیا۔
یاد رہے قیام پاکستان کے بعد نئے آئین کی تیاری تک یہی ایکٹ بطور عبوری آئین نافذ العمل رہا۔
اس قانون کے وفاقی حصے کو کانیگرس اور مسلم لیگ دونوں نے مسترد کردیا جبکہ صوبائی حصے کو دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے قبول کیا۔

اس نئے قانون کے تحت جنوری 1937 میں گیارہ صوبوں میں انتخابات منعقد ہوئے، 

کانگریس نے پانچ صوبوں میں براہِ راست جبکہ بمبئی اور سرحد میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ ملکر مخلوط حکومت قائم کی۔ 

پنجاب میں مسلم لیگ کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی اور وہاں سکندر حیات خان کے یونینسٹ پارٹی نے حکومت بنائی۔
یہ حکومتیں دو سال تک چلیں ، نومبر 1939ء میں کانگریس اور تاج برطانیہ کے درمیان دوسری جنگ عظیم میں ہندوستان کی شمولیت کے سوال پر اختلافات پیدا ہوئے۔ کانگریس کا اعتراض تھا کہ گورنر جنرل نے ان سے مشورہ کئے بغیر ہندوستان کو جنگ کا حصہ کیوں بنایا۔  کانگریس نے بطور احتجاج وزارتوں سے مستعفی ہوکر احتجاجی تحریک شروع کر دی۔ 
مسلم لیگ نے جنگ میں تاج برطانیہ کی حمایت کا اعلان کیا۔ 

تحریک زور پکڑتی گئی،
ایک طرف دوسری جنگ عظیم عروج پر تھی، 
دوسری جانب ہندوستان میں صورتحال خراب ہوتی جارہی تھی۔ایسی گھمبیر صورتحال میں سرکار نے 1940 میں اسکندر مرزا کو ضلع پشاور کا ڈپٹی کمشنر مقرر کردیا۔

سرکار کو ڈر تھا کہ کانگریس اور اس کے اتحادی علاقے میں امن و امان کا مسلئہ پیدا کرسکتے اس لئے اسکندر مرزا جیسے بے رحم اور شاطر منتظم کی ضرورت تھی جو حالات کو کنٹرول کر سکے۔ اسکندر مرزا نے باچا خان کے خدائی خدمت گار تحریک میں اپنے دو ایجنٹ داخل کئے اور وہ تحریک کا زور تورنے میں کسی طرح  کامیاب ہوگئے اور یوں تحریک منظم نہ ہوسکی۔

اسکندر مرزا کی لیاقت علی خان کے ساتھ گہری دوستی تھی۔ 1943 میں پشاور جاتے ہوئے اس نے دہلی میں قیام کیا اور اپنے جگری دوست لیاقت علی خان کے تواسط سے قائد اعظم سے ملاقات کی۔

اسکندر مرزا اپنی یاداشتوں میں اس ملاقات کا ذکر کچھ یوں کرتے ہیں۔ 

" مجھے کوئی علم نہیں تھا کہ وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتے ہیں، تاہم میں گیا۔ جناح صاحب مجھے اپنے اسٹڈی روم لے گئے اور یہ کہہ کر بات چیت کا آغاز کیا کہ وہ میری والدہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ بلقان کی جنگ کے دوران ترکی کو امدادی سامان بھیجنے کے سلسلے میں انہوں نے میری والدہ کے ساتھ کام کیا تھا۔ انہوں نے بڑا حیرت انگیز سوال کیا ’’کیا تم مسلمان ہو؟‘‘ میں نے انہیں جواب دیا ’’ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے مسلمان ہیں۔‘‘ پھر جناح صاحب نے کہا ’’تم مجھے مسلمانوں کا سربراہ تسلیم کرتے ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’میں آپ کو ہندوستان کے مسلمانوں کا سیاسی سربراہ تسلیم کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے مجھ سے مزید کہا کہ انہیں باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر میں کوشش کروں تو صوبہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت قائم کرا سکتا ہوں۔ میں نے کہا ’’میں محض پشاور کا ڈپٹی کمشنر ہوں اور یہ کام صرف سر جارج کننگھم ہی کرسکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھ سے صرف وعدہ لینا چاہتے ہیں کہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا۔‘‘

 " غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے: چھٹی قسط

ان ہی دنوں 23 مارچ 1940 کو قائدِ اعظم کی سربراہی میں مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں ایک قرارداد کے ذریعے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا گیا، یہ پہلے قرادادِ لاہور اور بعد میں قراردادِ پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی۔ 

قرارداد کا مسودہ سر ظفر اللہ خان نے تیار کیا ،
جو بعد میں پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے ،
قائد اعظم کو وہ اتنے عزیز تھے کہ ایک بار ایک خط میں انہیں "مائی سن" (میرے بیٹے) مخاطب کرکے لکھا،
یاد رہے ظفر اللہ خان احمدی فرقے سے تعلق رکھتے تھے ۔

قرارداد شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔
وہ اس وقت بنگال کے منتخب وزیر اعلیٰ تھے۔ 
ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر شیر بنگال کے مسلم لیگ سے اختلافات پیدا ہوئے جس پر 1941 میں انھونے مسلم لیگ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ ستمبر 1946 میں آپ قائد اعظم کی درخواست پر ایک بار پھر مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ اور تحریک انصاف آزادی میں بھرپور حصہ لیا۔ 

پنجاب کی یونینسٹ پارٹی اس زمانہ میں مسلم لیگ میں ضم ہو گئی تھی اور سر سکندر حیات خان صوبہ پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے۔ صوبائی حکومت کی بھرپور حمایت سے ہی مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوسکا۔
کیونکہ اجلاس سے 4 روز قبل لاہور میں علامہ مشرقی کی خاکسار جماعت نے پابندی توڑتے ہوئے ایک عسکری پریڈ کی تھی جس کو روکنے کے لیے پولیس نے گولیاں چلائیں۔
 35 کے قریب خاکسار جاں بحق ہوئے۔ اس واقعہ کی وجہ سے لاہور میں زبردست کشیدگی تھی اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت یونینسٹ پارٹی بر سر اقتدار تھی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ خاکسار کے بیلچہ بردار کارکن مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہ ہونے دیں یا اس موقع پر ہنگامہ برپا کریں۔

سر سکندر حیات خان نے قرارداد کے اصل مسودے میں برصغیر میں ایک مرکزی حکومت کی بنیاد پر عملی طور پر کنفڈریشن کی تجویز پیش کی تھی لیکن جب اس مسودے پر مسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی میں غور کیا گیا تو قائد اعظم محمد علی جناح نے خود اس مسودے میں واحد مرکزی حکومت کا ذکر یکسر کاٹ دیا۔

سر سکندر حیات خان اس بات پر سخت ناراض تھے اور انہوں نے 11 مارچ، 1941ء کو پنجاب کی اسمبلی میں صاف صاف کہا تھا کہ ان کا پاکستان کا نظریہ جناح صاحب کے نظریہ سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستان میں ایک طرف ہندو رآج اور دوسری طرف مسلم رآج کی بنیاد پر تقسیم کے سخت خلاف ہیں،
سر سکندر حیات خان اگلے سال 1942ء میں 50 سال کی عمر میں انتقال کر گئے،

3 مارچ 1943ء کا دن تھا جب جی ایم سید نے سندھ اسمبلی میں قراردادِ پاکستان پیش کی۔ 
اس قرارداد کے مطابق:

"’ہندوستان کے مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں، جن کا علیحدہ مذہب، فلسفہ، سماجی رسومات، ادب و روایات اور سیاسی و اقتصادی نظریات ہیں۔ وہ ہندوؤں سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلمانوں کی وہاں اپنی علیحدہ آزاد قومی ریاست ہو، جہاں وہ ہندوستان کے علاقوں میں اکثریت رکھتے ہیں"
یہ قرارداد آج بھی سندھ اسمبلی میں آویزاں ہے ۔ 

اب آپ غور کریں کہ جی ایم سید اور اے کے فضل الحق کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا اور دوسری جانب سامراج کے وفادار سپاہی اسکندر مرزا کو کیا مقام دیا ۔ 

اسکندر مرزا 1942 میں حکومت ہند کے وزرات دفاع میں بطور جائنٹ سیکٹری مقرر ہوئے۔ 

اسکندر مرزا اپنی یاداشتوں میں مزید لکھتے ہیں،
 
" برطانوی وزیر اعظم ایٹلی نے دار العوام میں ہندوستان سے جون 1948ء تک برطانوی راج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس صورتحال میں فروری 1947ء میں مجھے فون پر ملاقات کے لیے گھر طلب کیا۔ وہ کسی بھی پیچیدہ مسئلے سے بڑی ذہانت کے ساتھ نمٹ سکتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ اس وقت تک وہ پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کوئی سنگین قسم کا ہنگامہ نہ کھڑا کیا جائے اور ایسا کرنے کے لیے بہترین جگہ صوبہ سرحد ہے جہاں قبائلیوں کے ذریعے یہ کام کرایا جا سکتا ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں، میں اپنی ملازمت سے مستعفیٰ ہو جاؤں اور قبائلی علاقے میں جا کر جہاد شروع کر دوں۔ تمام تر تحفظات کے باوجود میں قائداعظم کے منصوبے پر عمل کرنے کے لیے تیار تھا میں اپنے اوپر کسی ایسے آدمی کا ٹھپہ نہیں لگوانا چاہتا تھا جو عمل کے وقت خاموش کھڑا رہے۔ تھوڑے اخراجات کے بعد میں تراہ اور مہمند قبائل میں کچھ ہنگامے کرا سکتا تھا۔ اس سلسلے میں رقم کا تخمینہ ایک کروڑ روپے تھا جو میں نے انہیں بتا دیا۔ جناح صاحب کو ان تمام ضروریات کا پہلے سے اندازہ تھا۔ پیسے تیار تھے۔ کہانی یہ تھی کہ خان آف قلات سے میری ملاقات طے تھی اور رقم نواب بھوپال نے فراہم کی تھی۔ مجھے اسی روز خط مل گیا اور ابتدائی سرگرمیوں کے لیے بیس ہزار روپے میری صوابدید پر تھے۔ قائد اعظم نے مجھے یہ بھی یقین دہانی کرائی اگر مجھے کچھ ہوا تو میرے خاندان کی پوری طرح دیکھ بھال کی جائے گی۔ میں نے کام شروع کر دیا لیکن مئی کے اوائل میں قائد اعظم نے مجھے بتایا کہ پاکستان بننا منظور ہو گیا ہے لہٰذا یہ منصوبہ ترک کر دیا گیا ہے۔" 

برٹش سرکار نے جون 1947 میں منصوبہ پیش کیا جس کے مطابق برطانیہ 15 اگست 1947ء کو اقتدار چھوڑ دے گا۔ بطور جوائنٹ سیکریٹری حصوں کی تقسیم کے سلسلے میں پاکستان کے مفادات کی نگرانی اسکندر مرزا کو سونپی گئی۔ فیروز پور میں ضروری اسلحہ جات پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے انہوں نے اپنے اختیارات استعمال کیے۔ اس وقت یقین تھا کہ فیروز پور پاکستان کے پاس آئے گا لیکن ریڈ کلف ایوارڈ میں فیروز پور بھارت کو دے دیا گیا اور یوں ان کوششوں کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوسکا۔

1946 کے انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ نے اور سرحد میں خدائی خدمت گار اور کانگریس کی مشترکہ اتحاد نے صوبہ سرحد میں حکومت بنائی۔

یہاں مورخ ایک سوال اٹھا رہا ہے کہ 1937 میں پنجاب میں ایک سیٹ نہ جیتنے والی مسلم لیگ نے نو سال بعد انتخابات میں سویپ کیسے کیا ؟؟

صوبہ سرحد کی صوبائی اسمبلی کل 50 ممبران پر مشتمل تھی۔ اس میں کانگریس کے 30 ممبر تھے جن میں 12غیر مسلم تھے 17 مسلم لیگ، 2 جمعیت علماءہند اور ایک اکالی دل کا سکھ ممبر تھا۔ مسلم لیگ کے عظیم رہنما سردار عبد الرب نشتر بھی پشاور سے الیکشن ہار گئے تھے۔

مسلم لیگ کے 17 میں سے 10 ارکان کا تعلق ہزارہ سے تھا ۔
صوبے کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان جو خان عبد الغفار خان  کے بھائی تھے نے ذاتی طور پر  قائداعظم اور لیاقت علی خان کو نئے مملکت سے وفاداری کا یقین دلایا تھا ،اور تشفی اور تسلی دی تھی کہ وہ صوبے کو پُرامن رکھیں گے اور کوئی بات نہیں ہونے دینگے جس سے نئی حکومت پاکستان کو کوئی نقصان پہنچے،

باچا خان نے اسمبلی فلور پر اعلان کیا 
’اب ہم پاکستان کے باسی ہیں اور یہاں پر رہیں گے"

15 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔( جسے بعد میں تبدیل کر کے 14 اگست کیا گیا).
دونوں جانب ہجرت کرنے والوں کا ایک سیلاب آیا۔ 
اسکندر مرزا کے مطابق دونوں جانب آبادیوں کی وسیع پیمانے پر ہجرت کا قائد اعظم کو اندازہ نہیں تھا۔
لیکن جہاں پنجاب دونوں جانب سے کشت و خون میں ڈوبا ہوا تھا وہاں صوبہ سرحد مثالی طور پر پرامن رہا۔ 

اسکندر مرزا کے مطابق صوبہ سرحد سے ہندوؤں کا انخلا نہ ہندو چاہتے تھے نہ ہی پٹھانوں کی اکثریت اس کی خواہاں تھی۔ لیکن آزادی کے دو ہفتے بعد ڈاکٹر خان کی صوبائی حکومت ختم کرکے ایک کشمیری عبدالقیوم خان کو وزیر اعلیٰ لگایا گیا۔ یاد رہے عبدالقیوم خان پاکستان بننے سے صرف ایک سال قبل 1946 میں کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوگئے تھے۔

مطلب ہجرت کرکے آنے والے لٹے پٹے مہاجرین کے آباد کاری کے لئے وسائل کی کمی تھی لیکن مخالفین کی صوبائی حکومت کو ختم کرنے کے لیے وقت اور وسائل سب کچھ دستیاب تھا۔ 

عبدالقیوم خان نے وزیر اعلیٰ بن کر خدائی خدمت گاروں پر زمین تنگ کی ۔ اسکندر مرزا کے بقول  سرحد میں کشیدگی کے واحد زمہ دار  کشمیری وزیر اعلیٰ عبد القیوم خان تھے۔

جولائی 1948ء۔ میں خیبر پختونخوا کے گورنر نے 
’پبلک سیفٹی آرڈیننس‘ جاری کیا۔ اس آرڈیننس کے ذریعے حکومت کو اختیار دیا گیا کہ وہ بغیر کسی وجہ کے کسی بھی شخص کو غیر معینہ مدت کے لئے حراست میں لے سکتی ہے اور اس کی جائیداد ضبط کرسکتی ہے۔ حراست میں لیے گئے شخص کو یہ اختیار بھی حاصل نہیں تھا کہ وہ اپنی گرفتاری کو کسی عدالت میں چیلنج کرسکیں۔ اس آرڈیننس کے تحت متعدد لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی گئیں۔ ان میں باچا خان، ڈاکٹر خان صاحب، قاضی عطاء اللہ، ارباب عبدالغفور خان اور دیگر لوگ شامل تھے۔ ان رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف صوبائی جرگے نے 12 اگست کو بابڑہ کے مقام پر پرامن مظاہرے کا اعلان کیا۔

قیوم خان نے پولیس اور پیرا ملٹری فورس کی بھاری نفری منگوائی دوسری طرف پارٹی کے ورکرز بھی صوابی، نوشہرہ، مردان اور دیگر جگہوں سے چارسدہ آنا شروع ہوگئے۔ ہزاروں لوگ جمع ہو چکے تھے کہ اچانک نہتے کارکنوں پر گولیاں برسنے لگیں۔ ایک سیاسی رہنما محمد طاہر کاکا جو اس وقت مقامی اسکول میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے ایک خصوصی انٹرویو اس وقت کا آنکھوں دیکھا حال کچھ یوں سنایا ہے،

’جیسے ہی فائرنگ رکی، میں گھر کی طرف دوڑا۔ ہمارے گھر کا بیرونی دروازہ اور تمام کمروں کے دروازنے کھلے ہوئے تھے۔ میں چیخا چلایا مگر کسی کی آواز نہ آئی میں سمجھ گیا کہ میرے گھر کے تمام لوگ مارے گئے ہیں۔ میں ایک بار پھر مقتل کی طرف بھاگا وہاں پر ایک قیامت برپا تھی بہنیں، بیویاں اور مائیں خون کے تالاب میں ایک لاش سے دوسری لاش اور ایک زخمی سے دوسرے زخمی کی طرف دوڑ رہی تھیں۔ مجھے لگا کربلا کا منظر بھی ایسا ہی ہوگا۔ ہر طرف چیخ و پکار تھی اور میں بھی رو رہا تھا "

ولی خان کی اہلیہ اور اسفندیار خان کی والدہ تاجو بی بی زخمیوں کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں۔‘ضلع نوشہرہ کے جے پور کے والد سریندر بھی خدائی خدمتگار تھے۔ وہ بھی اس مظاہرے میں شرکت کے لیے گئے تھے مگر کبھی واپس نہیں آئے۔ جے بتاتے ہیں کہ ان کے والد کی لاش انہیں واپس نہیں کی گئی۔ مقامی لوگ کے مطابق درجنوں کے حساب سے لاشیں دریا برد کر دی گئی تھیں۔ جے پور کہتے ہیں کہ شمشان گھاٹ میں والد کی لاش کو نہ جلانے کا دکھ ابھی تک ان کے دل میں ہے۔

ستمبر 1948 میں وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان نے صوبائی اسمبلی میں کہا کہ 
’میں نے بابڑہ میں دفعہ 144 نافذ کر دی تھی۔ جب لوگ منتشر نہیں ہوئے تب ان پر فائرنگ کی گئی۔ وہ خوش قسمت تھے کہ پولیس کے پاس اسلحہ ختم ہو گیا ورنہ وہاں سے ایک بھی آدمی زندہ بچ کر نہ جاتا۔‘
عبدالقیوم خان نے اسمبلی میں موجود اپوزیشن کے چار ارکان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 
’اگر یہ مارے جاتے تو حکومت کو اس کی کوئی پروا نہ ہوتی،

 اس واقعے کو پختونوں کا کربلا قرار دیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ اس وقت کی مسلم لیگ کی مقامی قیادت نے مرکزی قیادت کو اندھیرے میں رکھا۔ بابڑہ کے اس سانحے میں 600 سے زائد شہید اور 1000 سے زائد غیر مسلح خدائی خدمت گار زخمی ہوئے۔ خواتین نے قرآن پاک سروں پر رکھ کر فائرنگ رکوانے کی کوشش کی لیکن بابڑہ کے اس سانحے میں خواتین کی بھی بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی۔

اس قتل عام پر خدائی خدمت گاروں کی جانب سے عدالتی کمیشن کا مطالبہ کیا گیا لیکن نہ تو اس پر کوئی عدالتی کمیشن بنا اور نہ ہی اس واقعے میں ملوث لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا گیا۔ الٹا کچھ راویوں کے مطابق عبدالقیوم خان نے چلائی گئی گولیوں کی قیمت بھی مقتولین کے ورثاء سے وصول کی ۔ 

ڈاکٹر خان صاحب بڑے محب وطن پاکستانی تھے۔ انکے بیٹے خان سعداللہ خان آخر وقت تک حکومت پاکستان کے سروس میں رہے۔

باچا خان اور ڈاکٹر خان کے خاندان کے اصول پسندی کا ایک واقعی سن لیں ۔ 

عبدلعلی خان ولی خان کے بھائی اور باچان کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے ۔ مشہور ماہر تعلیم تھے۔ 
بحیثیت وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی تعینات تھے ۔ پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے لڑکے وی سی آفس سے عبدالقیوم خان کی تصویر ہٹانا چاہتے تھے۔ 
لیکن علی خان سینہ سپر ہوگئے کہ یہ کام میری لاش پر سے ہوکر ممکن ہو سکے گا ۔ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر ہم اس کے تعلیمی خدمات کو جھٹلا نہیں سکتے۔
عبدلعلی خان بعد میں سیکٹری تعلیم بھی رہے۔ 

جب ستر سال بعد نواز شریف کی حکومت عدالت کے ذریعے ختم کردی گئی تو پنجاب کے لوگوں کو معلوم ہؤا کہ ووٹ بھی کوئی شے  ہے اور اس کی بھی کوئی عزت ہوتی ہے ۔ 

 " غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے: ساتویں قسط

پاکستان بننے کے بعد اسکندر مرزا کو پہلا سیکٹری دفاع نامزد کردیا گیا۔ ستمبر کے پہلے ہفتے تک وزارت دفاع نے کراچی اور راولپنڈی میں کام شروع کر دیا تھا۔
اسکندر مرزا لیاقت علی خان کی قربت کی وجہ سے وزرات دفاع میں کرسی سنبھالنے میں تو کامیاب ہو ہی گئے ، ساتھ انہوں نے ایک اور کردار ایوب خان کو نظام حکومت میں متعارف کروایا۔ 

ایوب خان کون تھے ؟؟
ہری پور کے گاؤں ریحانہ میں پیدا ہونے والے ایوب خان کے والد میر داد خان انگریزوں کی فوج میں رسالدار میجر تھے۔ کچھ عرصہ ایوب خان نے علی گڑھ یونیورسٹی میں بھی گزارا مگر فوج میں کمیشن ملتے ہی وہ تعلیم نامکمل چھوڑ کر عسکری تربیت کے لیے سینڈ ہرسٹ اکیڈمی روانہ ہوگئے۔ دوسری عالمی جنگ کا اختتامی عرصہ برما کے محاذ پر گزارا۔
اس ضمن میں برٹش کامن ویلتھ آفس کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات میں ایک نوٹ یہ بھی شامل ہے کہ برما میں لیفٹیننٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد ان کے نائب لیفٹیننٹ کرنل ایوب خان کو رجمنٹ کی کمان سونپی گئی لیکن جنگی حکمتِ عملی میں بزدلانہ ناکامی کے سبب ان سے کمان واپس لے کر لیفٹیننٹ کرنل ہیو پیئرسن کے حوالے کردی گئی اور ناقص کارکردگی پر ایوب خان کی ملازمت سے چھٹی کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔ 

تقیسم کے زمانے میں امرتسر میں ہندو مسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تو وہ مہاراجہ پٹیالہ کی کسی محبوبہ پر ایسے ریجھے کہ اپنے فرائض سے غفلت برتی، 

 1948 میں قائداعظم نے فوجی افسر ایوب خان کو مہاجرین کی آبادکاری کی سلسلے میں سردار عبدالرب نشتر کی معاونت کی ذمہ داری دی۔
سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ
" ایوب خان نے مہاجرین کی بحالی کے سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور اس کا رویہ پیشہ وارانہ نہیں ہے" 

 اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا:
 ’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتا ہوں ۔
 وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کومشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا" 
کہا جاتا ہے کہ یہ خٖفیہ فائل آج تک کیبینٹ ڈویژن میں موجود ہے  اور اسے ابھی تک ڈی کلاسیفائی نہیں کیا گیا۔

ایوب خان کے دست راست الطاف گوہر اپنے سرگزشت 
" گوہر گزشت " میں لکھتے ہیں ، 
" قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا " 

ایوب خان نے بعد میں اس کا بدلہ قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دے کر لیا۔

قائد اعظم کی ان خدشات کے باوجود اسکندر مرزا نے ایوب خان کی سرپرستی جاری رکھی،

جنرل آصف نواز کے بھائی شجاع نواز نے اپنی کتاب 
"کراس سورڈز "  میں لکھا ہے کہ 
" جنرل ایوب کو پاکستان پر مسلط کرنے والے بھی اسکندر مرزا تھے۔ کیونکہ جب پاکستان میں انگریز جنرل کی جگہ مقامی جنرل کو آرمی چیف بنانے کی بات چل رہی تھی تو یہ اسکندر مرزا سیکرٹری دفاع تھے۔ انھوں نے ہی لیاقت علی خان کو قائل کیا کہ جونئیر موسٹ جنرل ایوب خان کو پرموشن دے کر آرمی چیف بنایا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ اسکندر مرزا سمجھتے تھے جنرل ایوب ان کے احسان تلے دبے رہیں گے۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا اور ایوب خان نے اپنے محسن سے اقتدار چھین کر اسے ملک بدر کر دیا" 

ایوب خان کی قابلیت کا اندازہ آپ اس سے لگائیں کہ 
سنہ 1969 میں ایوب خان کی صدارت سے سبک دوشی کے لگ بھگ ڈیڑھ ماہ بعد برٹش ہائی کمیشن نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کو جو نوٹ بھیجا اس کے مطابق ایوب خان عسکری حکمتِ عملی کے حساب سے اوسط درجے کے افسر تھے۔ روزمرہ گفتگو میں بھی وہ اپنی سابقہ فوجی زندگی کا تذکرہ اکثر ٹال جاتے اور دورے پر آنے والے فوجی افسروں سے ملاقات کے بھی خاص متمنی نہیں رہتے تھے، مبادا ان کا عسکری عِلم آشکار نہ ہو جائے ۔

قائد اعظم کی وفات کے بعد ایوب خان اسکندر مرزا کی مدد سے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور 1950 میں جی ایچ کیو میں ایجوٹنٹ جنرل بن گئے۔ حالانکہ جب پاکستان بنا تو بریگیڈیئر ایوب خان سنیارٹی کے اعتبار سے دسویں نمبر پر تھے یہ فوج میں ایک اہم پوزیشن تھی۔ اس منصب کی وجہ سے وہ طاقت کے مراکز کے قریب ہوگئے۔
سنہ 1951 میں انھیں لیفٹیٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پہلے چیف آف جنرل سٹاف جنرل افتخار خان 
(میجر جنرل اکبر خان کے بھائی) کا نائب بنا دیا گیا، 

جنرل گریسی کے بعد سنیارٹی کے اعتبار سے جنرل افتخار خان کو ہی بری فوج کا پہلا مقامی سربراہ بننا تھا لیکن وہ ایک اعلیٰ عسکری کورس میں شرکت کے لیے انگلستان جاتے ہوئے 13 دسمبر 1949 کو ہوائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ 
گو نئے ملک میں سنیارٹی کے اعتبار سے میجر جنرل اکبر خان سب سے تجربہ کار افسر تھے اور انہوں نے کشمیر کی جنگی منصوبہ بندی میں خاصا اہم کردار بھی ادا کیا لیکن وہ اور جنرل گریسی ایک دوسرے سے خوش نہیں تھے۔

چنانچہ جنرل گریسی ریٹائر ہوئے تو اسکندر مرزا کی پرزور سفارش پر ایوب خان کو اگلے دن فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر بری فوج کی سربراہی سونپ دی گئی۔ 
گو کہ پاک فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل گریسی نے اپنی مدت ختم ہونے پر ایوب خان کو نیا کمانڈر ان چیف بنانے کی سفارش کی، تاہم وزیراعظم کو انتباہ کیا کہ اس کی سیاسی خواہشات پر نظر رکھی جائے،

جنرل گریسی کے سابق اے ڈی سی میجر جنرل ریٹائرڈ وجاہت حسین کے بقول سنہ 1956 کے اوائل میں جب ان کی گریسی سے لندن میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے چھوٹتے ہی پوچھا ’ایوب ملک پر کب قبضہ کر رہا ہے ؟‘
گریسی کے بقول انہوں نے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو خبردار کردیا تھا کہ ذرا دھیان رکھنا، ایوب خان کے ارادے خطرناک ہیں۔ 

راولپنڈی سازش کیس : 

1951 میں راولپنڈی سازش کیس کا انکشاف ہؤا جس میں گیارہ فوجی اہلکار اور کچھ سویلین افراد کو نامزد کیا گیا۔ 
 فوجی افسران میں میجر جزل اکبر علی خان، میجر محمد یوسف سیٹھی، کپٹن پوسنی، برگیڈئر ایم اے لطیف خان، کرنل محمد صدیق راجہ، کیپٹن انیاز احمد ارباب، کرنل ضیا الدین، کپٹن حسن علی، لیفٹنٹ کرنل نذیر احمد، گروپ کپٹن محمد خان جنجوعہ اورمیجر خواجہ شریف تھے ۔ 
جبکہ سویلین لوگوں میں سجاد ظہیر، فیض احمد فیض، زعیم ،نقیب، محمد حسن عطا، غیور احمد ، بیگم نسیم شاہنوازخان { میجر جزل اکبر علی خان کی اہلیہ} وغیرہ تھے۔

وجوہات اور کردار :
اس سازش کے دو قسم کے کردار تھے ،

ایک جرنل اکبر خان  کی سربراہی میں وہ دل برداشتہ فوجی آفیسر تھے جن کو جہاد کشمیر میں ناکامی کا رنج تھا۔ جرنل اکبر خان، میجر جنرل نذیر احمد اور  میجر جنرل اشفاق المجید  تینوں جنرل ایوب خان سے سینئیر تھے اور تینوں نے کشمیر کی لڑائی میں بھرپور کردار ادا کیا تھا۔
قصہ یوں کہ پاکستان کے قیام کے بعد کشمیر کی لڑائی میں فوجیوں نے انڈین آرمی کو پسپا کردیا تھا۔ اس وقت جنرل اکبر خان جو " جنرل طارق " کے کوڈ نام سے کمانڈ کر رہے تھے، 
ان کے خیال میں وہ سری نگر کے اڈے تک پہنچ گئے تھے اور تقریباً پورا کشمیر  فتح ہونے کے قریب تھا۔ لیکن وزیر اعظم لیاقت علی خان اور کمانڈر انچیف جنرل گریسی نے فوج کو مطلوبہ اخلاقی اور لاجسٹک مدد فراہم نہیں کی اور عین اس وقت جب سری نگر فتح ہونے والا تھا ان لوگوں نے جنگ بندی کا اعلان کردیا۔

ان ہی خیالات کی وجہ سے جنرل گریسی نے اکبر خان کی بجائے ایوب خان کو چیف بنانے کی سفارش کی۔ 
یاد رہے راولپنڈی سازش کیس میں نامزد  میجر محمد حسن  نے ڈوگرا کی فوج سے شمالی علاقے بشمول گلگت بلتستان آزاد کروائے تھے۔

سازش کے دوسرے کردار فیض احمد فیض اور سجاد ظہیر جیسے بائیں بازو کے انقلابی دانشور تھے جن کی پاکستان کیمونسٹ پارٹی کو لیاقت علی خان نے کالعدم قرار دیا تھا۔ ان کے خیال میں لیاقت علی خان نے کا جھکاؤ امریکہ کی جانب تھا اور اس نے روس کے دورے کی دعوت ٹکرا کر ملک کو امریکی کالونی بنانے کی کوشش کی تھی ۔

سازش کی مبینہ  کہانی :

 بتایا گیا کہ 23 فروری 1951ء کو میجر جنرل اکبر خان اور انکی اہلیہ نے اپنے گھر پر ایک دعوت کا اہتمام کیا جس میں چند فوجی افسران اور بیگم نسیم کے ہمراہ تین دیگر سیولین شہری موجود تھے، جن میں فیض احمد فیض، سجاد ظہیر اور محمد حسین عطاء شامل تھے۔ عسکری شرکاء میں زعیمِ نقیب صدیق راجہ اور میجر محمد یوسف سیٹھی بھی شامل تھے، اس ملاقات میں اکبر خان نے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا۔ ان دونوں کی راولپنڈی آمد ایک ہفتہ تک متوقع تھی۔ اس منصوبے کے تحت، گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کو مجبور کیا جانا تھا کہ وہ لیاقت علی خان کی حکومت کو بر طرف کر کہ ایک عبوری حکومت کی تشکیل کا اعلان کریں جس کے سربراہ خود جنرل اکبر خان ہوں گے۔

سازش کا انکشاف : 
ایوب خان کہتے ہیں ،
" جنرل گریسی نے رخصت ہوتے وقت مجھ سے زیادہ تو کچھ نہیں کہا بس اتنی سی بات کی تھی کہ فوج میں ایک ’’ینگ تُرک‘‘ پارٹی موجود ہے۔ میں نے وضاحت چاہی تو اس نے کہا کہ اکبر خان جیسے چند مخصوص لوگ ہیں۔ دو یا تین مہینے بعد اکبر سازش کا انکشاف ہوا۔ مجھے اس سازش کا علم وزیراعظم لیاقت علی خان سے ہوا۔ وہ اس وقت انتخابی مہم پر تھے اور انہوں نے مجھے اور سکندر مرزا کو سرگودھا ریلوے سٹیشن پر ملاقات کے لیے طلب کیا اور کہا

 ’جنٹلمین! میرے پاس آپ کے لیے ایک بدخبری ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ فوجی افسروں نے حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا ہے اور وہ بہت جلد اس کو عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں‘ میں نے فوراً تفصیلات مانگیں۔ انہوں نے مجھے صوبہ سرحد کے گورنر آئی آئی چندریگر کی بھیجی ہوئی رپورٹ دی "

مقدمہ : 
ملزمان پر ایک خصوصی عدالت میں خفیہ مقدمہ چلایا گیا۔ 
عدالت نہ فوجی تھی اور نہ سول ۔ 
حسین شہید سہروردی نے ملزمان کی وکالت کی ۔

فیض احمد فیض کی بیٹی سلیمہؔ فیض نے فیضؔ کی گرفتاری سے لے کر جیل میں اُن کے ساتھ پہلی ملاقات کی داستان کچھ یوں بیان کی ہے ۔

’’ہم بہت گلے ملے، بہت پیار کیا اور چلتے وقت ابّو سے پوچھا آپ نے کیا کیا ہے۔ بولے بکواس کرتے ہیں، کچھ بھی نہیں کیا۔ جلد آ جائیں گے۔ سب جھوٹ اور فراڈ ہے"

 فیض احمد فیض نے عدالت میں کچھ یوں بیان دیا۔

" چونکہ ہم فوج میں رہ چکے تھے اس لیے بہت سے فوجی افسر ہمارے دوست تھے۔ ان سے ہمارے ذاتی مراسم تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن سے ہمارے سیاسی نظریات ہم آہنگ تھے۔ قصّہ صرف اتنا تھا کہ ہم لوگوں نے ایک دن بیٹھ کر بات کی کہ اس ملک میں کیا ہونا چاہیے؟ کس طریقے سے یہاں کے حالات بہتر بنائے جائیں، چونکہ ملک کو بنے ہوئے چار پانچ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور نہ یہاں آئین بنا تھا، نہ سیاست کا ڈھانچہ ٹھیک طریقے سے منظم ہوا تھا۔ ملک کی برّی، بحری اور ہوائی افواج کے سربراہ لیاقت علی خان تھے۔ کشمیر کاقصّہ بھی تھا۔ غرض یہ کہ اس طرح کے مسائل تھے جن پر عموماً گفتگو رہتی تھی۔ چونکہ ان دوستوں سے میرے ذاتی مراسم تھے اس لیے ہم بھی ان کی گفتگو میں شریک ہوتے تھے۔ انہوں نے خود ہی ساری منصوبہ بندی کی اور ہم سے کہا ہماری بات سنیے۔ ہم نے اُن کی بات سُن لی، پھر انہوں نے خود ہی فیصلہ کیا کہ حکومت کا تختہ نہیں اُلٹنا ہے… لیکن ہم پر مقدمہ اس کے برعکس بنایا لیکن استغاثہ کے انچارج نے ہمیں بتایا کہ آپ لوگوں کی ساری باتیں ٹھیک تھیں یعنی یہ کہ آپ لوگ ملے تھے، آپ نے گفتگو کی تھی، آپ نے طے کیا تھا کہ حکومت کا تختہ نہیں اُلٹنا ہے۔ ہم نے صرف اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا تھا کہ "  آپ نے حکومت کا تختہ اُلٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے" 

فیض نے اپنی شاعری میں اس کا ذکر کچھ یوں بیان کیا ہے۔ 
"وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات اُن کو بہت ناگوار گزری ہے
دل مدعی کے حرفِ ملامت پہ شاد ہے
اے جانِ جاں یہ حرف تیرا نام ہی تو ہے "

سازش کے دوسرے اہم کردار سجاد ظہیر کے بقولِ 

’جنرل اکبر خان کے اصرار پر ایک دن فیض احمد فیضؔ اور میں راولپنڈی گئے۔ وہاں ایک میٹنگ ہوئی جس میں پندرہ فوجی افسر تھے۔ میرے اور فیضؔ کے علاوہ محمد حسین عطا بھی موجود تھے۔ اس میٹنگ میں جنرل اکبر خان نے بغاوت کی پوری اسکیم پیش کی، جس پر گفتگو ہوئی۔ بعض افسروں نے مشورہ دیا کہ ابھی بغاوت مناسب نہیں ہے۔ صورتِ حال کا جائزہ لے کر میں نے مشورہ دیا کہ ابھی بغاوت نہ کیجیے۔ اکبر خان نے میرا مشورہ مان لیا اور معاملہ تقریباً ختم ہو گیا"

اس واقعے کے ایک اور کردار ظفر اللہ پوشنی نے انکشاف کیا کہ اس رات پنڈی سازش کیس کے ارکان کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے تھے۔ فیض اور سجاد ظہیر بھی اس غیر جمہوری عمل کے حق میں نہیں تھے، انھوں نے اس کے خلاف دلائل دیئے آٹھ گھنٹے کی تند و تیز بحث و تمحیص کے بعد بالآخر جنرل اکبر خان کے پیش کردہ منصوبے کو ناقابلِ عمل سمجھ کر رد کر دیا گیا۔ 

 حقیقت کیا تھی ؟؟؟: 
یہ سازش ابھی تک صیغہ راز ہی ہے ،
لیکن ملزمان کے بیانات اور مقدمے کی کاروائی سے یہی اخذ  کیا جا سکتا ہے کہ حکومت اور فوجی قیادت کے کردار کے بارے میں بے چینی ضرور تھی اور ہم خیال لوگوں کے درمیان تبادلہ خیال بھی ہوتا رہا ۔ لیکن تختہ الٹنے کا باقاعدہ پلان نہیں بنا ۔ لیکن مستقبل کے خطرے سے نجات کے لیئے ایوب خان اور اسکندر مرزا نے خود ہی اس میٹنگ کو بہانہ بنا کر سازش کا کیس بنا دیا۔ کیونکہ اس کے تینوں سرکردہ جنرلز ایوب خان سے سئنیر تھے۔ 
جنرل اکبر خان برصغیر کے پہلے مسلمان جرنیل اور قائد اعظم کے پہلے ملٹری سیکرٹری تھے۔ 
اس کا ملٹری نمبر PA-1 تھا ۔ 

اگر صرف حکومت کے بارے میں گفتگو ہی جرم تھا تو پھر ایوب خان کے خیالات ان سب سے زیادہ خطرناک تھے۔ 
اس واقعہ سے چند ماہ قبل  اپنے لندن کے دورہ کے دوران ایوب خان نے میجر جنرل شیر علی کو مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے وقت مطلع کیا تھا کہ:

’’اس فوج نے اُس سے بہت عظیم تر اور وسیع تر کردار سرانجام دینا ہے جس کی لوگ اس سے توقع رکھتے ہیں۔ آج کی صورتِ حال میں ہمارے ملک میں کمانڈر انچیف دراصل وزیراعظم سے زیادہ اہم شخصیت ہے" 

1954 میں ہائیکورٹ نے سب ملزمان کو ضمانت پر رہا کر دیا ، سجاد ظہیر کو بھارت جلاوطن کر دیا گیا۔

کمانڈر انچیف بننے کے بعد ان کے سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا اور گورنر جنرل غلام محمد کے ساتھ گاڑھی چھننے لگی کیونکہ تینوں سیاستدانوں سے بیزار تھے۔ اس اثر و رسوخ کے سبب یہ معجزہ بھی ہوا کہ اکتوبر 1954 میں محمد علی بوگرہ کی کابینہ میں حاضر سروس کمانڈر انچیف کو دس ماہ کے لیے وزیرِ دفاع کا قلم دان بھی مل گیا ۔

 " غداروں کی تاریخ" 
تاریخ کے جھروکوں سے: آٹھویں قسط

1948 سے 1958 تک کا ہنگامہ خیز دور:

آزادی ملنے کے بعد ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجرز کا سامنا تھا ، آئین کی غیر موجودگی میں ملک کو 1935 کے  ایکٹ کے تحت چلایا جارہا تھا۔

آئینی بحران  :

پاکستان بننے کے بعد سب سے پہلا کام ایک نئے آئین کی تشکیل ہونا چاہیے تھا۔ لیکن آئین کی تشکیل ، نئے انتخابات کا انعقاد اور جہموری نظام کا قیام یہاں کے صاحبانِ اقتدار کو منظور نہیں تھا۔ 
اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قائد اعظم اور اس کے چند ساتھیوں کے علاؤہ مسلم لیگ کی بیشتر قیادت موقع پرست جاگیرداروں پر مشتمل تھی ۔ 
اور انہوں نے مسلم لیگ کا قافلہ تب چنا جب کانگریس نے زمینی اصلاحات کا اعلان کیا۔ ہندوستان میں رہتے تو جاگیریں ضبط ہونے کا ڈر تھا۔

مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی اور وہاں جاگیردارانہ نظام بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ تحریک پاکستان میں ان کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش تھیں۔ 
اب اگر آئین تشکیل پاتا اور الیکشن ہوتے تو یقیناً مشرقی پاکستان والوں کو اکثریت ملتی جو کہ اس ملک کے اشرافیہ کو منظور نہیں تھا۔ 
دوسری جانب تحریک پاکستان کے لئے قوم کو بیوقوف بنانے کر ان کے دینی جذبات کو ابھارا گیا،
پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ کا نعرہ لگایا گیا۔ 
اب عوام کو مطمئن کرنے کے لیے قردار مقاصدِ کا معجون تیار ہوا۔ 
ورنہ اس وقت کی قیادت گوروں اور ہندوؤں سے ذیادہ اسلام بیزار اور لبلرل تھی۔ 
ایسا کون سا غیر اسلامی فعل تھا جو دہلی اور لندن میں جائز اور یہاں ناجائز تھا، 
اور ایسی کونسی قباحتیں تھیں جو ہندوستان اور انگلستان میں تو موجود تھیں لیکن یہاں ناپید تھیں۔

جس طرح آج کل نئے پاکستان کے قیام کے لیے چند مولویوں کو ساتھ ملا کر ریاست مدینہ کا چورن بیچا جارہا ہے،
مذہب کا یہی حربہ پرانے پاکستان کے لئے بھی آزمایا گیا، 
اور جتنا تعلق آج کے خلیفہ کا ریاست مدینہ کے ساتھ بنتا ہے اتنا ہی لگاؤ اس وقت کے مسلم لیگیوں کا پاکستان کے مطلب کے مطلب کے ساتھ تھآ۔

آکسفورڈ اور کیمبرج سے فارغ التحصیل تاج برطانیہ کے ان وفاداروں کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم تھی کہ اس جذباتی قوم میں اور کچھ بکے یا نہ بکے مذہب کا چورن ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔ یہی سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ 

قرارداد مقاصد کے بارے میں خود اسکندر مرزا کے خیالات کچھ یوں تھے۔ 

" میں اگرچہ  وزیر اعظم کی حیثیت سے لیاقت علی خان کا معترف ہوں اور ان کی عزت کرتا ہوں کہ وہ بے غرض اور محب وطن تھے لیکن ایک سلسلے میں مجھے ان پر کچھ شک سا رہا کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کا مطالبہ کرنے والوں کو خوش کرنے کے لیے انہوں نے قراردادِ مقاصد پیش کی تھی (جو یہاں سے شروع ہوئی تھی ’ہرگاہ کہ پوری کائنات پر اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کی ذات کو ہی حاصل ہے) اس قرارداد سے میری رائے میں پاکستان کو بہت نقصان پہنچا۔ یہ قرارداد ملاؤں کے لیے ایک تحفہ تھی جس نے مذہبی جنون کو ہوا دی، میں نے جب قائد ملت سے پوچھا کہ انہوں نے یہ قرارداد پیش کرنا کیوں ضروری سمجھا، ان کا جواب سن کر میں حیران رہ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے انہیں اس کی ضرورت تھی۔ ‘‘

آئینی بحران کے مہلک اثرات : 
اس آئینی بحران کے انتہائی مہلک اثرات سامنے آئے۔ 
شائد آج کی نسل کو یہ معلوم نہیں کہ آئینی لحاظ سے 14 اگست 1947 کو پاکستان آزاد ہی نہیں ہؤا۔ 
آئینی طور پاکستان آزاد جمہوریہ کی بجائے تاج برطانیہ کی ایک اکائی کی حثیت رکھتا تھا۔ 
خود گورنر جنرل کا عہدہ آزاد نہیں تھا ، 

گورنر جنرل آف پاکستان :
1947ء میں قیام پاکستان کے بعد بھارت کی طرح پاکستان میں بھی تعزیرات ہند 1935ء کے قوانین کا تسلسل جاری رہا جس کے تحت آئین کی تیاری تک آئینی بادشاہت جاری رہے ۔ 
اس میں شاہ وزير اعظم کی مشاورت سے گورنر جنرل کا تقرر کیا کرتا تھا اور گورنر جنرل ملک میں شاہ/ملکہ کا نمائندہ ہوتا تھا۔ 
گورنر جنرل قیام پاکستان کے بعد تاج برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت سے ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ تھا اور حلف لینے کے بعد پاکستان کا منتخب وزیراعظم بھی گورنر جنرل کے ماتحت ہوتا تھا۔
گورنر جنرل کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ کسی بھی قانونی بل کو آگے بڑھا سکتا تھا،
طرف تماشا یہ تھا کہ بادشاہ وزیر اعظم کے مشورے سے گورنر جنرل کی تعیناتی کرتا تھا، جبکہ دوسری جانب طاقتور گورنر جنرل وزیر اعظم کو ایک منٹ میں گھر بھیجنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ 
گورنر جنرل 1947ء سے 1952ء تک شاہ جارج ششم اور 1952ء سے 1956ء تک ملکہ ایلزبتھ دوم کا نمائندہ قرار دیا جاتا تھا۔
23 مارچ 1956 کو آئین کی منظوری کے بعد گورنر جنرل کا عہدہ ختم کرکے صدر کا عہدہ لایا گیا۔
گورنر جنرل اسکندر مرزا ملک کے پہلے صدر قرار پائے، 
اور اسی روز پاکستان ڈومینین سے جمہوریہ بن گیا۔
 گورنر جنرل محمد علی جناح اپنی وفات 11 ستمبر 1948ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔

قائد کے بعد :

قائدِ اعظم کے وفات کے بعد نواب آف ڈھاکہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے خواجہ ناظم الدین نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھال لیا۔  تقسیم ہند سے قبل خواجہ ناظم الدین بنگال کی وزارت اعظمیٰ کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل ایک سیاسی شخصیت تھے ، انہوں نے تحریک پاکستان میں بیشمار قربانیاں دی تھیں۔۔
اکتوبر 1951 میں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد  خواجہ ناظم الدین سے زبردستی گورنر جنرل کا عہدہ لیکر اسے  وزیر اعظم کی کرسی دے دی گئی۔ 
اور یوں خواجہ صاحب پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور دوسرے وزیر اعظم قرار پائے۔
جوں ہی خواجہ ناظم الدین نے وزارت عظمیٰ کی کرسی سنبھالنے کے لیے گورنر جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دیا تو آئین ساز اسمبلی کی کابینہ نے وزیر خزانہ ملک غلام محمد کو ملک کا تیسرا گورنر جنرل نامزد کر دیا۔
غلام محمد کا نہ تو مسلم لیگی سیاست سے تعلق تھا اور نہ ہی وہ سیاسی کارکن تھے۔ وہ ایک بیوروکریٹ تھے۔ 
موصوف کے نواب آف بہاولپور اور نظام حیدرآباد کے ساتھ اچھے مراسم تھے جن کے ذریعے  قائد اعظم محمد علی جناح تک رسائی حاصل کی اور کابینہ میں وزرات خزانہ کی کرسی سنبھالنے میں کامیاب ہوئے۔ 

یہی وہ دور تھا جس میں گورنر جنرل غلام محمد ، چیف آف سٹاف ایوب خان اور وزیر دفاع اسکندر مرزا کا ٹرائیکا بنا ۔ تین غیر سیاسی اور جمہوریت بیزار لوگ تھے۔ ایسے وقت میں خواجہ ناظم الدین جیسے سیاسی شخصیت کی بطور وزیراعظم تقرری ان کے لیے درد سر بنی ہوئی تھی۔

آخر کار 1953 میں بیوروکریٹ سے گورنر جنرل بننے والے غلام محمد نے پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کو گھر  بھیج دیا اور قانون اسمبلی توڑ دی۔
گورنر جنرل کے اس اقدام کو آئین ساز اسمبلی کے صدر مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور عدالت نے تمیز الدین کے حق میں فیصلہ سنا دیا، لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر کے گورنر جنرل کے اقدام کو قانونی تحفظ فراہم کر دیا۔
پاکستان کو سیاسی طور پر پہلا بڑا جھٹکا بیوروکریٹ غلام محمد نے دیا'،
اور عدالت عظمیٰ نے پاکستان کے پہلے غیر آئینی اقدام کو  آئینی جواز بھی فراہم کر کے آئین شکنی کی بنیاد رکھی۔

صرف یہی نہیں بلکہ گورنر جنرل نے نواب خاندان سے تعلق رکھنے والے امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر محمد علی بوگرہ کو وزرات عظمیٰ کے لیے نامزد کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ وہی محمد علی بوگرہ ہیں جو اُردو زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے کے مخالفت تھے جس پر اُنہیں پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے سیاست سے الگ کر کے سفارتی مشن پر برما بھیج دیا تھا، اب یہی محمد علی بوگرہ پاکستان کے تیسرے وزیر اعظم بن گئے تھے۔

بدقسمتی سے اسٹبلشمنٹ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی بنا پر 
 گورنر جنرلوں اور پہلے تین وزراء اعظم کی تعیناتی میں جمہوری اُصولوں کی خلاف ورزیاں کی گئیں اور پھر ان غیر جمہوری فیصلوں کے نتائج پوری قوم کو بھگتنا پڑے۔ 

محمد علی بوگرہ نے  وزارت عظمیٰ کے عہدے پر کام شروع کیا تو وہ خود کو مضبوط وزیر اعظم بنانا چاہتے تھے، چنانچہ اپنے رفقائے کار کے ساتھ مل کر اُنہوں نے گورنر جنرل کے قانونی اختیارات کو محدود کرنے کا منصوبہ بنایا اور انڈین انڈیپنڈینس ایکٹ1947 میں ترمیم کرنے کا فیصلہ کیا۔
دستور ساز اسمبلی میں قرار داد پیش کی گئی جس کے مطابق ایکٹ کے آرٹیکل 9 ,10, 10B ,10A اور آرٹیکل 17 کو منسوخ کرنے کی تجویز دی گئی جسے اسمبلی نے فوری طور پر منظور کر لیا۔ اس قرار داد کی منظوری کے بعد اب گورنر جنرل کو یہ قانونی اختیار نہیں تھا کہ وہ منتخب وزیر اعظم کی چھٹی کروا سکیں۔

 وزیر اعظم محمد علی بوگرہ خود  ایوب خان، سر ظفر اللہ خان، اسکندر مرزا اور چوہدری محمد علی کو ساتھ لیکر امریکہ کے دورے پر روانہ ہوئے۔ لیکن ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے باعث دورہ امریکہ ادھورا چھوڑ کر واپس پاکستان پہنچے۔ گورنر جنرل غلام محمد  نے 1954 میں دستور ساز اسمبلی کو ایگزیکیٹو اختیارات استعمال کرتے ہوئے تحلیل کر دیا۔
اس دوران غلام محمد بیمار ہوکر دو مہینے کی چھٹی پر برطانیہ چلے گئے تاکہ اپنا علاجِ کراسکیں۔ اور گورنر جنرل کا عہدہ میجر جنرل ریٹائرڈ اسکندر مرزا کو سونپ دیا گیا۔

اور یوں غدار میر جعفر کا پڑپوتا اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے طاقتور عہدے پر فائز ہوا۔ 

(جاری ہے)
[14/03, 6:58 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے: نویں قسط

گورنر جنرل بنتے ہی اسکندر مرزا نے سب سے پہلے محمد علی بوگرہ کا بوریا بستر گول کیا جس کے سر پر طاقتور وزیراعظم بننے کا بھوت سوار تھا اور اس کے لئے وہ قانونی کوششیں بھی کرچکے تھے۔

ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے گورنر جنرل اسکندر مرزا نے قوم کو تسلی دی کہ 
" ملکی سیاسی عدم استحکام کے پیش نظر وزیر اعظم کی چھٹی کروائی گئی ہے" 

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ 1947 سے 1958 تک جس دور کو ہم جمہوری دور سے یاد کرتے ہیں وہ حقیقت میں کتنا جمہوری تھا اور وہاں فیصلے کون کیا کرتا تھا۔ 

محلاتی سازشوں کے اس دور کے ساتھ جمہور اور عوام کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اور پھر اسی طوائف الملوکی کے زمانے کو ناکام جمہوریت کا نام دے کر مارشل لاء کو جائز قرار دیا گیا۔ 

چشم دید گواہ قدرت اللہ شہاب محلاتی سازشوں کے اس دور کو اپنے شہاب نامے میں یوں بیان کرتے ہیں۔ 

" اسکندر مرزا کو گورنر جنرل بنے تین روز ہوئے تھے کہ شام کے پانچ بجے مجھے گھر پر مسٹر سہروردی نے ٹیلی فون کر کے پوچھا، 
'پرائم منسٹر کے طور پر میرا حلف لینے کے لیے کون سی تاریخ مقرر ہوئی ہے؟'
یہ سوال سن کر مجھے بڑا تعجب ہوا کیوں کہ مجھے اس کے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔ یہی بات میں نے انھیں بتائی تو مسٹر سہروردی غصے سے بولے،
 'تم کس طرح کے نکمے سیکریٹری ہو؟ فیصلہ ہو چکا ہے اب صرف تفصیلات کا انتظار ہے۔ فوراً گورنر جنرل کے پاس جاؤ اور حلف لینے کی تاریخ اور وقت معلوم کر کے مجھے خبر دو۔ میں انتظار کروں گا۔'
مجبوراً میں اسکندر مرزا صاحب کے پاس گیا۔ وہ اپنے چند دوستوں کے ساتھ برج کھیل رہے تھے۔ موقع پا کر میں انھیں کمرے سے باہر لے گیا اور انھیں مسٹر سہروردی والی بات بتائی۔ یہ سن کر وہ خوب ہنسے اور اندر جا کر اپنے دوستوں سے بولے، 
'تم نے کچھ سنا؟ سہروردی وزیرِ اعظم کا حلف لینے کا وقت پوچھ رہا ہے۔`
اس پر سب نے تاش کے پتے زور زور سے میز پر مارے اور بڑے اونچے فرمائشی قہقہے بلند کیے۔ کچھ دیر اچھی خاصی ہڑبونگ جاری رہی۔
اس کے بعد گورنر جنرل نے مجھے کہا، 
'میری طرف سے تمہیں اجازت ہے کہ تم سہروردی کو بتا دو کہ حلف برداری کی تقریب پرسوں منعقد ہو گی اور چودھری محمد علی وزیرِ اعظم کا حلف اٹھائیں گے۔'

وہاں سے میں سیدھا مسٹر سہروردی کے ہاں پہنچا اور ان کو یہ خبر سنائی۔ ایسا دکھائی دیتا تھا کہ ان کے ساتھ کچھ وعدے وعید ہو چکے تھے۔ اس نئی صورتِ حال پر وہ بڑے جھلائے اور میرے سامنے انھوں نے بس اتنا کہا، 
'اچھا، پھر وہی محلاتی سازشیں"

اس کا مطلب ہے کہ یہاں اصول اور قانون نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ چند مفاد پرستوں کا ٹولہ تھا جو ایک دوسرے کو دھکے اور دھوکے دیتے ہوئے اقتدار کی کرسی پر قبضے کے لئے کوشاں تھا۔

جس محمد علی بوگرہ کو اسکندر مرزا نے وزرات عظمیٰ سے معزول کردیا اسی بوگرہ کی حکومت میں اسکندر مرزا بطور وزیر داخلہ، وزیر دولت مشترکہ ،وزیر امور کشمیر اور بطور گورنر خدمات سر انجام دے چکے تھے۔ 

 معزول وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو واپس امریکا میں دوبارہ سفیر بنا کر بھیج دیا گیا۔
مطلب پہنچی وہاں ہے خاک جہاں کا خمیر تھا۔

12 اگست 1955 کو بیوروکریٹ چودھری محمد علی نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔
اور یوں ایک بار پھر ایک سول سرونٹ کو وزارت عظمیٰ کے عوامی عہدے پر تعینات کردیا گیا۔

چودھری محمد علی : 

چودھری محمد علی تقسیم سے قبل برطانوی راج کے دور میں اکاؤنٹنٹ کے عہدے پر فائز تھے ،آزادی کے بعد انہوں نے بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں۔ وہ تقسیمِ ہند کے بعد متحدہ پاکستان کے چیف سیکریٹری بنے۔ 

اسکندر مرزا کی طرح چودھری محمد علی کا شمار بھی لیاقت علی خان کے بہت قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ 
وہ 1947 سے لیکر 1958 تک کے محلاتی سازشوں میں شریک ہوں یا نہ ہوں، ان واقعات کے عینی گواہ ضرور تھے، 

لیاقت علی خان جب قائد اعظم سے آخری ملاقات کے لیے گئے تو چودھری صاحب بھی ہمراہ تھے۔

اس ملاقات کا ذکر محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب
 " میرا بھائی" میں کچھ یوں بیان کیا ہے۔

" جولائی کے آخر میں ایک روز وزیراعظم نواب لیاقت علی خان اور سیکریٹری جنرل مسٹر محمد علی اچانک زیارت پہنچ گئے۔ ان کے آنے کی پہلے سے کوئی اطلاع نہ تھی۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہٰی بخش سے پوچھا کہ قائد اعظم کی صحت کے متعلق ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں مس فاطمہ جناح نے یہاں بلایا ہے، اس لیے وہ اپنے مریض کے متعلق کوئی بات صرف انہی کو بتا سکتے ہیں۔
نواب صاحب نے زور دیا کہ
 ’وزیر اعظم کی حیثیت سے میں قائد اعظم کی صحت کے متعلق متفکر ہوں‘۔
ڈاکٹر نے ادب سے جواب دیا۔
 ’جی ہاں، بے شک۔ لیکن میں اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں بتا سکتا‘۔

جب مس فاطمہ جناح نے قائد اعظم کو وزیراعظم کی آمد کی اطلاع دی، تو وہ مسکرائے اور فرمایا؛

’تم جانتی ہو وہ کیوں آئے ہیں؟ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور میں کتنا عرصہ زندہ رہ سکتا ہوں۔ تم نیچے جاؤ اور پرائم منسٹر سے کہہ دو کہ میں انہیں ابھی ملوں گا۔‘

فاطمہ جناح نے کہا
 ’اب کافی دیر ہو گئی ہے۔ کل صبح ان سے مل لیں۔‘

’نہیں‘ 
قائد اعظم نے فرمایا۔ 
’انہیں ابھی آنے دو، اور بچشم خود دیکھ لینے دو۔‘

وزیر اعظم آدھے گھنٹے کے قریب قائد اعظم کے پاس رہے۔

 اس کے بعد جب فاطمہ اندر گئیں، تو قائد اعظم بے حد تھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے کچھ جوس مانگا اور پھر چوہدری محمد علی کو اپنے پاس بلایا۔ سیکریٹری جنرل پندرہ منٹ تک قائد اعظم کے ساتھ رہے۔ اس کے بعد مس فاطمہ جناح دوبارہ قائد اعظم کے کمرے میں گئیں اور پوچھا کہ
"  کیا وہ جوس یا کافی پینا پسند کریں گے؟" 
قائد اعظم نے جواب نہ دیا،
 کیونکہ وہ کسی سوچ میں محو تھے۔ اب ڈنر کا وقت آگیا تھا۔
قائد اعظم نے مس فاطمہ جناح سے فرمایا،
 ’بہتر ہے کہ تم نیچے چلی جاؤ اور ان کے ساتھ کھانا کھاؤ۔‘

’نہیں‘ فاطمہ جناح نے اصرار کیا۔
 ’میں آپ کے پاس ہی بیٹھوں گی اور یہیں پر کھانا کھا لوں گی‘۔
’نہیں‘،
 قائد اعظم نے کہا،
 ’یہ مناسب نہیں۔ وہ یہاں پر ہمارے مہمان ہیں۔ 
جاؤ اور ان کے ساتھ کھانا کھاؤ۔‘

مس فاطمہ جناح لکھتی ہیں کہ کھانے کی میز پر انہوں نے وزیراعظم کو بڑے خوشگوار موڈ میں پایا۔
 وہ پرمذاق باتیں کرتے رہے، جب کہ مس فاطمہ کا اپنا دل اپنے بھائی کے لیے خوف سے کانپ رہا تھا، جو اوپر کی منزل میں بستر علالت پر اکیلے پڑے تھے۔ کھانے کے دوران چوہدری محمد علی چپ چاپ کسی سوچ میں گم رہے۔

کھانا ختم ہونے سے پہلے ہی مس فاطمہ جناح اوپر چلی گئیں۔ انہوں نے بڑے ضبط سے اپنے آنسوؤں کو روک رکھا تھا۔ قائد اعظم انہیں دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا، 
’فطی، تمہیں ہمت سے کام لینا چاہیے۔‘

اس واقعے کے دو ڈھائی ہفتے بعد چودہ اگست کو پاکستان کی آزادی کی پہلی سالگرہ آئی۔ اپنی کمزوری صحت کے باوجود یوم پاکستان پر قائد اعظم نے قوم کے نام بڑا ولولہ انگیز پیغام جاری کیا۔

فاطمہ جناح نے اپنے مسودے میں لکھا ہے کہ یوم پاکستان کے چند روز بعد وزیر خزانہ مسٹر غلام محمد قائد اعظم سے ملنے کوئٹہ آئے۔ لنچ کے وقت وہ ان کے ساتھ اکیلی بیٹھی تھیں تو مسٹر غلام محمد نے کہا،

 ’مس جناح میں ایک بات آپ کو ضرور بتانا چاہتا ہوں۔ یوم پاکستان پر قائد اعظم نے قوم کے نام جو پیغام دیا تھا، اسے خاطر خواہ اہمیت اور تشہیر نہیں دی گئی۔ اس کے برعکس وزیراعظم کے پیغام کے پوسٹر چھاپ کر انہیں نہ صرف شہر شہر دیواروں پر چسپاں کیا گیا ہے، بلکہ ہوائی جہازوں کے ذریعے اسے بڑے بڑے شہروں پر پھینکا بھی گیا ہے۔‘

المیہ دیکھیں کہ 
قائد اعظم اکیڈمی کے بانی پروفیسر شریف المجاہد نے یہ صفحات کتاب کی اشاعت سے قبل یہ کہتے ہوئے حذف کردیئے کہ 
" یہ صفحات نظریہ پاکستان کے خلاف تھے اس لیئے ہم نے کتاب سے حذف کر دیئے اور ان کو اپنے اس عمل پر نہ تب کوئی افسوس تھا، اور نا ہی آج ہے "

بعد میں جب قدرت اللہ شہاب نے اپنی کتاب " شہاب نامہ" میں ان صفحات کو چھاپا تو شریف مجاہد نے قدرت اللہ شہاب کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ 
"  مواد حذف کروانے میں قدرت اللہ شہاب نے بنیادی کردار ادا کیا تھا" 

چودھری محمد علی نے خود اپنی کتاب 
”ظہورِ پاکستان“ میں اس ملاقات کا ذکر کچھ یوں کیا ہے ۔ 

”ان (قائد اعظم) کے انتقال سے چند روز قبل کوئٹہ میں ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں وہاں ان کی خدمت میں تنازع کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پیش کرنے اور آئندہ پالیسی کے لیئے ان کی ہدایات حاصل کرنے کے لیئے گیا تھا۔ وہ بسترِ علالت پر تھے۔ ان کی توانائی آہستہ آہستہ ختم ہورہی تھی لیکن ان کی اصابت فکر پہلے کی طرح ہی تھی۔ ان کا عزم اسی طرح بلند تھا، ان کی آنکھوں میں وہی پرانی چمک تھی، اور اپنی قوم کے مقدر میں انہیں وہی پہلے کی طرح یقین تھا، جو ہمیشہ ان کا منفرد وصف رہا ہے۔“

بہرحال ان صفحات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد کے بارے میں لیاقت علی خان کے کیا جذبات تھے اور غلام محمد لیاقت علی خان کے بارے میں کیا خیالات رکھتےتھے۔ 

چودھری محمد علی  لیاقت علی خان کے قتل کے بعد بنتی بدلتی حکومتوں کے عروج و زوال میں یا خود شریک تھے یا اس کے چشم دید گواہ تھے۔ 

پاکستان کے معروف مؤرخ ڈاکٹر صفدر محمود اپنی کتاب ”مسلم لیگ کا دورِ حکومت“ میں چودھری کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

”علاوہ ازیں چوہدری محمد علی نے مصنف کو ایک ذاتی ملاقات میں مزید بتایا کہ جب بوگرہ کو غلام محمد کے سامنے لایا گیا تو غلام محمد نے تکیے کے نیچے سے ریوالور نکال لیا اور جب تک بوگرہ نے اس کی تجویز سے اتفاق نہ کر لیا، گورنر جنرل اسے قتل کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جب یہ کارروائی ہورہی تھی تو ایوب خان ریوالور ہاتھ میں پکڑے پسِ پردہ کھڑے تھے" 

چودھری صاحب چونکہ اسکندر مرزا کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ تھے اس لئے مسٹر حسین شہید سہروردی کی جگہ وزیراعظم بننے کے زیادہ اہل تھے۔

یہ ہے پاکستان کی وہ تاریخ جسے نظریہ پاکستان سے متصادم قرار دیتے ہوئے نئی نسل سے چھپایا جا رہا ہے۔ 

 " غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے : دسویں قسط 

چودھری محمد علی کا سب سے بڑا کارنامہ آئین پاکستان کی تشکیل بتایا جاتا ہے۔

پہلا دستور پاکستان:

تاریخ بڑی ظالم شے ہے یہ آج نہیں تو کل سوال ضرور اُٹھاتی ہے۔
مارچ 1940 میں مسلم لیگ نے لاہور میں قرارداد پاکستان منظور کی اور یہ فیصلہ ہوا کہ مسلمانان ہند کے لئے ایک علحیدہ وطن کا قیام ناگزیر ہے اور اس کے لیے کوششیں شروع ہوگئیں۔
مطالعہ پاکستان میں ہم پڑھتے ہیں کہ انگریزوں اور کانگریس کی ریشہ دوانیوں کے باوجود صرف سات سالوں میں مسلم لیگ نے قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانوں کے لیے ایک جدا ملک حاصل کرلیا۔
لیکن سات سالوں میں پاکستان بنانے والی مسلم لیگ اور اس کی ولولہ انگیز قیادت پاکستان بننے کے نو سال بعد تک بھی آئین نہ بنا سکی۔
اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ کی قیادت سمیت سب کا واحد مقصد صرف تقیسم ہند کے ذریعے علحیدہ ملک کا قیام تھا ۔ اس ملک کے قیام کا مقصد کیا ہے اور آگے یہ کیسے چلے گا اس کا واضح نقشہ کسی کے پاس نہیں تھا۔ 

1935 کے ایکٹ کے تحت نظام  پارلیمانی جمہوری تھا، لیکن چونکہ خود قائد اعظم گورنر جنرل تھے لہٰذا وزیر اعظم لیاقت علی خان کے مقابلہ میں انہیں وسیع اختیارات حاصل تھے اور پھر انہیں دستور ساز اسمبلی کے صدر کی حیثیت سے بھی بے حد اہم مرتبہ حاصل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ قائد کی وفات کے بعد گورنر جنرل کے عہدے نے بار بار دستور ساز اسمبلی کا گلہ گھونٹا۔

قیام پاکستان کے دو سال بعد 1950 میں آئین ساز کمیٹی نے پہلا خاکہ پیش کیا ، اس میں برابری کی بنیاد پر دو ایوانوں کی تجویز پیش کردی گئی تھی،
 مشرقی پاکستان کی قیادت نے اسے یکسر مسترد کردیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان کے دو خود مختار یونٹوں پر مشتمل ری پبلیکن طرز کی حکومت قائم کی جائے ،آبادی کی بنیاد پر تشکیل پانے والی مرکزی پارلیمنٹ کو صرف خارجہ امور کرنسی اور دفاع کے اختیارات حاصل ہوں،
1952 میں آئینی کمیٹی نے تجاویز کی دوسری رپورٹ پیش کی۔ اس میں برابری کی بنیاد پر پارلیمنٹ کے دو ایوان تجویز کیے گئے تھے،
ایک ایوان بالا جس کے120  اراکین ہوں۔ 
60 مشرقی پاکستان اور 60 مغربی پاکستان کے تمام صوبوں پر مشتمل ہوں۔ 
دوسری ایوان زیریں جس کے 400 ارکان جو براہِ راست منتخب ہوں ، جس میں 200 اراکین مشرقی پاکستان اور 200 اراکینِ مغربی پاکستان کے تمام یونٹس سے منتخب ہوں۔

مشرقی پاکستان والوں نے اس کی مخالفت کی کہ آبادی میں  دو فیصد زیادہ ہونے کے باوجود انہیں مغربی پاکستان کے برابر نمائندگی دی گئی تھی۔ 
یہاں پنجاب نے اس رپورٹ کی شدید مخالفت کی۔
پنجاب نے اس رپورٹ کو اس بنیاد پر مسترد کر دیا کہ ملک کے ایک صوبے کو دوسرے آٹھ یونٹوں کے برابر نمائندگی دی جارہی ہے اور یوں مشرقی پاکستان پورے ملک پر حاوی ہو جائے گا،

ملک فیروز خان نون کی قیادت میں پنجاب کے مسلم لیگی اراکین نے 5 اکتوبر 1954 کو دستور ساز اسمبلی میں تین نکاتی آئینی مطالبہ پیش کیا ، 
جس کے تحت مرکز کا اختیار صرف چار امور، دفاع، امور خارجہ ، کرنسی اور بین الصوبائی مواصلات تک محدود  تھا
 ( اندازہ لگائیں آج محب وطنوں کو اس اٹھارہویں ترمیم پر اعتراض ہے جس میں صرف تعلیم اور صحت کو وفاق سے لیکر صوبوں کے حوالے کردیا گیا ہے) ۔ 

پنجاب کے ان اراکین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ آئندہ پانچ برس تک آئین میں کوئی ترمیم اس وقت تک نہیں ہو جب تک یہ تمام صوبائی اسمبلیوں میں تیس فی صد ووٹ سے منظور نہ ہو۔
پنجاب گروپ نے یہ الٹی میٹم دیا کہ اگر ان کے یہ مطالبات ستائیس اکتوبر تک تسلیم نہ کیے گئے تو وہ سب دستور ساز اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ ہو جائیں گے۔

انیس دن بعد 24 اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ کر ملک کو مزید بحران کی جانب دھکیل دیا۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ گورنر جنرل کے اس اقدام کو مولوی تمیز الدین نے سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے گورنر جنرل کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے کر دستور ساز اسمبلی کے بحالی کا فیصلہ جاری کردیا لیکن سپریم کورٹ نے گورنر جنرل کے حکم کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دے کر ملک میں آئین شکنی کی نئی روایت قائم کردی۔ 
اس دن سے لیکر آج تک آپ سندھ ہائیکورٹ ، لاہور ہائیکورٹ، پشاور ہائیکورٹ ، بلوچستان ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا ایک جائزہ لیں تو حقیقت کا ادراک ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر نئے دستور ساز اسمبلی منتخب کردی گئی۔ لیکن خواجہ ناظم الدین، سردار عبدالرب نشتر، اور مولانا اکرم خان جیسے سینئر مسلم لیگی قیادت کو اس نئی دستور ساز اسمبلی سے دور رکھا گیا کہ ملک اس وقت مکمل طور پر غیر جمہوری اور غیر سیاسی قوتوں کے شکنجے میں تھا۔ 

نئے گورنر جنرل جنرل اسکندر مرزا اور نئے وزیر اعظم چوہدری محمد علی جیسے بیوروکریٹس کی قیادت میں نئے آئین کی تیاری کا عمل شروع ہوا جس کے لیے مغربی پاکستان کی اکثریتی جماعت مسلم لیگ اور مشرقی پاکستان کے جگتو فرنٹ کے درمیان زبردست سودے بازی ہوئی،
8 جنوری 1956 کو آئین کا پہلا مسودہ شائع ہوا،
29 فروری 1956 کو دستور ساز اسمبلی نے ملک کا پہلا آئین منظور کر لیا، 
2مارچ گورنر جنرل نے اس کی منظوری دی،
نئے آئین میں گورنر جنرل کا عہدہ ختم کرکے صدر مملکت کا نیا عہدہ متعارف کروایا گیا جس کے پاس وسیع اختیارات تھے۔
چند روز بعد دستور ساز اسمبلی نے گورنر جنرل اسکندر مرزا کو نئے آئین کے تحت ملک کا پہلا صدر منتخب کیا اور بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ 23 مارچ 1956 کو نیا آئین نافذ ہوا،
اسی دن صدر مملکت نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ 
اور یوں پاکستان پہلی بار آئینی طور پر خود مختار ریاست بن گیا۔

یوم جمہوریہ یا یوم قرارداد پاکستان :

آئین کے نفاذ کی مناسبت سے 23 مارچ کے دن کو یوم جمہوریہ کے طور پر منانے کا فیصلہ ہؤا۔ 
اگلے سال دو سال تک  1957 اور 1958 کو 23 مارچ کو یوم جمہوریہ کے طور پر منایا گیا۔ 

افسوس کہ نو سال بعد بننے والا ملک کا یہ پہلا آئین صرف اکتیس مہینے ہی چل سکا ۔

1958 میں اسکندر مرزا نے  مارشل لگاکر ےء اپنے بنائے ہوئے آئین کو معطل کردیا،
اب جب 1959 کی 23 مارچ قریب آئی تو پریشانی ہوئی کہ اب  تو پاکستان جمہوری ملک نہیں تو "یوم جمہوریہ" کیسے منایا جائے..اور جس آئیں کے نفاذ کے دن کے لئے مناتے ہیں وہ آئیں ہی معطل ہو گیا ۔
لیکن بیوروکریٹ ہر مسئلے کا حل جانتے ہیں فیصلہ کیا اس دن کو "یوم قرارداد پاکستان" کے طور منایا جائے ،
جب سے ایسا ہی چل رہا ہے اب اس کو "یوم پاکستان" کہتے ہیں۔ 
ہم وہ بدقسمت قوم ہیں جو یوم جمہوریہ کے دن بھی توپوں اور ٹینکوں کو سلامی پیش کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔

تاریخی طور پر یہ بات ثابت شدہ ہے کہ 22 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کا اجلاس شروع ہوا اور 24 مارچ 1940 کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔ 
1940 سے لیکر 1959 تک ایک بار بھی  قرارداد پاکستان کی یاد میں " یوم پاکستان " نہیں منایا گیا۔

آئین پاکستان خود آئین بنانے والوں کی نظر میں :

23 مارچ 1956 کو منظور ہونے والا وہ آئین جسے پاکستان کی دستور اسمبلی نے  اسکندر مرزا اور  چودھری محمد علی کی ولولہ انگیز قیادت میں تیار کیا تھا۔ وہ آئین کے جس کے تحت پاکستان برطانیۂ عظمیٰ کی ڈومینین سے نکل کر ایک خودمختار ملک کی حیثت سے ابھرا تھا اور اسی آئین نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا تھا ،

اسکندر مرزا کو جمہوریت اور اس آئین کا کس قدر پاس تھا،
 اس کی ایک جھلک ان کی سیکریٹری قدرت اللہ شہاب کی آپ بیتی 'شہاب نامہ' میں ملاحظہ فرمائیں، لکھتے ہیں

 " 22 ستمبر 1958 کو صدرِ پاکستان اسکندر مرزا نے انھیں بلایا۔ 'ان کے ہاتھ میں پاکستان کے آئین کی ایک جلد تھی۔ انھوں نے اس کتاب کی اشارہ کر کے کہا،
 'تم نے اس ٹریش کو پڑھا ہے؟'
'جس آئین کے تحت حلف اٹھا کر وہ کرسیِ صدارت پر براجمان تھے اس کے متعلق ان کی زبان سے ٹریش کا لفظ سن کر میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔'

خود ایوب خان  اپنی کتاب ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ کے صفحہ نمبر 91 اور 92 پر لکھتے ہیں:

”چوہدری محمد علی نے جیسے تیسے آئین تیار کرلیا جو 23 مارچ 1956 کو نافذ کیا گیا۔ یہ بڑی مایوس کن دستاویز تھی۔ وزیرِ اعظم، جو اس امر کے سخت متمنی تھے کہ انہیں تاریخ میں آئین کے مصنف کی حیثیت سے یاد رکھا جائے، نے اپنی کوشش کو کامیاب بنانے کے لیے ہر قسم کے نظریات کو اس آئین میں سمولیا تھا۔ آئین کیا تھا، بس چوں چوں کا مربہ تھا" 

ایوب خان اس آئین میں تقسیم اختیارات پر معترض تھے۔ لکھتے ہیں
 ”اس آئین نے اقتدار کو صدر، وزیرِ اعظم اور اس کی کابینہ اور صوبوں میں تقسیم کر کے اس کی مرکزیت ہی کو نیست و نابود کر دیا تھا، اور کسی کو صاحبِ اختیار نہیں رہنے دیا تھا۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ جس شخص نے آئین بنایا وہی اس کا پہلا شکار بنا"

 پہلے آئین کو اسکندر مرزا نے کچرا اور ایوب خان نے چوں چوں کا مربّہ کہا ،
بعد میں ان کے آنے والے جانشینوں نے بھی اسی روایات کو برقرار رکھا، 
ضیاء الحق نے 1973 کے آئین کو کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دے کر لپیٹا۔ 
مشرف آج بھی بڑے فخر سے کہتا ہے کہ
" آئین کیا ہے فقط کاغذ کا ایک ٹکڑا ،جسے میں کسی بھی وقت ڈسٹ بن میں پھینک سکتا ہوں "

آج بھی غیر جمہوری قوتیں عوام کو گمراہ کرنے کے لئے صبح شام یہی راگ آلاپ رہی ہیں، کہ
" آئین مقدم ہے کہ ریاست "

ان سقراطوں سے گزارش ہے کہ اگر 1971 میں ہمارے پاس جیسے تیسے بھی آئین کا ایک ٹکڑا ہوتا تو اس میں درج طریقہ کار کے مطابق اقتدار کی منتقلی ہوتی اور  ریاست پاکستان کبھی نہ ٹوٹتا،

1956 کا آئین چونکہ اسکندر مرزا کی نگرانی میں تیار ہوا تھا اور اس شاطر نے صدر پاکستان کے عہدے میں 58 بی طرزِ کے ایسے شقیں رکھی تھی جس کے وار سے وہ ہر مخالف کو گھر کا رستہ دکھا سکتا تھا۔ 

سب سے پہلے اس نے آئین کے خالق چوھدری محمد علی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ 

اس کے بعد دو سال کے اندر تقریباً تین وزیراعظم اس تلوار سے شکار کئے گئے۔ 
ان میں حسین شہید سہروردی 
( 12 اکتوبر 56 تا 17 ستمبر 57 )
آئی آئی چندریگر 
( 17 اکتوبر 57 تا 16 دسمبر 57 )
اور 
ملک فیروز خان نون 
( 16 دسمبر 57 تا سات اکتوبر 58 ) کے نام آتے ہیں۔

(جاری ہے)

نوٹ : 23 مارچ 1956 کو یوم جمہوریہ کی مناسبت سے حکومت پاکستان کا جاری کردہ ڈاک ٹکٹ...
[14/03, 6:59 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ" 
تاریخ کے جھروکوں سے: گیارویں قسط

صدر اسکندر مرزا کو اپنا تراشا ہوا وزیر اعظم محمد علی چودھری بھی پسند نہ آیا اور 11 ستمبر 1956 کو اسے استعفیٰ دینا پڑا، 
چودھری صاحب نے وزرات عظمیٰ کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی رکنیت سے بھی استعفیٰ دے دیا اور بعد میں " نفاذ اسلام" پارٹی بناکر فاطمہ جناح کے لیے صدارتی مہم چلاتے رہے۔
 اس کے بعد وزرات عظمیٰ کا ہما حسین شہید سہروردی کے سر پر بٹھا دیا گیا، 
یاد رہے بیگم شائستہ سہروردی اکرام اللہ کے بقول
" صدر کو مجبور کیا گیا کہ وہ شہید کو وزیراعظم کی حیثییت سے قبول کریں، گو کہ اس سے قبل صدر اس بات کا اظہار کر چکے تھے کہ ایسا صرف ان کی لاش پر ہی ممکن ہے۔ لیکن حالات نے انہیں اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کیا"

حسین شہید سہروردی :

حسین شہید سہروردی اکثر کہا کرتے تھے کہ
"مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان انگریزی زبان اور پی آئی اے کے علاوہ تیسرا رابطہ میں ہوں"

ہمارے خیال میں تاریخ پاکستان سمجھنے کے لیئے صرف حسین شہید سہروردی کی داستان حیات پڑھ لینا کافی ہے۔
یہ پاکستان کا پہلا غدار تھا، لیاقت علی خان نے ریڈیو پاکستان پر آکر اسے" کتا اور غدار کہا۔

حسین شہید سہروردی کون تھے؟

خاندانی پس منظر : 
حسین شہید سہروردی 8 ستمبر 1892ء  کو مغربی بنگال کے ضلع بردوان کے علاقے مدناپور کے ایک پڑھے لکھے مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے،
خاندان کے آباؤ اجداد عراق کے شہر سہرورد سے ہجرت کر کے مغربی بنگال آ بسے تھے۔
سلسلۂ تصوّف کے بانی، شہاب الدّین سہروردی خاندان کے مورثِ اعلیٰ تھے، خاندان کے افراد اس نسبت سے ’’سہروردی‘‘ کہلواتے، 
والد کا نام سر زاہد سہروردی تھا، 
وہ کلکتہ ہائی کورٹ کے جج کے عُہدے پر فائز تھے۔
عربی، فارسی، انگریزی اور اُردو زبانوں پر عبور حاصل تھا،
شریف النفس اور رکھ رکھاؤ والے انسان تھے، 

والدہ کا نام خجستہ اختر بانو تھا،
اردو اور فارسی ادب سے گہرا شغف رکھتی تھیں۔
اُردو زبان کے اوّلین ناول نگاروں میں شمار کی جاتی تھیں۔
نقاب اوڑھنے کے باوجود وہ سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کرنے والی پہلی مسلمان خاتون تھیں۔

نانا کا نام مولانا عبید اللہ العبیدی سہروردی تھا،
وہ عربی اور فارسی کے عالم ہونے کے علاوہ پروفیسر بھی تھے۔
ڈھاکا مدرسے کے بانیوں میں شمار ہوتا تھا۔
عربی، فارسی اور اُردو میں کئی کتابیں تحریر کیں۔
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ حسین شہید سہروردی کس قسم کے علمی و ادبی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔

ابتدائی تربیت اور تعلیم: 
حُسین شہید سہروردی کی ابتدائی تربیت پڑھی لکھی ماں اور عالمِ دین نانا کے سرپرستی میں ہوئی،
زاویار کالج سے سائنس کے مضمون میں اعزاز کے ساتھ گریجویشن کی ،
ماں کی خواہش پر 1913 میں کلکتہ یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، 
آکسفرڈ یونیورسٹی سے بی ایس سی (آنرز) اور بی سی ایل کی اسناد اعزاز کے ساتھ حاصل کیں۔پولیٹیکل اکانومی اور پولیٹیکل سائنس میں ڈپلوما بھی مکمل کیا۔
1918 ء میں ’’گریز اِن‘‘ یونیورسٹی سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی ،
مطلب بیک وقت علم ،ادب ،سیاست ،معیشت اور قانون کے علوم سے بہرہ ور تھے،
وطن واپس آکر کلکتہ میں وکالت شروع کی اور تھوڑے عرصے میں بڑا نام کمایا ،
کلکتہ ہائی کورٹ کے جج، سر عبدالرحمٰن کی، جو ’’انڈین لیجسلیٹیو اسمبلی‘‘ کے صدر اور گورنر کی ’’ایگزیکٹیو کونسل‘‘ کے رُکن بھی تھے، کی بیٹی ناز فاطمہ سے نکاح کے بندھن میں بندھ گئے۔

سیاست : 
1921ء میں بردوان ڈویژن کے مسلم حلقۂ انتخاب سے ’’بنگال قانون ساز اسمبلی‘‘ کے رُکن منتخب ہوئے۔ 
1924ء میں ایک بار پھر اسمبلی کے رُکن منتخب کیے گئے۔
" کلکتہ میونسپل کارپوریشن‘‘ کاقیام عمل میں آیا، تو چترنجن اُس کے میئر اور حسین شہید سہروردی نائب منتخب ہوئے،
1926 ء میں بنگال میں ہندو مسلم فسادات ہوئے۔
 سو سے زائد افراد مارے گئے ،حُسین شہید سہروردی نے جرأت و بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جان خطرے میں ڈال کر متاثرہ علاقوں کو پُر امن بنایا،

1927ء میں 36 مزدور تنظیموں کو اکٹھا کرکے
’’نیشنل لیبر فیڈریشن‘‘ کی بنیاد رکھی ،
مزدور پرور شخصیت تھے وکالت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے وہ بہت سے مزدوروں کی خاموشی کے ساتھ مالی مدد کیا کرتے تھے،

مسلم لیگ : 

قائد اعظم کی خواہش پر وہ 1928ء میں مسلم لیگ  بنگال کے صوبائی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے،

1943-45ء تک خواجہ ناظم الدّین کی بنگال میں قائم حکومت میں سول سپلائیز منسٹر، لیبر منسٹر، فنانس منسٹر اور دیگر وزارتوں میں خدمات انجام دیں۔

اس دوران بنگال میں قحط آیا جس میں سہروردی نے بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے دل جیت لئے ،
سہروردی کی متحرّک اور بیدار قیادت کی بدولت 1946ء کے فیصلہ کُن انتخابات میں مسلم لیگ کو بنگال سے فقید المثال کامیابی حاصل ہوئی اور اس نے 121 میں سے 114 نشستیں جیت لیں۔
اور یوں وہ متحدہ بنگال کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے،
اس وقت بنگال ہی پورے ہندوستان میں وہ واحد ریاست تھی جہاں مسلم لیگ کی وزارت تھی۔ 

تقسیم ہند ، ہندو مسلم فسادات اور سہروردی کا تاریخی کردار : 

حُسین شہید سہروری کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد بنگال ایک بار پھر فسادات کی زد میں آیا،
اس وقت گاندھی جی نوا کھلی کا دورہ کرنا چاہتے تھے، 
سہروردی کا خیال تھا کہ گاندھی جی کا نوا کھلی کا دورہ ان فسادات کو مزید بڑھاوا دے گا، اور اگر وہ اس کے بجائے کلکتہ میں رہیں اور فسادات ختم کرنے کی کوشش کریں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ سہروردی نے جب اپنا یہ منصوبہ گاندھی جی کو پیش کیا تو گاندھی جی کا مؤقف تھا کہ وہ اس شرط پر کلکتہ ٹھہر سکتے ہیں کہ سہروردی بھی ان کے ساتھ وہاں رہیں۔

مہاتما گاندھی اور حسین شہید سہروردی فسادات ختم کرانے کیلئے کلکتہ پہنچ گئے۔ برطانوی سرکار نے فیصلہ کیا کہ گاندھی کی حفاظت مسلمان فوجی کریں گے اور سہروردی کی حفاظت ہندو فوجی کریں گے۔ جن مسلمان فوجیوں کو گاندھی کی حفاظت پر مامور کیا گیا ان کے انچارج کیپٹن عبدالمجید ملک تھے۔ ان مسلمان فوجیوں نے ایک ماہ تک گاندھی کی حفاظت کی۔ کچھ عرصے کے بعد اس فوجی یونٹ کو رانچی بھیج دیا گیا۔ 14 اور 15 اگست 1947ء کی درمیانی رات کو پاکستان وجود میں آیا تو کیپٹن عبدالمجید ملک نے صوبیدار نور خان اور صوبیدار شرف دین کی مدد سے پاکستان کا پرچم تیار کیا اور چار سو مسلمان فوجیوں نے 15 اگست 1947ء کو پاکستان کے پرچم کو سلامی دی۔ یہی کیپٹن عبدالمجید ملک بعدازاں پاکستانی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل بنے اور فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

سہروردی اور گاندھی دونوں کچھ دن ایک غریب خاندان کے ساتھ ایک جھونپڑی میں رہے جہاں گاندھی جی نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک کچھ نہیں کھائیں گے جب تک ہندو اور مسلمان فساد ختم نہیں کر دیتے۔ تین دن کے اندر اندر بنگال میں کئی ہفتوں سے جاری فسادات ختم ہو گئے۔

سہروردی کی دانشمندی کے بدولت کلکتہ کے مسلمان اور ہندو یکجا ہوگئے اور 16 اگست کو آزادی کا سورج ایک پُرامن ماحول میں طلوع ہوا، اور یوں اس نے مغربی بنگال کے مسلم آبادی کو قتل عام سے بچایا،

اس نازک موقع پر انھوں نے وہ راستہ اختیار نہیں کیا جو پنجاب اور وسطی اقلیتی صوبوں کے مسلمان راہنماؤں نے اختیار کیا جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد نئے تشکیل شدہ ملک میں اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کی فکر کی اور مشرقی پنجاب اور وسطی صوبوں کے مسلمانوں کو بے سہارا چھوڑ دیا حالانکہ قائد اعظم نے وسطی صوبوں کے کئی اہم راہنماؤں کو حکم دیا تھا کہ وہ بھارت میں رہ کو  ان مسلمانوں کی راہنمائی کریں اور ان کو تحفظ دلانے کی کوشش کریں مگر ان میں سے بیشتر راہنماء پاکستان منتقل ہو گئے تھے۔ اور مشرقی پنجاب میں خصوصاً کوئی مسلمان راہنماء نہیں تھا جو مختلف علاقوں کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیئے  کچھ کر پاتا، اس وجہ سے مہاجرین  کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی طرف اُمڈ آئی تھی۔

شہید کو کیا صلہ ملا ؟؟؟: 

سہروردی کی اس قربانی کا ریاست پاکستان نے یہ صلہ دیا کہ اسے دستور اسمبلی کی رکنیت سے محروم کر دیا ،
کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی میں سے کسی ایک کو وزیر اعظم بنوانا چاہتے تھے، سہرودی کو بنگال کی وزارت اعلیٰ کا کافی تجربہ تھا،
مگر وہ اس وقت قائد اعظم کے حکم پر کلکتہ میں مسلم ہندو فسادات رکوانے کے لیے ٹہرے ہوئے تھے،
اس لیے ان کے نام کو ڈراپ کیا گیا۔
اگر سہروردی بھی باقی خود عرض لیڈروں کی طرح پاکستان آجاتے تو چانس تھا کہ وزیر اعظم بنتے اور یقیناً پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی۔

لیاقت علی خان کے ساتھ اختلافات : 

شاید یہی وجہ تھی کہ لیاقت علی خان  حسین شہید سہروردی کو اپنا ایک طاقت ور حریف سمجھتے تھے اس لیے  ان کے دور میں حسین شہید سہروردی کے خلاف کئی اقدام اٹھائے گئے۔ پاکستان میں آئین ساز اسمبلی کی نشست اس بنیاد پر خالی کر دی گئی کہ جو شخص تقسیمِ ہند کے بعد 6 ماہ کے اندر اندر پاکستان کے کسی علاقے میں رہائش اختیار نہیں کر پاتا وہ اپنی نشست پر برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس قرارداد کے تحت شہید سہروردی نے کوشش کی کہ مشرقی پاکستان میں انہیں کوئی رہائش گاہ مل جائے۔

شائستہ اکرام اللہ کے مطابق وہ جون 1948 میں ڈھاکہ گئے لیکن ان کی آمد کے 24 گھنٹوں کے بعد انہیں ڈھاکہ بدری کا نوٹس دیا گیا۔ یہ نوٹس آئی جی ذاکر حسین کی ہدایات پر سٹی مجسٹریٹ نے ان سے وصول کروایا۔ یہ نہ صرف ڈھاکہ بدر کیے جانے کا نوٹس تھا بلکہ اس میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ آئندہ 6 ماہ کے لیے مشرقی پاکستان داخل نہیں ہوسکتے اور نہ کوئی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں،
لہٰذا مجبوراً وہ کلفٹن (کراچی) میں اپنے بھائی شاہد سہروردی کے ہاں ٹھہرے، 

تلخ حقائق : 
تقسیم ہند کے بعد قائد اعظم اور لیاقت علی سمیت 17 لیگی رہنماؤں کے حلقہ انتخاب ہندوستان میں رہ گئے تھے۔ سہروردی نے اپنے دو میں سے ایک حلقہ خالی کرا کے لیاقت علی خان کو جتوایا تھا ، 
اور سہروردی کی سیٹ پر جیتنے والے لیاقت علی خان نے اسے دستور ساز اسمبلی کی نشست سے ہی محروم کر دیا، 

سیاسی حریف کو غدار اور ایجنٹ قرار دینے کی قبیح سیاسی روایت کی داغ بیل لیاقت علی خان نے ڈالی۔ قیام پاکستان کے بعد بحیثیت وزیر اعظم انھوں نے حسین شہید سہروردی کو غدار اور ہندوستانی ایجنٹ کہا،

عوامی لیگ : 
ساری زندگی سیاسی جدوجہد کرنے والے سہروردی نے مسلم لیگ کی اس منافقت سے بدظن ہو کر "ایسٹ پاکستان عوامی لیگ " کی بنیاد رکھی، جس نے بعد میں عوامی لیگ کے نام سے شیخ مجیب کی قیادت میں بنگلہ دیش بننے میں بنیادی کردار ادا کیا، 

پنڈی سازش کیس کا وکیل : 

 ’’پنڈی سازش کیس‘‘ میں حُسین شہید سہروردی نے فیض احمد فیضؔ اور دیگر ملزمان کے وکیل کے طور پر ایک بار پھر اپنی قانونی مہارت کے جوہر دکھائے۔

1953 ء میں حُسین شہید سہروردی نے اے کے فضل الحق اور مولانا بھاشانی کے ساتھ مل کر ’’یونائیٹڈ فرنٹ‘‘(جگتو فرنٹ) قائم کی، جس نے 1954ء میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست دی۔ حُسین شہید سہروردی اپنی کرشمہ ساز شخصیت کی وجہ سے ایک بار پھر عوام کے دِلوں میں موجود تھے۔ 

1954 ء ہی میں محمد علی بوگرہ کی حکومت میں وزارتِ قانون کا قلم دان سنبھالا، 
1956 کے آئین کی تیاری میں بنیادی کردار ادا کیا،
11اگست 1955 ء تا یکم ستمبر 1956ء وہ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف رہے۔
12ستمبر 1956ء کو حسین شہید سہروردی ری پبلکن پارٹی کی حمایت سے پاکستان کے وزیرِاعظم مقرّر ہوئے۔
اسکندر مرزا کی محلاتی سازشیں جاری رہیں ،
اور تیرہ ماہ کے بعد سہروردی کو وزرات عظمیٰ چھوڑنا پڑی، 

1958ء کے مارشل لاء میں ’’ایبڈو"  قانون کے ذریعے سیاست سے نااہل قرار پائے، 

کارنامے :
 یاد رہے کہ حسین شہید سہروردی نے اپنے دور حکومت میں ملک کے مغربی حصے میں توانائی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کو قائم کیا اور ڈاکٹر نظر احمد کو اس کی نگرانی کی دعوت دی۔
اسی طرح حسین شہید سہروردی پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے چین کا دورہ کیا اور بیجنگ میں چینی وزیراعظم چو این لائی سے ملاقات کی جبکہ اس دورے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات دوستانہ انداز میں استوار ہونا شروع ہوئے۔
 
سزا : 
 سہروردی صاحب ایک ماہر قانون دان تھے۔ سیاست ان کا پیشہ نہ تھا۔ روزگار کے لیئے وکالت کرتے تھے, لیکن پاکستان کی انتقامی سیاست میں عموماً سب سے پہلے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ معتوب فرد کے اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے اور اسے اس حد تک مجبور کیا جائے کہ اس کی روزی روٹی کا حصول اس کے لیے مسئلہ بن جائے۔ سہروردی صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
 شائستہ سہروردی اکرام اللہ سہروردی کی سوانح عمری کے صفحہ نمبر 74 پر لکھتی ہیں کہ:

”انہوں نے اپنی وکالت دوبارہ سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ حکومت نے انہیں روکنے کے لیئے اپنی سازشوں میں اضافہ کر دیا۔ کراچی اور لاہور کی عدالتوں کو یہ ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ وکیل کی حیثیت سے انہیں رجسٹر نہ کریں۔ یہ منٹگمری (جسے اب ساہیوال کے نام سے جانا جاتا ہے) کی ایک عدالت تھی جس نے حسین شہید سہروردی کو وکیل کی حیثیت سے قبول کیا،
آج بھی حاضر سروس حضرات پراپرٹی سمیت ہر قسم کا کاروبار کرسکتے ہیں لیکن سیاست دان اور ان کے بچوں کے لیے اندورن و بیرونی ملک ہر قسم کا کاروبار شجر ممنوعہ ہے۔ 

31جنوری 1962ء کو انہیں ریاست کے خلاف سرگرمیوں کے جُرم میں گرفتار کیا گیا۔ سات ماہ کی قیدِ تنہائی کے بعد رہائی ملی، تو اُنہیں ڈھاکا میں زبردست طریقے سے خوش آمدید کہا گیا۔ بعدازاں، انہیں عارضۂ قلب کی شکایت ہوئی۔ علاج کے لیئے بیروت گئے اور وہیں 5 دسمبر 1963ء کو انتقال کر گئے۔
بعد میں ان کی بیٹی بیگم اختر سلیمان نے ایک اخباری انٹرویو میں انکشاف کیا کہ
"  سہروردی مرحوم طبعی موت نہیں مرے تھے، مگر ان کو نوکر شاہی نے مروایا تھا " 
کہا جاتا ہے کہ مرنے سے قبل مقتدر حلقے ان کو دھمکیاں دینے رہے۔۔

قبر اور تدفین : 

سہروردی کی نواسی بیرسٹر شاہدہ کے مطابق  
"  اہل خانہ حسین شہید سہروردی کو ’مزار قائد‘ میں سپرد خاک کرنا چاہتے تھے، لیکن انہیں مغربی پاکستان میں کہیں بھی تدفین سے روک دیا گیا! ملک علیحدگی کی طرف جا رہا تھا اور وہ یہاں کسی بنگالی کی قبر نہیں چاہتے تھے، پھر ہم نے ’مشرقی پاکستان‘ بڑے ہجوم نے ان کی تدفین میں شرکت کی، 
ستم ظریفی دیکھئے کہ،
 جس شخص کا  بیٹا ، بیٹی اختر سلیمان ،نواسی بیرسٹر شاہدہ اور ماموں زاد بیٹی شائستہ اکرام اللہ اس کا خاندان ، بھائی شاہد سہروردی اور اس کا پورا خاندان روز اول سے مغربی پاکستان میں مقیم تھا،
ہم اس شخص کی قبر کے لئے دو گز زمین کا ٹکڑا دینے کے لیئے بھی تیار نہیں تھے،
 آج شکوہ ہے کہ مجیب اور بنگالی غدار تھے، 
 سہروردی اس ملک کے اجنبی تھا اور اجنبی رہا، 

حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا،

(جاری)
" غداروں کی تاریخ" 
تاریخ کے جھروکوں سے: بارہویں قسط 

حسین شہید سہروردی کو ہٹاکر اسکندر مرزا آئی آئی چندریگر کو عبوری وزیر اعظم لے آیا،
صرف 55 دن  ہی چل سکا،
 ( 17 اکتوبر 57 تا 16 دسمبر 57 )

آئی آئی چندریگر: 

اسماعیل ابراہیم چندریگر 15 ستمبر 1897ء کو احمدآباد میں پیدا ہوئے تھے۔ بمبئی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وکالت کے شعبے سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا ،
نظریاتی مسلم لیگی اور قائد اعظم کے قریب ترین رفقا کار میں ان کا شمار ہوتا ہے،
1936 میں باقاعدہ طور پر آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔ فروری 1937 میں انھیں آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکٹ پر صوبہ بمبئی کی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے،
1940 کے قرارداد لاہور میں پرجوش تقریر کی,
1946 کے انتخابات میں بھی اسی حلقے سے جیتے،
قیام پاکستان کے بعد مرکزی وزیر تجارت و صنعت، افغانستان میں پاکستان کے سفیر اور صوبہ سرحد اور صوبہ پنجاب کے گورنر رہے،
وزیر اعظم چوہدری محمد علی کی مرکزی کابینہ میں وزیر قانون رہے اور 1956 کے آئین کا مسودہ تیار کیا، 
سیاسی، نظریاتی اور شریف النفس آدمی تھے،
اسکندر مرزا کے ساتھ نہ چل سکے،
استعفیٰ دیکر گھر کی راہ لی ، 
 26 ستمبر 1960کو لاہور میں انتقال ہوا اور کراچی میں آسودہ خاک ہوئے،

آئی آئی چندریگر کے مستعفیٰ ہونے کے بعد ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے فیروز خان نون کو وزیراعظم بنادیا گیا،
وہ  16 دسمبر 1957 سے 7 اکتوبر 1958 تک ( 9 ماہ  ماہ اور 21 دن تقریباً 295 دن)وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔
وہ پنجاب کے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک مضبوط سیاسی آدمی تھے،
اسکندر مرزا کے چالوں میں آکر استعفیٰ دینے کے لیے تیار نہ ہوئے، 
مجبوراً اسکندر مرزا کو مارشل لاء لگا کر انہیں ہٹانا پڑا، 

آئیے متحدہ پاکستان کے آخری وزیر اعظم ملک فیروز خان نون کی حالات زندگی پڑھتے ہیں،
کہ وطن عزیز میں ہیرے گنواکر غداروں کو ہیرے بنانے کی ریت بہت پرانی ہے،

ملک فیروز خان نون :

حسین شہید سہروردی کے بعد ہم فیروز خان نون کو مسلم لیگ کا  تجربہ کار اور مضبوط سیاست دان کہہ سکتے ہیں،
ملک فیروز خان نون 7  مئی 1893ءکو ضلع سرگودھا کے تحصیل بھلوال کے ایک گاؤں نور پور نون میں سر محمد حیات خان نون کے ہاں پیدا ہوئے،
ابتدائی تعلیم  پبلک اسکول بھیرہ ضلع سرگودھا سے حاصل کی،
ایچی سن کالج لاہور اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔

گزشتہ کئی برسوں سے ایمپائر میڈیائی پروپیگنڈے کے ذریعے تاریخ سے نابلد نسل کی یہی ذہن سازی کررہا ہے کہ سیاست دان تو سارے نالائق اور پرچی دیکھ کر پڑھنے والے ہوتے ہیں،
عمران خان پاکستانی تاریخ کا پہلے ہینڈ سم  ہیں جو ایچ سن اور آکسفورڈ سے تھرڈ ڈویژن پاس ہیں، ان کو کیا پتہ کہ پہلے بھی لوگ ایچی سن اور آکسفورڈ سے پڑھ کر سیاست میں آتے رہے ہیں،

 1920ءمیں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور 1936ءتک مستقل رکن منتخب ہوتے رہے۔ 
1936ءمیں وہ لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر مقرر ہوئے۔
1941ءسے 1942ءتک وہ وائسرائے ہند کی کابینہ کے رکن رہے۔
 1942ءسے 1945ءتک وہ ہندوستان کے وزیر دفاع کے منصب پر فائز رہے۔ 
جدوجہد آزادی میں حصہ لینے کے لیے اتنے بڑے منصب سے استعفیٰ دے کر 1946 کے  انتخابات میں حصہ لیا،
کوئی سیکنڈ لیفٹیننٹ یہ مثال دے سکتا ہے کہ اس نے تحریک پاکستان کے لئے اپنی نوکری کی قربانی دی ہو،

اس پر تماشا دیکھیں کہ انگریزوں کے دور کا وزیر دفاع فیروز خان نون تو نالائق اور نظام چلانے کے لیے نااہل تھا ،
لیکن گوروں کی فوج میں لیفٹننٹ کے رینک پر رہنے والا اسکندر مرزا اور کرنل کے عہدے  تک پہنچنے والا ایوب خان محب وطن اور اہل تھے اورصرف وہی قوم کی کشتی پار لیجانے کی صلاحیت رکھتے تھے
اس لئے دونوں محب وطن جانبازوں نے اسے اقتدار سے محروم کردیا ،

قیام پاکستان کے بعد وہ 1947ءسے 1953ءتک پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن اور 1953ءسے 1955ءتک پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے۔ 
وہ 1956ءسے 1957ءتک وہ پاکستان کے وزیر خارجہ رہے، 

فیروز خان نون کا سب سے تاریخی کارنامہ گوادر کو پاکستان میں شامل کرنا ہے ،
وہ گوادر جس کے بغیر آج کا سی پیک نامکمل ہے ۔ 

فیروز خان نون اور گوادر:

تاریخی پس منظر ! 

تاریخی لحاظ سے گوادر بلوچستان کی ریاست قلات کا حصّہ رہا ہے۔ یہ 1784 کی بات ہے جب اومان کے امیر سعید بن احمد کی اپنے بھائی سلطان بن احمد سے لڑائی ہوگئی، 
سلطان بن احمد جان بچا کر قلات آگئے اور والیٔ قلات میر محمد نصیر خان اوّل کے مہمان خصوصی ٹہرے،
والئ قلات نے شہزادے کو مکران کے ساحل پر 2400مربع میل پر مشتمل گوادر کا علاقہ اس شرط پر سونپ دیا تھا کہ جب ضرورت نہیں ہوگی تو یہ علاقہ دوبارہ خان آف قلات کے حوالے کیا جائے گا، 
سلطان بن احمد تیرہ برس بعد 1797میں وطن لوٹے اور بھائی کو اقتدار سے الگ کر کے ریاست اومان کے امیر بن گئے۔
لیکن گوادر کا علاقہ بدستور اومان کے پاس ہیرہا،
نظام چلانے کیلئے گورنر اومان سے آتا تھا، 
1839 میں انگریزوں نے اومان کو فتح کیا، 
ہاں البتہ اومان کو آدھا ریوینیو جاتا رہا ،
آزادی کے بعد بلوچستان کی ریاستیں خاران، مکران، لسبیلہ اور قلات نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا، 
تو گوادر کی ملکیت کا معاملہ پھر اٹھایا گیا، 
 گوادر کے لوگوں کو احساس ہوا کہ وہ تو آزاد ہونے سے رہ گئے، ان کے حکمراں تو ابھی تک سمندر پار سے آ رہے ہیں۔

ایران کو جب صورت حال کا پتہ چلا تو شاہ ایران نے سی آئی اے اور امریکی صدر کے ذریعے دباؤ ڈال کر اسے  چاہ بہار کے ساتھ ملانے کی کوششیں شروع کردیں ،
یہ وہ پس منظر ہے جس میں فیروز خان نون نے تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے گوادر کو پاکستان میں دوبارہ شامل کرنے کا مصمم ارادہ کرلیا، 

فیروز خان نون برطانیہ کے پڑھے ہوئے تھے۔
1945میں جب وہ لندن میں ہندوستان کے ہائی کمشنر مقرر ہوئے تو گوادر سے متعلق کاغذات اتفاقیہ طور پر ان کے سامنے آگئے۔
1956میں جب فیروز خان پاکستان کے وزیر خارجہ مقرر ہوئے تو گوادر فائل کا دوبارہ مطالعہ کیا۔
اگلے برس جب وہ وزیراعظم بن گئے تو اس منصوبے پر کام شروع کردیا، اس وقت پاکستان دولت مشترکہ کا رکن تھا،
برطانوی ہم منصب میکملن سے اس کی پرانی علیک سلیک تھی، فیروز خان نے پرانے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے معاملہ آگے بڑھایا ، 
اس میں سب سے اہم کردار فیروز خان نون کی دوسری زوجہ بیگم وقار النساء نون کا ہے،

وقار النساء نون : 

اصلی نام وکٹوریہ ریکھی تھا،
آسٹریا میں پیدا ہوئیں تعلیم و تربیت برطانیہ میں ہوئی، ملک فیروز خان نون جب برطانیہ میں حکومت ہند کے ہائی کمشنر تھے تب ان سے ملاقات ہوئی، ملک صاحب کی دعوت پر حلقہ بگوش اسلام ہوئیں، 1945 میں بمبئی میں ان سے شادی کی اور اپنا نام وکٹوریہ سے وقار النساء نون رکھ لیا، انہیں وکی نون بھی کہا جاتا ہے۔

 تحریک پاکستان کے دوران بھرپور جدوجہد کی ، 
خواتین کی قیادت کرتے ہوئے احتجاجی جلوس اور مظاہرے منظم کئے، 
جدوجہد آزادی کے دوران تین بار گرفتار بھی ہوئیں۔
قیام پاکستان کے بعد انہوں نے لٹے پٹے مہاجرین کی دیکھ بھال کے لیے بڑا متحرک کردار ادا کیا، 
خواتین ویلفیئر کی اولین تنظیم اپواء کی بانی ارکان میں آپ بھی شامل ہیں، 
وقار النساء گرلز کالج راولپنڈی اور وقار النساء اسکول ڈھاکہ کی بنیاد رکھی،
بیگم وقار النساء نے برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر گوادر کے مسلئے کے لیے بھرپور لابنگ کی،

آخر کار اومان کے سلطان سعید بن تیمور نے سودے بازی کا عندیہ دے دیا، پاکستان پہلے معاوضے سے انکاری رہا کہ جب گوادر خریدا ہی نہیں گیا تو واپسی کیلئے رقم کا مطالبہ کیسے مانا جائے، 
 اخر کار چھ ماہ کے بات چیت کے بعد 30 لاکھ ڈالر پر سودا طے ہو گیا اور 8 ستمبر 1958 کو معاہدے پر دستخط ہوگئے، تکنیکی طور پر اس ڈیل کو تحفہ کا نام دیا گیا یعنی اومان نے گوادر ’’تحفتاً‘‘ پاکستان کے سپرد کر دیا۔

گوادر کی واپسی کے حوالے سے ریڈیو پاکستان پر اپنی تقریر میں وزیراعظم فیروز خان نون نے کہا، 

’’گوادر پاکستان کی خیرخواہی Goodwill اور تعاون کی پالیسی کا پہلا ثمر ہے۔ مجھے پختہ امید ہے اور اس کیلئے دعاگو بھی ہوں کہ ہم اپنے دیگر بین الاقوامی تنازعات بھی امن اور معقولیت کے ساتھ طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘‘

 فیروز خان نون خود اپنے خودنوشت  " چشم دید " میں اس کے بارے میں یوں لکھتے ہیں کہ

 ”گوادر کا معاوضہ ادا کرنا پڑا لیکن جہاں ملک کی حفاظت اور وقار کا مسئلہ ہو وہاں پیسہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا، گوادر جب تک ایک غیر ملک کے ہاتھ میں تھا مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا ہم ایک ایسے مکان میں رہتے ہیں جس کا عقبی کمرہ کسی اجنبی کے تصرف میں ہے اور یہ اجنبی کسی وقت میں بھی اسے ایک پاکستان دشمن طاقت کے ہاتھ فروخت کر سکتا ہے اور وہ دشمن طاقت اس سودے کے عوض بڑی سے بڑی رقم ادا کر سکتی ہے ،اس کارنامہ پر کوئی جشن منایا گیا نہ ہی قرار واقعی تشہیر کی گئی۔ میں نے برطانیہ اور صدر سکندر مرزا سے وعدہ کر لیا تھا کہ اس موقع پر کوئی جشن نہیں منایا جائے گا۔ کیونکہ اس طرح سلطان مسقط کے جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ تھا۔" 

فیروز خان نون کے مطابق
 ”جب وہ سرحدی تنازعات کے تصفیہ سے متعلق مذاکرات کے لئے دہلی گئے تو بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے کہا ”آپ نے گوادر لے لیا“ 
میں نے جواب دیا ”جی ہاں لے لیا“
 
واضح رہے گوادر کے حوالے سے سیاسی قیادت کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ ابتدائی مذاکرات کے ساتھ ہی علاقے کے سروے کیلئے امریکی جیولوجیکل سروے کے ساتھ رابطہ کیا گیا، اور اس کام کیلئے معروف زمانہ سرویئر ورتھ کانڈرک کی خدمات حاصل کی گئیں ،

جنہوں نے  رپورٹ دی کہ 
"ہتھوڑے سے مشابہ خاکنائے ایک جدید اور گہرے پانی کی بندرگاہ کیلئے آئیڈیل لوکیشن ہے" 
امریکی سروے ٹیم کی اس رپورٹ کا جائزہ جرمنی اور اٹلی کے ماہرین نے بھی لیا اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ گوادر کا پوٹینشل کراچی سمیت خطّے کی تمام بندرگاہوں سے کہیں زیادہ ہے۔ 

آج گوادر اور مکران میں پنجابی مزدوروں کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے جذباتی بلوچ نوجوانوں سے گزارش ہے کہ اس گوادر کے حصول میں پنجاب کا بھی خون پسینہ شامل ہے۔

آپ کی اصل دشمن وہ قوتیں ہیں جنہوں نے گزشتہ ستر سالوں سے اس ملک میں آئین اور جمہوریت کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ 
اور بدقسمتی سے زیادہ تر بلوچ سردار ان ہی قوتوں کے آلہ کار رہے ہیں۔
یہ جمہوریت ہی کا ثمر تھا جس میں ایک پنجابی لیڈر نے گوادر کو پاکستان میں شامل کیا،
اور یہ ایک گیا گزرا جمہوری دور تھا جس میں ایک دوسرے پنجابی نواز شریف نے گوادر کو سی پیک سے جوڑ کر امر کردیا ،
اور یہ اسی کرپٹ جمہوری نظام کا معجزہ تھا جب گوادر پورٹ کا انتظام میر حاصل بزنجو کے پاس آیا،
اور پنجاب کے شہباز شریف نے این ایف سی ایوارڈ میں اپنے صوبے کا تین فیصد حصہ بلوچستان کو دیا ، 
لیکن ایک مخصوص پروپیگنڈے کے تحت بلوچستان کی محرومیوں کو اجاگر کیا جاتا رہا، 
پہلے دھرنوں کے ذریعے سی پیک کو روکنے کی کوشش کی گئی اور جب شروع ہوا تو مغربی اور مشرقی روٹ کا شوشہ چھوڑا گیا، 
آج سی پیک عملی طور پر بند ہے تو نہ کسی کو مغربی روٹ یاد ہے نہ مشرقی ،
آج کراچی کا جاوید جبار این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کی نمائندگی کررہا ہے،
لیکن مگر مچھ کے آنسوؤں بہانے والے سارے بلوچ رہنما خاموش ہیں ، 

یہ ہے اس ملک کے غداروں کی داستان جنہوں نے بغیر لڑے اس ملک کے رقبے میں 2400 کلومیٹر کا اضافہ کرلیا،
جبکہ محب وطنوں نے مشرقی پاکستان، سیاچین اور کشمیر  سمیت متعدد علاقے دشمن کو تحفتاً پیش کئے،

بقولِ رفیع رضا 

اور پھر ‏جہاں مُرغانِ گرفتار گِنے جاتے ہیں
ہم پرندے وہاں غدّار گِنے جاتے ہیں، 

دیس کو توڑنے والے بھی وہی ہیں لیکن
دیس کے خاص وفادار گِنے جاتے ہیں،

وہی قبریں ہیں جہاں پر کوئی مدفون نہیں
وہی کتبے ہیں جو ہر بار گِنے جاتے ہیں،

جاری ہے۔۔۔
[14/03, 7 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے: تیرھویں قسط

"ایکسٹینشن" ایک ضروری کام :

 گوادر معاہدے پر دستخط سے تین ماہ قبل کی بات ہے ،
 9 جون 1958 کا یہ دن معمول سے کچھ زیادہ ہی گرم تھا، 
دن کے ایک بجے صدر پاکستان اسکندر مرزا حسب معمول اپنے کمرے سے اُٹھ کر اپنے سیکٹری قدرت اللہ شہاب کے دفتر کی کھڑکی کے پاس آئے اور پوچھا۔
 ''کوئی ضروری کام باقی تو نہیں؟"
شہاب نے نفی میں جواب دیا تو اسکندر مرزا خدا حافظ کہہ کر ایوان صدر میں اپنے رہائشی حصے کی طرف روانہ ہوگئے۔ تھوڑی دور چل کر وہ اچانک رکے اور مڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتے واپس قدرت اللہ شہاب کے کمرے میں آ گئے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی وہ بولے۔
"میں ایک ضروری بات تو بھول ہی گیا"
یہ کہہ کر انہوں نے قدرت اللہ شہاب کی میز سے کاغذ کا  ایک ورق اٹھایا اور وہیں کھڑے کھڑے وزیراعظم فیروز خان نون کے نام ایک مختصر سا خط لکھا کہ
" ہماری باہمی متفقہ رائے کے مطابق بری افواج کے کمانڈر ان چیف کے طور پر جنرل محمد ایوب خان کی ملازمت میں دو سال کی توسیع کے احکامات فوری طور پر جاری کردیے جائیں" 
اس پر انہوں نے most immediate کا لیبل اپنے ہاتھوں سے پن کیا اور قدرت اللہ شہاب کو حکم دیا کہ وہ ابھی خود جا کر یہ نوٹ وزیر اعظم کو دیں اور ان کے عملے کے حوالے نہ کریں۔

آئین کی کتاب کو کاغذ کا پلندہ قرار دینے والوں کو کیا معلوم کہ یہاں تو کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا قوم و ملت کی تاریخ موڑنے کے لیے کافی ہے ،

جس ایوب خان کو قائدِ اعظم نے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیا تھا اسکندر مرزا نے اس کو شہہ دی ، سینئر افسران کو بائی پاس کرکے اسے آرمی چیف بنوایا اور پھر دو سال کی ایکسٹینشن دی ،

جنرل صاحب نے بادل ناخواستہ ملک و قوم کی عظیم تر مفاد میں یہ ایکسٹینشن قبول کی ، 
جس پر صدر پاکستان نے وزیراعظم کے ذریعے شکرانے کا یہ سندیسہ بھجوایا، 

"مجھے بڑی خوشی ہے کہ آپ نے دو برس تک ہماری افواج کے کمانڈر ان چیف کے عہدے پر رہنا منظور کر لیا ہے۔ آپ ابھی بہت کم عمر ہیں، آپ کی عمر ابھی صرف 51 سال ہے لیکن تجربے اور قابلیت میں نہایت پختہ کار ہیں۔ پاکستان موجودہ حالات میں آپ کی خدمات سے محرومی کا نقصان کسی طرح برداشت نہیں کرسکتا اور مجھے یقین ہے کہ پہلے کی طرح ملک کا دفاع آپ کے ہاتھوں میں محفوظ رہے گا"

عظیم سپہ سالار نے اس کے جواب میں لکھا، 

""میں اپنی ملازمت کی توسیع پر آپ کے تعریفی اور حوصلہ افزا پیغام پر شکر گزار ہوں۔ ذاتی طور پر مجھے ریٹائرمنٹ پر بھی ویسی ہی خوشی ہوتی جیسے اس عظیم الشان فوج کی خدمت کا مزید موقع ملنے پر ہوئی جس کی تعبیر میری عمر بھر کی تمنا رہی ہے،  آپ مطمئن رہیں میری بہترین خدمات فوج اور اس کے ذریعے ملک کی خدمت کے لیے وقف رہیں گی۔"

عجلت میں ایکسٹنشن کی روایات ہوں یا چیف کا نہ چاہتے ہوئے ملک و قوم کی خاطر یہ بھاری ذمہ داری قبول کرنے کا اقرار، آخر ساٹھ سالوں میں کیا بدلا ہے؟؟؟

پچاس سال بعد وزیراعظم گیلانی قومی مفاد میں راتوں رات کیانی کو ایکسٹینشن دیتے ہیں اور ساتھ قوم کو خوشخبری سناتے ہیں کہ چیف صاحب نے بہ امر مجبوری یہ بھاری ذمہ داری قبول کی ہے،اس کے لیے ہم ان کے شکر گزار ہیں، 
آج اپوزیشن اور حکومت سارے اختلافات بھلا کر پلک جھپکتے میں پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر ایکسٹینشن بل منظور کرواتی ہیں،اور پھر قوم کی طرف سے چیف کا شکریہ بھی ادا کیا جاتا ہے،

منافقت کے ان پردوں کے پیچھے اصل حقیقت بھی وہی ہے ، 
ایوب خان نے بیٹھے بیٹھے اپنے سامنے ایکسٹنشن کا پروانہ ٹائپ کروایا، 
گیلانی نے دس سال بعد خود انکشاف کیا کہ ہم ایکسٹینشن نہیں دینا چاہتے تھے لیکن جس  نے لینی تھی اس نے لے لی ،
اور آج بھی باپو کابینہ میں بیٹھ کر بقلم خود ایکسٹینشن بل میں اسپیلنگ اور گرائمر کی غلطیوں کو درست کررہے ہوتے ہیں،
بہتر سالوں میں ملک کا دفاع ہمیشہ مضبوط ہاتھوں میں رہا ہے لیکن شومئی قسمت آدھا ملک نہیں رہا، 

گوادر معاہدے کے تحت اگلے تین ماہ کے دوران اس پر حوالگی کے حوالے سے عمل درآمد ہونا تھا اور تقریباً تین ماہ بعد عام انتخابات بھی قریب تھے، 
یوں ملک و قوم کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم فیروز خان نون کو اس کا بڑا سیاسی فائدہ بھی پہنچنے کا احتمال تھا،
لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا ، 
 اکتوبر 1958 کا پہلا ہفتہ تھا،

سپہ سالار جنرل محمد ایوب خان کے بقول 
'میں پانچ اکتوبر کو کراچی پہنچا اور سیدھا جنرل اسکندر مرزا سے ملنے گیا۔ وہ لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تلخ، متفکر اور مایوس۔
 میں نے پوچھا۔
'کیا آپ نے اچھی طرح سوچ بچار کر لیا ہے سر؟'
اس نے جواب دیا
'ہاں۔'
میں نے پوچھا 
'کیا اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں؟'

'نہیں۔ اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں۔'
صدر نے جواب دیا،

'میں نے سوچا کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ حالات ایسے موڑ تک پہنچ گئے ہیں کہ یہ سخت قدم اٹھانا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سے کوئی مفر نہیں تھا۔ یہ ملک بچانے کی آخری کوشش تھی۔'

پھر سات اور آٹھ اکتوبر 1958 کو نصف شب صدر اسکندر مرزا کے حکم پر جنرل ایوب خان نے چند فوجی دستے  ریڈیو پاکستان اور ٹیلی گراف کی عمارت کو گھیرے میں لینے کے لیے بھیج دیے گئے، 
پہلا تجربہ تھا اس لئے کوئی تقریر وغیرہ کا اہتمام نہیں کیا جاسکا، 
بس دو فیصلے ٹائپ کردئیے گئے،

پہلا فیصلہ رات کے ساڑھے دس بجے سائیکلوسٹائل کر کے اخباروں کے دفتروں اور سفارت خانوں کو بھیج دیا گیا، 
جس کے مطابق صدر اسکندر مرزا نے آئین معطل، اسمبلیاں تحلیل اور سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے کر ملک کی تاریخ کا پہلا مارشل لا لگا دیا اور آرمی چیف ایوب خان کو مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا،
اس ناگزیر اقدام کی وجوہات کچھ یوں بیان کی گئیں، 

"میں پچھلے دو سال سے شدید تشویش کے عالم میں دیکھ رہا ہوں کہ ملک میں طاقت کی بےرحم رسہ کشی جاری ہے، بدعنوانی اور ہمارے محبِ وطن، سادہ، محنتی اور ایمان دار عوام کے استحصال کا بازار گرم ہے، رکھ رکھاؤ کا فقدان ہے اور اسلام کو سیاسی مقاصد کے لیے آلۂ کار بنا دیا گیا ہے، سیاسی جماعتوں کی ذہنیت اس درجہ گر چکی ہے کہ مجھے یقین نہیں رہا کہ انتخابات سے موجودہ داخلی انتشار بہتر ہو گا اور ہم ایسی مستحکم حکومت بنا پائیں گے جو ہمیں آج درپیش لاتعداد اور پیچیدہ مسائل حل کر سکے گی۔ ہمارے لیے چاند سے نئے لوگ نہیں آئیں گے، 
یہی لوگ جنھوں نے پاکستان کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے، اپنے مقاصد کے لیے انتخابات میں بھی دھاندلی سے باز نہیں آئیں گے،یہ لوگ واپس آ کر بھی وہی ہتھکنڈے استعمال کریں گے جنھیں استعمال کر کے انھوں نے جمہوریت کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے" 

وطن عزیز میں بعد میں آنے والے آمروں نے تقریباً یہی سکرپٹ معمولی ردوبدل کے ساتھ کاپی پیسٹ کیا ، 

 آئین منسوخی کے اہم ترین کام سے فارغ ہونے کے بعد دوسرا  فیصلہ وزیر اعظم کے نام ایک ضروری خط لکھنا تھا، 
جس میں انھیں عہدے سے ہٹانے کی خوشخبری سنانی تھی،
اس تاریخی خط کو مرزا کا اے ڈی سی رات گیارہ بجے بنفس نفیس فیروز خان نون کو پہنچانے گیا تو وہ سو رہے تھے ، کام ضروری تھا سو ان کو ’غفلت‘ کی نیند سے جگایا۔ خط ڈلیور کرکے نامہ بر رفوچکر ہونے کو تھا،
تو فیروز خان نون نے کہا ،
" ذرا رکئے ، ممکن ہے جواب کی ضرورت ہو" 
تو اس نے یہ کہہ کر لاجواب کردیا،
’’ سر جواب نہیں چاہیے۔ ‘‘

وہ تاریخی خط کچھ یوں تھا، 

ایوانِ صدر، کراچی

7 اکتوبر 1958ء

مائی ڈیئر سر فیروز!

میں بڑے غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس ملک میں استحکام اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا، جب تک اس کی ذمہ داریاں میں خود نہ سنبھال لوں اور انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں نہ لے لوں۔ 3 مارچ 1956ء کا آئین نہ صرف یہ کہ ناقابل عمل ہے بلکہ پاکستان کی سالمیت اور اس کے استحکام کے لیے خطرناک بھی ہے۔ اگر ہم اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے تو بالآخر ہمیں پاکستان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

لہٰذا مملکت کے سربراہ کی حیثیت سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئین منسوخ کردوں، تمام اختیارات خود سنبھال لوں۔ اسمبلیوں، مرکزی پارلیمنٹ اور مرکزی اور صوبائی کابینہ کوتوڑ دوں۔ مجھے صرف اتنا افسوس ہے کہ یہ فیصلہ کن انقلابی اقدام مجھے آپ کی وزارت عظمیٰ کے زمانہ میں کرنا پڑا ہے۔ جس وقت آپ کو یہ خط ملے گا مارشل لاء نافذ ہو گیا ہو گا اور جنرل ایوب جنہیں میں نے مارشل لاء کا ناظم اعلیٰ مقرر کیا ہے اپنے اختیارات سنبھال چکے ہوں گے۔

آپ کے لیے ذاتی طور پر میرے دل میں بڑا احترام ہے اور آپ کی ذاتی خوشی اور فلاح کے لیے جو کچھ بھی ضروری ہوا میں بے تامل کروں گا۔

آپ کا مخلص

سکندر مرزا

اس ناگزیر اقدام کی منصوبہ بندی کب سے کی جاری تھی اس کے بارے میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) مجید ملک کچھ یوں فرماتے ہیں،

 " ستمبر 1958 ء میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا مارشل لاء لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ مارشل لاء کی ابتدائی پلاننگ میں جنرل ایوب خان ‘ جنرل یحییٰ خان‘ جنرل عبدالحمید‘ بریگیڈئر عتیق الرحمنٰ اور بریگیڈئر پیرزادہ شامل تھے جبکہ سینئر افسر ہونے کی وجہ سے جنرل مجید ملک کو سب کا سٹاف افسر بنا دیا گیا اس آپریشن کی پلاننگ خفیہ تھی کہ ملٹری انٹیلی جنس بھی اس سے بے خبر تھی۔ مارشل لاء کی پلاننگ راولپنڈی میں ہوئی جبکہ دارالحکومت کراچی تھا۔ لہذا مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان صدر نے کراچی سے کرنا تھا۔ پکڑے جانے کی صورت میں پلاننگ کا تمام ریکارڈ جلا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ تمام ریکارڈ ٹرانزٹ کیمپ کے سیف میں رکھا گیا۔ ایوب خان کویٹہ سے کراچی بذریعہ ٹرین 6 اکتوبر 1958ء کو پہنچے " 

دوری ایوبی میں دارلخلافے کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کی شائد ایک وجہ یہ بھی تھی کہ زماں ؤ مکاں کے یہ فاصلے وزیراعظم ہاؤس کے فتح یابی میں آڑے آ رہے تھے۔ 

آئین منسوخ کرکے مارشل لاء لگانے کے اصل وجوہات کیا تھیں ؟؟؟؟
جاری ہے۔۔۔

#غداروں_کی_تاریخ
[14/03, 7:00 pm] MUKHTAR AHMAD: غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے: چودھویں قسط

ملک میں آئین و جمہوریت کو لپیٹ کر مارشل لاء لگانا کوئی وقتی یا جذباتی عمل نہیں تھا بلکہ اس کے لیے کئی سالوں سے منصوبہ بندی کی جاتی رہی اور اس پیچھے کئی اندرونی و بیرونی عوامل کارفا تھے ،

بیرونی عوامل :
بیرونی عوامل میں امریکہ سرفہرست تھا ، 
دوسری جنگ عظیم میں جب جاپانی فوجیں برما کی محاذ تک پہنچ گئیں تو یہ علاقہ امریکہ کی توجہ کا مرکز بننا شروع ہوا، 
گریٹ گیم سے متعلق دستاویزات پڑھیں تو ان افسانوں میں حقیقت کا رنگ نظر آتا ہے کہ قیام پاکستان کا مقصد ہی اس علاقے میں کیمونزم اور سوشلزم کے خلاف ایک فرنٹ لائن اسٹیٹ کا قیام تھا جو اس علاقے میں امریکہ و یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام کے مفادات کا تحفظ کرسکے،
بعد میں تقسیم ہند کے بعد سرد جنگ کے دوران امریکا کو اس علاقے میں پاکستان کی صورت میں ایک ایسا اتحادی ملا جو کرائے کے فوجی کا کردار ادا کرنے کو بخوشی تیار تھا،
دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکا نے برطانیہ پر دباؤ ڈالا کہ وہ ہندوستانی عوام اور خاص طور پر سیاسی جماعتوں سے برتاؤ میں نرمی پیدا کرے، 
امریکا کی جانب سے درخواست کی گئی کہ ہندوستان کی نمائندگی کے لئے اعزازی سفیر واشنگٹن میں تعینات کیا جائے۔ جواب میں امریکا نے ایک تجربہ کار سفارت کار کو امریکی صدر کے ’خاص نمائندے‘ کے طور پردہلی بھیجا،
سرمایہ دارانہ نظام کو پہلے صرف سویت یونین سے خطرہ لیکن 1949 چین کے کیمونسٹ انقلاب نے اس خطرے کو دوبالا کر دیا، مطلب یک نہ شد دو شد

 1949ء میں امریکی سینٹ کی کمیٹی برائے جنوبی ایشیا میں یہ تجویز دی گئی کہ جنوبی ایشیائی ممالک کی معاشی امداد کی جائے تاکہ ان کی ہمدردی روس کی بجائے امریکا اور یورپی ممالک کی جانب ہو، 
اسی رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی کہ پاکستان کی معاشی امداد کی جائے تاکہ امریکا ہنگامی حالات میں کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈے استعمال کر سکے۔

 سنہ 1953ء میں گورنر جنرل غلام محمد  نے عالمی میڈیا  کے سامنے برملا اعلان کیا کہ،
’یہ خبر بالکل غلط ہے کہ میری حکومت امریکی سے فوجی امداد کے عوض اسے اپنے ہوائی اڈے تعمیر اور استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے"

اس سلسلے میں امریکہ بھی شش و پنج کا شکار رہا کیونکہ امریکی وزیر خارجہ ڈین ایچیسن کے مطابق پاکستان کا امریکا سے تعاون کا فیصلہ بھارت دشمنی کے نتیجے میں ہو گا اور ان کے خیال میں یہ خطرہ مول لینا امریکا کے مفاد میں نہیں تھا۔

1955ء میں روس کے سربراہ خروشیف نے سرینگر میں خطاب کے دوران پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ امریکا کو اڈے دینے سے باز رہے،

حسین شہید سہروردی پہلے وزیر اعظم تھے جنہوں نے 1956 میں چین کا دورہ کرکے مضبوط تعلقات کی بنیاد رکھی۔
 
اس دورے میں کابینہ اور اعلیٰ افسران کا ایک بڑا وفد بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھا جس نے چینی وزیر اعظم چو این لائی کے ساتھ ملاقات کی اور مختلف معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس ملاقات کے بعد ہی بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانہ قائم کیا گیا۔ اسی طرح جب 1957 میں چو این لائی پاکستان آئے تو کراچی میں ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔

سہرودی اور دیگر سیاسی لیڈر انڈیا کے طرز پر ایک آزاد خارجہ پالیسی ترتیب دینا چاہتے تھے، جس میں امریکا اور روس میں کسی ایک طرف جھکاؤ کے بجائے ایک متوازن تعلقات کا عنصر نمایاں ہو، 
اس سلسلے میں ملکی تاریخ میں پہلی بار فروری 1957ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں  خارجہ پالیسی پر بحث ہوئی۔ اس دوران سیٹو اور بغداد پیکٹ میں شمولیت کے فیصلوں پر رائے دہی کروائی گئی جس میں بیشتر ارکان اسمبلی نے ان معاہدوں کی تصدیق کرنے کا فیصلہ کیا، 
اس سلسلے میں جولائی 1957ء میں سہروردی نے امریکا کا دورہ کیا ،
 اس دورے کے دوران امریکہ کے ساتھ تعاون کے بدلے، پاکستان کے لئے معاشی اور فوجی امداد کا تقاضہ شامل تھا، 

گوادر کو پاکستان میں شامل کرنے کے بعد فیروز خان نون کی خواہش تھی کہ جلد از جلد مسلئہ کشمیر کا حل نکالا جائے، اس عزم کا اظہار نون نے ریڈیو پاکستان پر گوادر کے حوالے سے قوم کو خوشخبری سناتے ہوئے کیا تھا ،

’’گوادر پاکستان کی خیرخواہی Goodwill اور تعاون کی پالیسی کا پہلا ثمر ہے۔ مجھے پختہ امید ہے اور اس کیلئے دعاگو بھی ہوں کہ ہم اپنے دیگر بین الاقوامی تنازعات بھی امن اور معقولیت کے ساتھ طے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘
کچھ عرصہ بعد فیروز خان نون نے باہمی تنازعات کے حل کے لیے بھارت جاکر اپنے ہم منصب نہرو سے ملاقات کی، 

فیروز خان نون جیسے جہاندیدہ لیڈر کو اس بات کا احساس تھا کہ  امریکہ کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مسلہ کشمیر کے حل کا بہترین وقت ہے،

فیروز خان نون نے مارچ 1958ء میں قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران امریکا کو خبر دار کیا،
"اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں پاکستان کی اعانت نہ کی گئی تو ’دنیا سے تمام معاہدے ختم کیے جا سکتے ہیں" 

اس بیان کے بعد امریکی وزرات خارجہ نے واشنگٹن میں متعین پاکستانی سفیر کو اپنے خدشات سے آگاہ کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ 
" پاکستانی سیاست دانوں کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے دونوں ملکوں کے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے" 

اس واقعے کے فوراً بعد ایوب خان اور پاک فضائیہ کے سربراہ امریکہ کے دورے پر گئے اور انہیں ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا، ساتھ ہی بھارتی جارحیت کے خلاف بی 57 بمبار طیاروں کی جلد از جلد فراہمی کی درخواست بھی کی گئی، 

امریکہ کسی بھی صورت بھارت سے ناراضگی کی قیمت پر پاکستان سے تعلقات بڑھانے کے حق میں نہیں تھا، 
ان کی خواہش تھی کہ پاکستان فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ضرور ادا کرے لیکن مسلئہ کشمیر کے شرط کے بغیر کہ اس سے امریکہ بھارت تعلقات خراب ہونے کا خدشہ تھا ،
جبکہ پاکستان کی جمہوری حکومت پہلے مسلئہ کشمیر کا مطالبہ کرتی رہی ،
آخر کار امریکیوں نے اپنے وفاداروں کے ذریعے جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری ، 

یاد رہے طاقت کے اصل محور اسکندر مرزا اور ایوب خان کافی عرصہ سے امریکیوں کے ساتھ خفیہ ڈیل میں ملوث تھے، 

امریکہ کے لئے جاسوسی خدمات : 
1950 سے ہی امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف جاسوسی کا ایک منظم پراجیکٹ شروع کیا تھا، 
یہ ہمہ گیر موضوع ایک علحیدہ کتاب کا متقاضی ہے، 
مختصر یہ کہ 1956 میں امریکہ نے بلند پرواز یو 2 طیاروں کا استعمال کیا جو سویت یونین کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے ان کے ایٹمی اور ملٹری تنصیبات کی جاسوسی کیا کرتے تھے، 
ریچرڈ بیسل سی آئی اے میں یو ٹو پروگرام کے انچارج تھے، 
اس کا معاون خصوصی مسٹر جیمز متعدد بار پاکستان آیا وہ جنرل ایوب خان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا تھا، 
اس سلسلے میں لاہور اور پشاور کے ہوائی مستقروں سے یو ٹو کی پروازیں شروع کرنے پر اتفاق رائے طے پایا ،

مسلئہ کشمیر تو ادھر کا ادھر ہی رہا ،
البتہ پہلے مارشل لاء کے نفاذ کے ساتھ ہی پاکستان ایک ذمہ دار ملک کی طرح امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا،
اور بعد میں آنے والے ہر ڈکٹیٹر نے ان تعلقات کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، 
بھٹو اور نواز شریف جیسے سیاسی لیڈروں نے جب بھی فیروز خان نون کی طرح  جذبات میں آکر غیر زمہ دارانہ بیانات داغے ، نشانہ عبرت بنا دئے گئے،

مسلئہ کشمیر اور اصغر خان کی گواہی :

مسلئہ کشمیر پر سب سے معتبر گواہی پاک فضائیہ کے پہلے سربراہ ریٹائرڈ ائر مارشل اصغر خان کی ہوسکتی ہے،
یاد رہے ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان  17 جنوری 1921 کو کشمیر ( جموں ) کے ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے،
 اور 1957 میں پاک فضائیہ کے پہلے پاکستانی سربراہ مقرر ہوئے، اس دور کے محلاتی سازشوں کے چشم دید گواہ ہیں،
اپنے تصانیف اور انٹرویوز میں مسلئہ کشمیر کا خلاصہ کچھ یوں پیش کرتے ہیں، 

" ان کی معلومات کے مطابق مہا راجہ کشمیر تقسیم بر صغیر کے بعد تین ہفتوں تک حکومت پاکستان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن وزیر اعظم کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ مہا راجہ کشمیر کی خواہش تھی کہ ان کی کشمیر کے حکمراں کی حیثیت کو بر قرار رکھا جائے تو وہ پاکستان سے الحاق کو تیار ہیں۔ لیکن حکومت نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد خان عبد القیوم کے مشورے اور ایما پر قبائلیوں اور جو فوجی چھٹیوں پر تھے، ان کی مدد سے کشمیر پر لشکر کشی کی۔ اس صورت حال میں مہا راجہ کشمیر نے بھارت سے فوجی مداخلت کی درخواست کی اور بھارت سے الحاق کر لیا۔ اگر لشکر کشی نہ کی جاتی تو آج کشمیر کی صورت حال قطعی مختلف ہوتی" 

اصغر خان فرماتے ہیں کہ۔ 
 " کہ ہر حکومت اور خاص کر ملٹری حکومت خرچے پورے کرنے کے لیے امریکہ کی مدد کرتے ہیں۔ اگر ہم نے امریکہ کی حمایت نہیں کرنی تو ہم کو اپنے عسکری اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ تعلیم کا بجٹ بڑھانا ہوگا، جب ہی ہم اقوام عالم کا ہر سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے" 

ایک انٹرویو میں جب میزبان نے سؤال کیا کہ 
" مسلئہ کشمیر کے حل میں کون سی قوت رکاوٹ ہے" 
تو اصغر خان نے برملا کہا،
" پاکستانی فوج ، ہماری فوج نہیں چاہتی کہ مسلئہ کشمیر حل ہو "

تاریخی مماثلتیں :

تاریخ کو پڑھ کر کچھ اتفاقیہ طور پر تاریخی مماثلتیں سامنے آتی ہیں، 

اس خطے میں جب بھی امریکہ کو ہماری خدمات کی ضرورت پڑی تو جمہوریت کو ہٹا کر غیر جمہوری قوتوں کو سامنے لایا گیا ، 

1958 میں سرد جنگ میں خدمات درکار تھیں تو فیروز خان نون کو ہٹاکر اسکندر مرزا اور ایوب خان کو آئے ،

1979 میں جب روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو بھٹو کو ہٹاکر امیر المومنین کو لے آئے،
سنا ہے آپنی گرفتاری کے بعد ذولفقار علی بھٹو نے سب سے پہلے سوال یہ کیا تھا کہ " کیا افغانستان پر حملہ کردیا گیا ہے" اس سے پہلے بھٹو ویت نام کی جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کرنے سے انکار کر چکے تھے، 

1999 میں نواز شریف کو اس لئے ہٹادیا گیا کہ افغانستان میں ایک نئی لشکر کشی کی تیاریاں ہورہی تھیں اور نواز شریف جیسے نااہل شخص کے ہوتے ہوئے یہ سب کچھ ممکن نہ تھا ، 

اور پھر 2018 میں دشمن کو ووٹ کی مدد سے اس لئے شکست دی گئی تاکہ سی پیک اور کشمیر کا قصہ تمام کیا جاسکے ،

جمہوریت کا تختہ الٹنے سے قبل اسکندر مرزا نے امریکی سفیر کو چار اکتوبر کو ہی مطلع کر دیا تھا کہ ایک ہفتے میں مارشل لاء نافذ کر دیا جائے گا۔ امریکی وزارت خارجہ نے سفیر کے ذریعے صدر پاکستان کو پیغام بھیجا کہ ایسی کسی حرکت سے باز رہیں۔ پاکستانی حکومت نے اس تنبیہ کو نظر انداز کردیا جس کے بعد امریکا کا پیغام آیا کہ محدود مدت کے لئے جمہوری عمل روکنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس کے بعد غیر جانب دار انتخابات ضرورکروائے جائیں ، 

اسی طرح کی امریکی وارننگ ضیاء مارشل لاء کے وقت بھی جاری کردی گئی،

1999 کی کہانی تو زبانی یاد ہے ، فوجی بغاوت سے چند دن قبل کلنٹن انتظامیہ کی جانب سے ایک سخت بیان جاری کیا گیا کہ پاکستان میں کسی قسم کی غیر آئینی اقدام کی بھرپور مخالفت کی جائے گی اور فوج کسی قسم کے غیر آئینی اقدام سے باز رہے ، 

2008 کے مشرف ایمرجنسی لگانے سے قبل امریکی سیکٹری خارجہ نے پھر ایک بار تنبیہ کی کہ کسی قسم کی آئینی ایمرجنسی ناقابل قبول ہوگی ، 

ہر بار آئینی حکومت کو کرپشن ، اقربا پروری ، انتظامی و معاشی بدحالی کے الزامات کے تحت ہٹایا گیا اور ہر مارشل لاء کو قوم و ملک کے عظیم تر مفاد میں ناگزیر اقدام قرار دے دیا گیا، 
اور ہر بار آئین کی محافظ عدلیہ نے غیر آئینی اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز و حلال قرار دے دیا ، 

1958 میں گوادر کو پاکستان میں شاملِ کرنا اگر فیروز خان نون کا جرم تھا تو 2018 میں گوادر کو سی پیک سے ملانا نوازشریف کا ناقابل معافی قصور جس کی سزا وہ ابھی تک بھگت رہا ہے۔ 

یہ ہے وطن عزیز کی وہ تاریخ جس میں صرف وقت اور کردار بدلتے ہیں،  کہانی کا اسکرپٹ وہی پرانا ہی ہے ،

جاری 

نوٹ : میں نے آج تک کسی کو اپنی تحاریر کے کاپی پیسٹ سے منع نہیں کیا ، لیکن اس سلسلے کو کتابی شکل میں چھاپنے کا ارادہ ہے ، کچھ خواتین و حضرات پوسٹ کے شئر ہوتے ہی اس کو اپنے نام کے ساتھ مختلف فورم پر پبلش کررہے ہیں ، بس عرض یہ کرنا تھا کہ اگر آپ لوگوں نے اپنے نام کے ساتھ شائع کرنا ہے تو پھر میں اپنے کتاب کی اشاعت روک لوں ، یا بصورت دیگر خود کتاب شائع کرکے باقی قسطیں سوشل میڈیا پر ڈال دوں ، ذرا ان باکس آکر رہنمائی فرمائیں ۔۔

نیز میری ان تحاریر میں بیس سے پچیس فیصد عبارتیں مختلف آپ بیتیوں سے ہو بہو نقل کرکے لکھ دی گئی ہیں کہ تاریخ میں اصل عبارت ہی سند رہتی ہے، سوشل میڈیا پر ان کے حوالے دینا ممکن نہیں انشاللہ کتابی شکل میں ان تمام کے حوالے پیش کردئیے جائیں گے ،پھر آپ استفادہ کرسکتے ہیں، 
شکریہ
[14/03, 7:00 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے: پندرہویں قسط

اندرونی عوامل : 

عام انتخابات کا ڈر : 
آئین کے مطابق تین ماہ بعد عام انتخابات ہونے تھے ، 
اس لئے اس بار وزیراعظم فارغ کرنے کا بھی کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا ، کیونکہ عام انتخابات میں حکمران اتحاد کے دوبارہ جیتنے کے امکانات زیادہ تھے اور نئے ایوان نے صدر مملکت کا انتخاب کرنا تھا ، 

فیروز خان نون نے اپنی سوانح " چشم دید"  میں جو منظر کشی کی ہے اس کا لب لباب کچھ یوں ہے،

"  اسکندر مرزا کو جمہوریت سے نفرت  تھی، وہ وزیر اعظم کے اختیارات حاصل کرنا چاہتے تھے جس کی راہ میں آئین سب سے بڑی رکاوٹ تھی ۔
  اسکندر مرزا نے ایک دو دفعہ ان سے پوچھا،
’’ کیا آپ کی رائے میں حکومت کا جمہوری طریقہ ہمارے ملک کے مزاج کے موافق ہے؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ مجھے مستعفیٰ ہوجانا چاہیے لیکن جب انھوں نے محسوس کیا کہ میں انتخابات منعقد کرانے کے لیے اس عرصہ تک حکومت برقرار رکھنے پر تلا بیٹھا ہوں تومجھے بے دخل کرنے کا واحد طریقہ یہی رہ گیا تھا کہ آئین منسوخ کردیا جائے" 

مارشل لاء کے نفاذ سے کچھ ہی عرصہ قبل برطانوی ہائی کمشنر سر الیگزینڈر سائمن نے اپنی حکومت کو ایک خفیہ مراسلہ بھیجا اس کے مطابق،
 " صدرِ پاکستان نے انھیں بتایا ہے کہ اگر انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی حکومت میں ناپسندیدہ عناصر موجود ہوئے تو وہ مداخلت کریں گے ،ناپسندیدہ عناصر' سے مراد وہ ارکانِ اسمبلی ہیں جو اسکندر مرزا کو دوبارہ صدر بنانے کے لیے ووٹ نہ دیں" 

مارشل لاء سے پہلے میڈیا ٹرائل : 
لوگوں کی ذہنوں کو جمہوریت اور سیاسی قیادت سے بدظن کرنے کے لیے اخبارات ( اس وقت ریڈیو پاکستان کے علاؤہ اخبارات اور رسائل ہی ذرائع ابلاغ تھے)  میں ایک مخصوص 
پروپیگنڈہ شروع کیا گیا، 

نون نے اس کا ذکر کچھ یوں کیا ہے ،

’’ بدقسمتی سے میرے دور میں مارشل لاء کے نفاذ تک بالخصوص اخبارات نے اپنے رہنماؤں پر حملہ کرنے ، جماعتی اختلافات کو ہوا دینے اور ذاتی عداوتوں کا بیج بونے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کا رویہ اکثر وبیشتر غیر ذمہ دارانہ تھا۔ اسی غیر ذمہ دارانہ رویہ نے اکتوبر 1958 سے پہلے غیر یقینی فضا پیدا کرنے میں مدد دی۔ عوامی نمائندوں پر حملے اور محض سنسنی پھیلانے یا ذاتی مفاد پورے کرنے کے لیے طرح طرح کی خبرسازی اور ان کی اشاعت روز کا معمول بن چکی تھی۔‘‘

مماثلت :
ذرا 1977، 1999 اور 2018 کے انقلابات سے پہلے میڈیا ٹرائل پر ایک نظر ڈالیں،

آزاد تجزیہ نگاروں کے مطابق اسکندر مرزا اور ایوب خان نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جمہوری عمل کو گندا کیا، آئین کے نفاذ کے تین سال کے اندر اندر مرکز میں چار حکومتیں بنائی اور ہٹائی گئیں،

قدرت اللہ شہاب کے مطابق ان سب برخواستگیوں اور جوڑ توڑ میں صدر اسکندر مرزا تین باتیں ثابت کرنا چاہتے تھے۔ اول "نیا آئین قابل عمل نہیں"۔ 
دوئم یہ کہ ‘ملک بھر میں کوئی بھی سیاسی شخصیت ایسی نہیں جو مستحکم سیاسی حکومت بنائے’۔ 
سوئم یہ کہ ‘عملی سیاست میں کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جو ملک کے دونوں حصوں(مشرقی و مغربی) کا اعتماد حاصل کرکے حکومت کا کاروبار سنبھال سکے۔ 
اور تین سال کے اندر اندر انھوں نے اپنا بڑا مقصد حاصل کرلیا کیونکہ اس عرصے میں ملک میں تقریباً تمام سیاسی پارٹیاں اور اہم رہنما کے بعد دیگرے حکومت میں شامل ہوکر ناکام کردیے گئے تھے" 

فیروز خان نون اسکندر مرزا اور ایوب خان کے اس  گھٹ جوڑ کو توڑنا چاہتے تھے ، اس لئے وہ کسی بھی صورت ایوب خان کو توسیع دینے کے حق میں نہیں تھے انہوں نے نئے آرمی چیف کے طور پر جنرل شیر علی پٹودی کا نام تجویز کیا تھا،
لیکن وہ اسکندر مرزا سے براہ راست محاذ آرائی کرکے جموری نظام کو کمزور بھی نہیں کرنا چاہتے تھے،
 ان کی پوری توجہ آئین کے تحت ہونے والے انتخابات کی طرف تھی تاکہ عوامی مینڈیٹ کے ساتھ ایک مضبوط پارلمینٹ وجود میں آسکے، اس لیے انھوں نے بادل ناخواستہ ایوب خان کو دو سال کی توسیع دے دی۔

نئے انتخابات کے بعد دستور کی رو سے اسکندر مرزا کو صدارت سے مستعفیٰ ہوکر اسمبلی سے دوبارہ منتخب ہونا تھا۔ اپنے سر پر الیکشن کی تلوار لٹکتے دیکھ کر اسکندر مرزا نے انتخابات کو ایک سال آگے بڑھا دیا۔ فیروز خاں نوں کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات میں فتح کا یقین تھا انہوں نے ایک سال کی توسیع بھی گوارا کر لی۔

لیکن درحقیقت میرجعفر کے پڑپوتے اسکندر مرزا کو جمہوری نظام سے ہی چڑ تھی، اس لئے عام انتخابات کے عمل سے مستقل جان چھڑانے کے لیے اس نے کئی حربے آزمائے ، 
کبھی سیاسی رہنماؤں کو پیسے کا لالچ دیا گیا تو کبھی انقلابی کونسل کی تجویز سیاسی حلقوں میں پھیلائی گئی،
کبھی نواب آف بھوپال کو کراچی طلب کرکے اسے وزیراعظم بنانے کا جھانسہ دیا گیا، 
تو کبھی راجہ صاحب محمود آباد اور نواب آف قلات کو اپنے سازشی منصوبے میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی، 
کبھی نامور مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں سے الیکشن کے بائیکاٹ کے نعرے لگوائے جاتے رہے ،
تو کبھی سرد موسم کا بہانہ تراشا گیا، 
کراچی کے شہریوں کی طرف سے صدر کو سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا جس میں پارلیمانی نظام حکومت کی جگہ کوئی اور نظام لانے پر اصرار تھا ۔

مماثلت : 
آج دیکھیں عمران خان کے ذریعے پہلے دیگر جماعتوں اور ان لیڈر شپ کو کرپٹ اور نااہل ثابت کیا گیا، اور اب جمہوری عمل کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اسلامی صدارتی نظام کے شوشے چھوڑے جارہے ہیں، 

دوسری جانب فیروز خان نون خارجہ میدان کے ایک ماہرِ کھلاڑی تھے، گوادر کے انضمام نے ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ کردیا تھا،  اس کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملانے کے فن نے بھی مرزا کی نیندیں حرام کر دی تھیں، 
 فیروز خان نون نے جمہوری نظام کے لیے اسکندر مرزا کے ہر داؤ کو برداشت کیا لیکن آئندہ صدارت کی یقین دہانی نہیں کروائی ،
اس لئے اسکندر مرزا کے بقول ایسی جمہوریت ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں تھی، 

لہذا جب یقین ہوچلا کہ ان دیسی ٹوٹکوں سے الیکشن سے جان چھڑانا ممکن نہیں تو آرمی چیف سے مل کر آئین پر  ہی ضرب لگانے کا منصوبہ بنا لیا گیا تاکہ جمہوریت کے نام پر جاری یہ مذاق ختم کیا جاسکے، 

پاکستان ریپبلکن پارٹی اور ڈاکٹر خان کا قتل : 

پاکستان رپبلکن پارٹی 1955 کو مسلم لیگ کے ناراض ارکان اور مغربی پاکستان کے کچھ سیاست دانوں نے بنائی تھی۔
ڈاکٹر خان (خان عبد الجبار خان ) اس کے صدر اور فیروز خان نون پارلیمانی لیڈر تھے ، 
 پنجاب سے نواب مظفر علی خان ،گجرات سے چودھری فضل الٰہی اور سید جمیل حسین رضوی، لاہور سے سید امجد علی، مظفر گڑہ سے سردار عبد الحامد خان دستی، جھنگ سے کرنل (ر) سید عابد حسین، سردار عامر اعظم خان، رحیم یار خان سے مخدوم حسن محمود، فیصل آباد سے مہر محمد صادق اس کے اہم رہنما تھے،

ڈاکٹر خان کون تھے ؟
پورا نام خان عبد الجبار خان تھا، خدائی خدمت گار تحریک کے بانی اور موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی خان کے دادا خان عبدلغفار خان کے بھائی تھے،
لندن سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور کچھ عرصہ پریکٹس کرتے رہے، 
1930 میں خان عبد الغفار خان کے اصرار پر عملی سیاست میں قدم رکھا،
1937 کے انتخاب میں کانگریس سے ملکر صوبہ سرحد میں حکومت قائم کی، جب کانگریس نے وزارتوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تو مستعفیٰ ہو گئے، 
1946 کے انتخابات میں پھر بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور صوبے کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے، 
قیام پاکستان کے دو ہفتے بعد ان کی وزارت کو غیر آئینی طریقے سے برطرف کرکے عبدالقیوم خان کو وزیر اعلیٰ بنادیا گیا، جبکہ ڈاکٹر خان چھ برس تک ضلع ہزارہ میں نظر بند رہے،
1954ء میں مرکزی کابینہ وزیر مواصلات بنا دئیے گئے ،
اکتوبر 1955 میں انھیں مغربی پاکستان کا وزیراعلی نامزد کیا گیا۔ 1957ء میں ان کی وزارت برطرف کر دی گئی، 

قتل : 
مئی 1958 میں ریپبلکن پارٹی کے بانی اور صدر ڈاکٹر خان  اپنے سرکاری افسر بیٹے سعد اللہ خان سے ملنے کے لیے لاہور آئے ہوئے تھے،  
9مئی 1958ء کو میانوالی سے تعلق رکھنے والا ایک سابق پٹواری عطا محمد سرکاری رہائش گاہ پر اس سے ملنے کے لیے آیا، 
قصہ کچھ یوں تھا کہ عطا محمد کو دو برس قبل اس کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا۔ اس نے ڈاکٹر خان صاحب سے کہا کہ وہ اس کی بحالی کے سلسلے میں اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ ڈاکٹر خان صاحب نے اس سے کہا کہ وہ حصول انصاف کے لیے متعلقہ حکام سے جاکر ملے ‘ وہ اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ تھوڑی دیر بعد عطا محمد اچانک بنگلے میں دوبارہ داخل ہوا اور اس نے چاقو کے پے در پے وار سے ڈاکٹر خان صاحب کو شدید زخمی کردیا۔ ڈاکٹر خان صاحب کو فوراً میو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہنچتے ہی انہوں نے دم توڑ دیا۔ ان کی میت ایک خصوصی طیارے کے ذریعے پشاور لے جائی گئی شام کے وقت انہیں اتمان زئی کے مقام پر سپرد خاک کردیا گیا۔ ڈاکٹر خان صاحب کے قاتل عطا محمد کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس پر مقدمہ چلا اور 10 فروری 1961ء کو اسے پھانسی دے دی گئی۔

ڈاکٹر خان کے قتل سے فیروز خان نون کے لئے حالات مزید کشیدہ ہو گئے،

تاریخی مماثلت : 
جس ڈاکٹر خان کی آئینی حکومت ریاست پاکستان نے ختم کی، اسے چھ سال نظر بند رکھا،  بابڑا میں ان کے بیگناہ کارکنوں کو شہید کروایا گیا ، وہ ڈاکٹر خان پھر بھی ایک پنجابی فیروز خان کے ساتھ آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے کھڑا رہا ، آج بھی خیبرپختونخواہ کا اسفندیار ہو یا بلوچستان کا محمود خان اچکزئی اور حاصل بزنجو ایک پنجابی نواز شریف کے ساتھ آئین اور دستور کی بالادستی کے لیے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، وہ پنجاب جن کے سامنے انہیں ہمیشہ غدار اور ملک دشمن بنا کر پیش کیا گیا، 

خراب معاشی حالات کا بہانہ : 
مارشل لاء نافذ کرنے کے لیے خراب معاشی حالات کا بہانہ بھی تراشا گیا، فوج کی جانب سے بیان جاری ہوا کہ معیشت کے حالات ابتر ہیں اور مہنگائی کے باعث عام شہری کو اشیائے خورونوش حاصل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے 1959ء کے اعداد شمار کے مطابق فوج کی آمد سے پہلے کے 10 سال میں عام شہری کا معیار زندگی دس گنا بہتر ہوا جبکہ قیمتوں میں کوئی خاص اضافہ بھی نہیں ہوا تھا، 
دوسری بات اگر واقعی ملک کی معیشت خراب تھی تو اس کا ذمہ دار کون تھا؟
 گیارہ سالوں میں سات وزراء اعظم تبدیل ہوئے ، اس میں اگر لیاقت علی خان کے چار سال نکال دیئے جائیں تو باقی چھ وزراء اعظم کے کھاتے میں کل سات سال آتے ہیں، معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے ،

مماثلت :
1990 سے لیکر 2018 تک ہر جمہوری حکومت کو کرپشن اور خراب معاشی حالت کی وجہ سے برطرف کردیا گیا، 
ذیادہ شک ہے تو موجودہ ڈاکٹرائن پڑھ لیں ، 

ایوبی ڈاکٹرائن : 

اکتوبر 1954ء میں جنرل ایوب خان نے ملک کو درپیش مسائل کے حوالے سے ایک پمفلٹ لکھا تھا جس کے مطابق ’مغربی پاکستان کو ایک صوبہ، سیاسی نظام کو صدارتی، عام انتخابات بلا واسطہ اور انتظامیہ کو انقلابی طرز پر تبدیل ہونا چاہئے۔‘یہ پمفلٹ انہوں نے امریکا کے ایک دورے کے دوران ارباب اختیار کو بطور’مسائل کا حل‘ پیش کیا تھا،

1957ء میں مشرقی پاکستان کے دورے کے دوران ایوب خان نے مختلف سیاست دانوں سے ملاقات کے بعد بیان دیا،
’اگر عوام مجھے(حکومت سنبھالنے) کی دعوت دیں گے تو میں اپنا فرض پورا کروں گا" 

اور پھر حکومت پر قابض ہونے کے چار دن بعد ایوب خان نے امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے سے گفتگو کے دوران کہا،
'’حالیہ اقدامات کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات کو تقویت ملی ہے۔ پاکستان مغرب کے آزاد عوام کا حامی ہے اور امریکی امداد ہمارے لئے زندگی موت کا مسئلہ ہے‘'

1959 میں ملتوی کئے گئے انتخابات کہیں جاکر 1970 میں منعقد ہوسکے،
اسکندر مرزا نے اپنی کرسی بچانے کے لیے جس جمہوری نظام کو قربان کیا اس کی بحالی کے لیے پھر آدھے ملک کی قربانی دینی پڑی،
آج ہمارا آرمی چیف بھارتی جمہوریت کی مثال دیتا ہے لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ہاں جب قیام پاکستان کے 23 برس بعد پہلے عام انتخابات منعقد ہورہے تھے ،
اس وقت تک ہندوستان میں چاردفعہ عام انتخابات ہوچکے تھے اور پانچواں ہونے جا رہا تھا۔
ملک میں قانونی طور 21 سال تک وزیر اعظم کا عہدہ نہیں رہا، غیر اعلانیہ طور پر 3 سال تک ملک وزیر اعظم کے بغیر بھی چلا۔
21 وزرائے اعظم مجموعی طور پر 16218 سے زائد دن عہدے پر فائز رہے جبکہ 4 فوجی آمروں نے ملک پر 12116 دن تک حکومت کی، 
آج تک ایک بھی وزیر اعظم اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکا، 

اس کے باوجود عوام کے ذہنوں میں یہ سوچ بٹھا دی گئی ہے کہ اس ملک کے ساری خرابیوں کے ذمہ دار سیاست دان ہیں، ان لوگوں نے آج تک غریبوں کے لئے کیا کیا؟؟؟
آج تک یہ عوام کو صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات فراہم نہ کرسکے، آج تک یہ گوروں کے زمانے کا پٹواری اور پولیس نظام ٹھیک نہ کرسکے، 
لیکن کوئی شخص یہ سوال نہیں اٹھا رہا ہے کہ دس دس سالوں تک اقتدار کے مزے لوٹنے والے ان ڈکٹیٹروں نے عوام کے لیے کیا کیا؟؟ 

 آج ساٹھ برس بعد بھی پارلیمانی نظام کے خلاف سازش جاری ہے اوراس کی جگہ اسلامی صدارتی نظام کو خلافتِ سے تشبیہ دے کر لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

1958 کا مارشل لاء پاکستان کے جمہوری اور آئینی نظام پر مسلح ادارے کی طرف سے پہلا با ضابطہ وار تھا ،
8 اکتوبر کے اس سیاہ رات کے بعد پاکستان کبھی نہیں سنبھل سکا، ساٹھ سالوں کے بعد آج بھی یہ فیصلہ نہیں ہو پا رہا کہ پاکستان کو آئین، جمہوریت اور سیاسی نظام کے ذریعے چلایا جائے۔
 یا اسے منظم ریاستی ادارے کے ذریعے ہی چلایا جا سکتا ہے ،
آج بھی پاکستانی عوام "  ووٹ کی عزت دو" کے نعرے لگا رہے ہیں،
لیکن طرف تماشا دیکھیں، 
جنہوں نے اس ملک کی جمہوری نظام کی بنیادیں کھوکھلی کیں، جمہوریت کو ہر برائی کی جڑ قرار دیا، 
وہ بھی ہمیں خوشخبری سنا رہےہیں کہ
" جمہوریت کے اندر تمام مسائل کا حل موجود ہے" 

جاری ہے۔۔۔

ملک فیروز خان نون متحدہ پاکستان کا آخری وزیر اعظم
[14/03, 7:01 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ" 
تاریخ کے جھروکوں سے: سولہویں قسط

آئین اور پارلیمنٹ کے جس شاخ نازک پر صدارتی آشیانہ آباد تھا ، اسکندر مرزا نے طاقت کے نشے میں آکر اسے کاٹ دیا،
اس بات کا احساس اسکندر مرزا کو مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ہوا، اور اس کا برملا اظہار انہوں نے اخبارات کو جاری ایک اعلامیے کے ذریعے بھی کیا،
شاید اسی لیے سات سے لیکر  27 اکتوبر تک کے یہ 20 دن اسکندر مرزا کے زندگی کے پریشان کن ایام تھے ،
شاطر اسکندر مرزا نے اس لمحے طاقت کے حصول کے لیے ہر چال چلی ،
سیاسی جماعتوں اور جمہوری حکومتوں کو اپنی چالوں سے تتر بتر کرنے والے مرزا نے فوج کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلنا شروع کیا، 
سب سے پہلے اسکندر مرزا نے بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی انتظامی کابینہ بنائی تاکہ اختیار اس کے پاس رہے، لیکن یہ سعی لاحاصل رہا۔ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ایوب خان نے اس منصوبے کی مخالفت کی۔

جرنیلی وزیراعظم: 
ایوب خان کا پتہ صاف کرنے کے لیے اسکندر مرزا نے جہاں ایک جانب فوج کے اندر ایوب مخالف دھڑوں کو شہ دی اور فوج میں اپنے قابل بھروسہ لوگوں کی تلاش شروع کی تاکہ جنرل ایوب خان کو اس عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ میں لیا جائے، 
جبکہ دوسری جانب 24 اکتوبر کو ایوب خان کو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سے الگ کر کے وزیرِ اعظم بنا ڈالا ،
اس تیر سے اس نے دو شکار کھیلنے کی کوشش کی،
ایک ایوب خان کو وزیراعظم بناکر اس کے اختیارات حاصل کرنے کی مطالبے کو پورا کرکے اسے مطمئن کرنا،
دوسرا اسے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر (سی ایم ایل اے ) کے عہدے سے ہٹا کر اسے بدست و پا کرنا،
یہ وطن عزیز کا پہلا باوردی وزیر اعظم تھا،
ایوب خان کی نئی کابینہ کے ارکان کے ناموں کا اعلان کردیا۔ اس کابینہ میں جنرل ایوب خان کے علاوہ تین فوجی افسران لیفٹیننٹ جنرل اعظم خان‘ لیفٹیننٹ جنرل واجد علی برکی اور لیفٹیننٹ جنرل کے ایم شیخ اور آٹھ سویلین وزرأ منظور قادر‘ ایف ایم خان‘ حبیب الرحمان‘ ابوالقاسم‘ حفیظ الرحمن‘ محمد شعیب‘ مولوی محمد ابراہیم اور ذوالفقار علی بھٹو شامل تھے، 

دوسری جانب ایوب خان کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم تھی کہ اگر آئین نہیں ہے تو پھر صدر کا عہدہ کیسے برقرار رہ سکتا ہے،  آئینی شاخ نہیں تو پھر صدارتی آشیانہ کیسا، 
اس وقت کمانڈ اسٹک ہی آئین، قانون اور دستور تھا ، 

اپنی سوانح عمری " فرینڈز ناٹ ماسٹر " میں اس کی منظر کشی کچھ یوں کرتے ہیں،

" ہمیں اطلاع ملی کہ ان کی بیوی (بیگم ناہید مرزا) ان سے ہر وقت لڑتی جھگڑتی رہتی ہے کہ جب تم نے ایک غلطی کر ہی دی ہے تو اب ایوب خان کا بھی صفایا کر دو۔
’میں ان کے پاس گیا اور کہا، 
'آپ چاہتے کیا ہیں؟ سنا ہے آپ فوجی افسروں کی گرفتاری کے حکم دیتے پھر رہے ہیں؟'
انھوں نے تردید کی،
 'آپ کو غلط خبر ملی ہے۔'
'میں نے کہا،
 'دیکھیے یہ عیاری اور چالبازی ختم کیجیے۔ ہوشیار رہیے، آپ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ ہم سب آپ کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں، پھر آپ ایسی شرارتیں کیوں کر رہے ہیں؟'

جنرل ریٹائرڈ مجید ملک اس کشمکش کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں،
"ایوب خان اور اسکندر مرزا کے درمیان مخاصمت کا ایک اور بڑا سبب یہ تھا کہ ایوب خان کے تینوں ساتھی جرنیل (جنرل یحیی ،جنرل حمید اور جنر ل پیر زادہ)صدر اسکندر مرزا کے سخت مخالف تھے اور ان کا یہ خیال تھا کہ اسکندر مرزا کے پاس کسی قسم کا کوئی اختیار موجود نہیں ہونا چاہیے۔ اسکندر مرزا نے کراچی ایئر بیس کے کمانڈر اور ملیر چھائونی کے بریگیڈئر کمانڈر سے ٹیلی فون کر کے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کتنی فورس ہے؟ تین چار جرنیلوں کو پکڑنا ہے۔ اسکندر مرزا کی بد قسمتی یہ ہوئی کہ اس کے ٹیلی فون ٹیپ کر لئے گئے تھے جس کی اطلاع فوری طور پر ایوب خان کو دے دی گئی مگر ایوب خان فی الوقت اسکندر مرزا کے خلاف عجلت میں کسی کاروائی کے حق میں نہیں تھے"

اور بالآخر ایوب خان کے وزیر اعظم بننے کے تین روز بعد ہی 27 اکتوبر کی وہ بھیانک شب آگئی ،

اس شب تاریک کا احوال مشہور بیباک صحافی اور اس وقت جنگ نیوز کے چیف ایڈیٹر انعام عزیز اپنی کتاب سٹاپ پریس میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں، 

" ایوب خان لاہور اور ڈھاکہ میں بہت بڑے عام جلسوں سے خطاب کر کے کراچی واپس آئے تھے۔ شام کو اعلان ہوا کہ اسکندر مرزا، جنہوں نے 56 کے آئین کے کچھ حصوں کو بحال کر دیا ہے، ایک نئی کابینہ تشکیل دے رہے ہیں جس کے وزیراعظم جنرل محمد ایوب خان ہوں گے،
میں نے دفتر میں ایسوشی ایٹڈ پریس کے ٹیلی پرنٹر پر یہ اعلان دیکھا اور پتہ چلا کہ حلف وفاداری کی رسم ایوان صدر میں کوئی آٹھ بجے شب ہو رہی ہے۔ ابتدائی اعلان میں ابھی وزیروں کے ناموں کی فہرست نہیں تھی،
 چنانچہ اس خیال کے پیش نظر کہ مجھے نئے وزرا کی تصویریں وغیرہ بھی درکار ہوں گی۔ میں نے ایک بار پھر کرنل مجید ملک کے دفتر کا رخ کیا۔

میں ابھی ان کے کمرے میں داخل ہواہی تھا کہ کرنل مجید ملک نے کہا کہ
" آپ نے رکشہ کا کرایہ تو ادا کر دیا ہو گا۔ جو کچھ تم لینے آئے ہو، وہ تو مل ہی جائے گا میں ذرا وزیراعظم ہاؤس تک جارہا ہوں آؤ میرے ساتھ چلو میں تمہیں دفتر واپس چھوڑ دوں گا"
کرنل صاحب کے ساتھ ان کی کار میں بیٹھا۔
راستے میں میں نے نئے وزیروں کی فہرست پوچھی،
 تو کہنے لگے
" واپس آئیں گے تو لے لینا۔ نئے وزیر زیادہ تر فوجی ہیں، کچھ سویلین بھی ہیں۔ ان میں ایک نوجوان لڑکا ذوالفقار علی بھٹو بھی ہے۔ سندھ کے مشہور زمیندار شاہنواز بھٹو کا بیٹا ہے"
میں نے تصویروں کے بارے میں کہا تو کہنے لگے کہ 
"ہاں بھئی وہ بھی تیار ہو رہی ہیں۔ واپس پہنچیں گے تو تمہیں سب کچھ مل جائے گا"
 اتنے میں وزیر اعظم ہاؤس آ گیا۔
کرنل مجید ملک کی کار کوٹھی کے دروازے پر پہنچی تو وہاں مسلح فوجی کھڑے تھے۔
کرنل صاحب نے اپنا تعارف کرایا اور بتایا کہ وہ وزیراعظم کے بلاوے پر آئے ہیں۔ کار کو اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
کوٹھی کے پورچ پر پہنچے تو فوجی جوانوں نے گھیر لیا۔ کرنل صاحب کے ڈرائیور کے ساتھ آگے ایک فوجی بیٹھ گیا اور ہم دونوں اتر کر غلام گردش کے اندر چلے گئے۔
جہاں ایک کونے میں تین نشستوں والا صوفہ پڑا تھا جہاں ہمیں بیٹھنے کی ہدایت کر دی گئی۔
اس وقت مختلف کمروں میں سے اعلیٰ رینک کے فوجی افسر نکلتے اور تڑاخ پڑاخ کی آواز سے اپنے جوتے بجاتے غلام گردش میں گھومتے ہوئے نکل جاتے،
آفس کا خیال آ رہا تھا کہ اب کروں تو کیا کروں۔

میں نے ابھی صوفے سے اٹھنے کی کوشش ہی کی تھی کہ فوراً ایک بریگیڈیئر جو شاید ہم پر نظر رکھے ہوئے تھا آگے بڑھا اور اس نے کہا کہ آپ صوفہ سے اٹھیں گے نہیں۔
کرنل مجید ملک نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ
" بھائی میں حکومت کا پرنسپل انفارمیشن افسر ہوں اور مجھے وزیراعظم ایوب خان نے طلب کر رکھا ہے۔ یہ تو ایک اخبار نویس ہیں اور انہیں دفتر جانے کی جلدی ہے"  بریگیڈیئر نے جواب دیا،
"میں بحث میں پڑنا نہیں چاہتا۔ آپ دونوں کو جہاں بٹھایا گیا ہے وہیں بیٹھے رہیں۔ چائے آپ کے لیے منگوا دی گئی ہے جیسے ہی چیف کا آرڈر آئے گا آپ کو ان سے ملوا دیں گے"
 میں نے بریگیڈیئر صاحب سے کہا کہ
" حضور مجھے دفتر میں فون تو کر لینے دیجئے میں ان کو صرف یہ تو بتا دوں کہ دفتر دیر سے آﺅں گا"
 پتہ نہیں کہ میری یہ درخواست اتنی جلدی کسی طرح بریگیڈیئر کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے کہا
" اٹھیے میرے ساتھ چلئے میں آپ کو دفتر کا فون ملوا دیتا ہوں۔ آپ دفتر کو اس سے زیادہ کچھ نہیں بتائیں گے کہ آپ دیر سے واپس آئیں گے۔ یہ بتانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی کہ آپ یہ فون کہاں سے کر رہے ہیں"
اس غلام گردش میں ایک اور مقام پر فون رکھا تھا۔
میں نے دفتر کا فون نمبر بریگیڈیر کو بتایا جنہوں نے نمبر ملایا۔ دوسری طرف سے آواز سینئر سب ایڈیٹر ناصر محمود کی تھی ۔
مجھے فون دیا گیا تو میں نے کہا ،
"میں دیر سے آﺅں گا، کاپی روک کے رکھنا"
وہاں سے حسب معمول اور حسب توقع یہی جواب ملا کہ میر صاحب آپ کے کمرے میں بیٹھے آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔
 فون پر میرا جملہ مکمل ہونے کے بعد فون مجھ سے واپس لے گیا گیا اور میں پھر کرنل صاحب کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ میں نے کرنل صاحب سے سرگوشی کے انداز میں بات کرنے کی کوشش کی تو مجھے بریگیڈیئر نے پھر روک دیا۔
" خاموش رہیے یہاں آپ کو آپس میں بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے"
 کرنل صاحب یہ سن کر ذرا کھولے ۔ انہوں نے کہا
 ’کیا مطلب ہے کیا ہم لوگ زیر حراست ہیں‘۔ 
بریگیڈیئر نے جواب دیا " فی الحال یہی سمجھ لیں"
 اتنے میں چائے آگئی۔ ایک پلیٹ میں سینڈوچز بھی رکھی ہوئی تھیں۔ ایک کرنل صاحب ایک کمرے سے چھوٹی سی میز اٹھا لائے جس پر چائے کی طشتری رکھ دی گئی تھی۔

رات کا کوئی پون بجنے والا تھا کہ آئی ایس آئی کے ایک کرنل جو غالباً عبدالرحمن صدیقی تھے بڑے لاﺅنج میں سے نکل کر آئے اور انہوں نے حسب معمول کرنل مجید ملک کو سلامی دی اور پھر کہا کہ
" چیف آپ کو اندر بلا رہے ہیں"
ادھر مجھے یہ یقین تھا کہ میرے دفتر میں ضرور ہنگامہ ہو رہا ہو گا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ میری ہدایت کے باوجود کاپی پریس بھجوا دی گئی ہو۔ مجھے اس بات کا یقین ضرور تھا کہ آج پرائم منسٹر ہاﺅس میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی ہنگامی خبر کا اشارہ ہے۔

کرنل مجید ملک کوئی پندرہ منٹ بعد ہی لاﺅنج میں تشریف لے آئے۔ انہوں نے دور سے ہی مجھے ہاتھ کی انگلی سے اشارہ کر کے اٹھنے کو کہا اور پھر ہم دونوں باہر نکلے تو ایک فوجی اردلی نے لاﺅڈ سپیکر پر اعلان کیا
 ’کرنل مجید ملک کی گاڑی لاﺅ‘
چند سیکنڈ میں گاڑی آگئی اور ہم دونوں اس میں بیٹھ گئے۔ راستے میں میں نے کرنل صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے پہلے دفتر چھوڑ دیں گے تو انہوں نے انگریزی میں کہا ،
" Are you not interested in another coup story " 

یہ سن کر مجھے ایسے لگا جیسے کوئی دھچکا لگا ہو۔
میں نے پوچھا کہ
" اب کیا ہوا ہے"
 کرنل صاحب نے کہا،
" دفتر چل کر بتاﺅں گا تم پہلے اپنے دفتر کو خبردار کر دینا کہ کہ کسی بڑی ہنگامی خبر کے لیے تیار رہیں"

کرنل صاحب کے دفتر پہنچا تو ان کے ہاتھ میں جو مختصر سا اعلان تھا وہ انہوں نے اپنے سیکرٹری کے حوالے کیا اور میں نے دفتر میں فون ملایا تو وہاں پتہ چلا کہ کاپی تیار ہے۔ فون پر میر صاحب سے بات ہوئی تو میں نے انہیں کہا کہ "کاپی فوراً روک لیں میں کرنل مجید ملک کے کمرے میں ہوں۔ ایک نئے انقلاب کی خبر لے کر آرہا ہوں"
 میر صاحب نے مزید تفصیل تو نہ پوچھی لیکن فوراً گاڑی لے کر کرنل مجید ملک کے دفتر روانہ ہو گئے۔
 ان کے آتے آتے مجھے پتہ چل چکا تھا کہ فوج نے اسکندر مرزا کا تختہ الٹ دیا ہے اور انہیں ملک سے باہر بھجوا دیا گیا ہے۔ اس طرح ملک کا کلی اختیار جنرل ایوب خان کے ہاتھ میں آگیا ہے۔
 اعلان ٹائپ ہو کر آیا اور میں اور میر صاحب اسے لے کر نکل گئے۔ خبر لکھوائی گئی۔ سرخیاں جمائی گئیں۔ اخبار تیار ہوا اور ابھی ہم دفتر میں بیٹھے ہی تھے کہ نیچے سے میر صاحب کا ڈرائیور بھائی بشیر آیا۔ 
کہنے لگا کہ نیچے کرنل مجید ملک اپنی گاڑی میں آپ دونوں کا انتظار کر رہے ہیں۔
رات کے دو بج چکے تھے۔ ہم دونوں نیچے اتر آئے اور کرنل مجید ملک کے پاس پہنچے ۔
 انہوں نے کہا ،
"گاڑی میں بیٹھیں۔ میں ذرا اپنا ذہنی تناﺅ کم کرنا چاہتا ہوں۔ چلئے کلفٹن کو چلتے ہیں"
 دونوں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ ساتھ بیٹھ گئے۔
راستے میں کچھ گپ شپ ہوئی مگر سمندر کے کنارے جا کر پتہ چلا کہ کابینہ کے حلف اٹھانے کے تھوڑی دیر بعد وزیراعظم ہاﺅس میں ملٹری کمانڈ کونسل کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں طے کیا گیا کہ جنرل اسکندر مرزا سے جو فوج میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے چھٹکارا حاصل کر لیا جائے اور ملک کے تمام اختیارات کلی طور پر فوج خود سنبھال لے۔
کمانڈ کونسل کے اس اجلاس میں ایوب خان موجود نہیں تھے وہ حلف اٹھانے کے بعد  ابھی تک ایوان صدر میں تھے جیسے ہی وہ پرائم منسٹر ہاﺅس پہنچے ۔ 
انہیں صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ ایوب خان یوں تو جنرل اسکندر مرزا کے بڑے وفاداروں میں شمار ہوتے تھے مگر مکمل اقتدار سے کون کنی کتراتا ہے۔
 انہوں نے کونسل کے فیصلوں کی تصدیق کر دی۔
چنانچہ تین فوجی جرنیلوں کا ایک وفد، جنرل کے ایم شیخ ، جنرل اے کے برکی اور جنرل محمد اعظم خان ، ایوان صدر روانہ کیا گیا۔
 کہا جاتا ہے کہ اس وفد نے اسکندر مرزا کو ان کی برطرفی کے فیصلے سے آگاہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ اسی وقت اپنے چند کپڑے اٹھائیں اور ملک سے نکل جانے کو تیار ہو جائیں۔ جب اسکندر مرزا نے حجت کرنے کی کوشش کی تو جنرل اعظم خان نے اپنا پستول نکال لیا اور کہا کہ
"اگر زیادہ تاخیر کرنے کی کوشش کی تو یہ پستول خاموش نہیں رہے گا"
کہا جاتا ہے کہ جب بیگم ناہید مرزا کو اس فیصلے کا پتہ چلا تو پہلے تو وہ بہت چیخیں اور چلائیں مگر پھر آخر مجبور ہو کر اپنے انتہائی قیمتی زیورات اور جواہرات اٹھائے اور چلنے کو تیار ہو گئیں۔ 
کہا جاتا ہے کہ ان کی پچھلی سالگرہ کے موقع پر انہیں کراچی کے ایک تاجر نے بڑا قیمتی ہار تحفے میں دیا تھا وہ اس وقت کے ہنگاموں میں انہیں نہ مل سکا۔ وہ اسے چھوڑ کر چل دیں۔ معزول حکمران اور ان کی اہلیہ کو ایک چھوٹے طیارے میں کوئٹہ روانہ کیا گیا اور وہاں سے انہیں ایک اور طیارہ پہلے ایران اور اس کے بعد برطانیہ لے گیا۔

کرنل مجید ملک جب یہ تفصیلات سنا چکے تو کہنے لگے،
" اس میں سے جو خبر بنے گی وہ مجھ سے پوچھ لینا۔ 
میں نے تمہیں آج کے ڈرامے کی تفصیل اس لیے سنا دی ہے کہ آج رات میری طرح تم بھی خراب ہوئے ہو"
کلفٹن کے بیچ سے تھوڑی دور ہم لوگ ایک بینچ پر بیٹھے رہے "
کہا جاتا ہے کہ 27 اکتوبر کی رات جب جرنل برکی، جنرل اعظم اور جنرل خالد شیخ اسکندر مرزا کے گھر پہنچے تو وہ
آرام کررہے تھے، انھوں نے سلیپنگ گاؤن ہی میں صدر سے پہلے سے ٹائپ شدہ استعفے پر دستخط لے لیے اور کہا کہ اپنا سامان اٹھا لیں، آپ کو ابھی اسی وقت ایوانِ صدر سے نکلنا ہو گا۔ اس موقع پر ناہید مرزا نے صرف اتنا پوچھا،
 'مگر میری بلیوں کا کیا ہو گا؟'

تاریخی مغالطے : 
جنرل مشرف بھی جب 12 اکتوبر 1999 کو سری لنکا کے دورے پر تھے تو اسے فوجی بغاوت کا علم نہیں تھا، بعد میں جنرل عزیز نے اقرار کیا کہ دورے سے پہلے ساری منصوبہ بندی ہوچکی تھی، 
اسی رات جنرل محمود نے جمہوری وزیر اعظم نواز شریف پر پستول تھان کر استعفیٰ پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا لیکن بزدل نواز شریف نہیں مانا، جبکہ جنرل اسکندر مرزا نے دیر نہیں لگائی ،
سبق : سازشی لوگ کبھی بہادر نہیں ہوتے، 

جاری ہے۔۔۔

کراچی میں 10 وکٹوریہ روڈ (حالیہ عبد اللہ ہارون روڈ) ، تقسیمِ ہند کے بعد وزرائے اعظم کی سرکاری رہائش گاہ جو بہت ساری داستانوں کی چشم دید گواہ ہے،
آج کل یہ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس ہے،
____________________________________________
[14/03, 7:02 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ"
تاریخ کے جھروکوں سے : سترہویں قسط

روزِ اول سے ہی اس ملک میں جس نے اختلاف کیا،
جمہوریت کی بات کی ، اس پر غداری اور کفر کا فتویٰ لگایا گیا، لیاقت علی خان نے سہروردی کو غدار کہا ، باچاخان ، جی ایم سید ، بلوچ سردار سب غدار اور کافر ڈیکلیئر ہوئے،
یہاں تک کہ مادر ملت فاطمہ جناح نے جب " ووٹ کی عزت" کی بات کی تو ان محب وطن ڈکٹیٹروں نے انہیں بھی نہیں بخشا ،اُن پر بھی غداری اور پاکستان توڑنے کا الزام لگایا، اُن کے کردار پر انگلیاں اٹھائی گئیں کہ انہوں نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی،
بھٹو کے شہادت کے بعد امیر المومنین نے اس کے ختنے چیک  کرواکر اپنی دینی ذمہ داری پوری کرنی کی کوشش کی، 
ہم نے ہوش سنبھالتے ہی پاکستان کے اسلامی میڈیا میں باچاخان کو غدار اور دین بیزار ہی پایا، 
ہمیں یہی بتایا جاتا رہا کہ یہ سرحدی گاندھی مہاتما گاندھی کی محبت میں آدھا ہندو بن گیا تھا،
لیکن حقیقت یہ ہے کہ باچاخان اور ان کا خاندان مسلم لیگ کے بیشتر قائدین کی نسبت کہیں زیادہ مشرقی اور اسلامی روایات کے امین تھے،
وقت کے ساتھ اس میں کرپشن کا ہتھیار بھی شاملِ کیا گیا،
آج آپ دیکھیں اس ملک میں ہر اس شخص کا عقیدہ مشکوک ہے،
وہ مودی کا یار اور غدار ہے،
اور اس کا سارا خاندان اور ہر ساتھی کرپٹ ہے ،
جو ان دیوتاؤں کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرتا،
جو جمہور اور ووٹ کی بات کرتا ہے، 
پچھلے دنوں جب پرنٹ، ایلکٹرانکس اور سوشل میڈیا سے کام نہیں بنا تو محب وطن ایک گوری چمڑی(سنتھیا رچی) والی کو لیکر آگئے، 
جس کی بہتان درازی سے اب محترمہ بینظیر بھٹو شہید بھی محفوظ نہیں،

یہ خود کتنے محب وطن اور اسلامی تھے اس کی ایک جھلک آپ اسکندر مرزا کی خاندانی زندگی میں ملاحظہ فرمائیں، 
 اسکندر مرزا کی پہلی شادی 1922 میں رفعت مرزا سے ہوئی، جس سے ان کے دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں،
1954 میں جب اسکندر مرزا سیکٹری دفاع تھے، 
تو انہوں نے ناہید نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی،
اس کہانی میں یہی سب سے دلچسپ کردار ہے ،

ناہید مرزا کون تھی؟

ناہید کا تعلق اصفہان کے تیموری خاندان سے تھا،
یہ ابراہیم مرزا امیر تیموری کلالی کی دختر تھیں ، 
ان کی والدہ ایرانی حکمراں رضا شاہ پہلوی کی بھتیجی تھیں ، مطلب شاہ ایران کی نواسی لگتی تھیں ، 
ان کے پہلے خاوند لیفٹننٹ کرنل افغانی پاکستان میں ایرانی سفارت خانے کے ملٹری اتاشی تھے، جو لوگ سفارتی مشنوں سے واقفیت رکھتے ہیں ان کو خوب معلوم ہے کہ ملٹری اتاشی کا اصل کردار کیا ہوتا ہے،

یہ 1952 کی بات ہے اسکندر مرزا کے بیٹے ہمایوں مرزا لندن میں زیر تعلیم تھے، اسکندر مرزا نے ہمایوں مرزا کو ایرانی ملٹری اتاشی کرنل افغانی کی بیگم کے لیے لندن میں قیام ؤ طعام کا پیغام بھجوایا، 

1953 کے بہار کے موسم میں اسکندر مرزا کی بیگم رفعت مرزا نے خود لندن کے ایک اسکول میں ناہید افغانی کی بیٹی صفیہ افغانی کا داخلہ کروایا، 
4 جون 1953 کو اسکندر مرزا کے دوسرے بیٹے انور مرزا طیارہ کریش میں جاں بحق ہو گئے۔
غم کی اس گھڑی میں جب اسکندر مرزا  اپنے بڑے صاحبزادے سے ملنے کے لیے لندن پہنچ گئے تو ناہید افغانی ان کے ہمراہ تھیں۔
لاڈلا بیٹا یہ منظر نامہ دیکھ کر باپ سے جھگڑنے لگا ،
اس لڑائی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ ہی دنوں بعد اسکندر مرزا نے ہمایوں مرزا کو ان کی والدہ اور بہنوں کے پاس کراچی روانہ کر دیا۔ اور خود لندن کے ایک ہوٹل میں ناہید اصفہانی کے ساتھ ایک ماہ تک رنگ رنگ رنگیلاں مناتے رہے،

ناہید افغانی نے کب کرنل افغانی سے طلاق لی، کب عدت پوری کی ، اور کب ناہید مرزا بنی، اس کے بارے میں مؤرخ خاموش ہے ،
1954 میں رفعت مرزا خواتین کے ایک وفد کے ہمراہ چین کے سرکاری دورے پر تھیں، 
اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ناہید نے مرزا پر دباؤ ڈالا کہ اب اپ اپنے خاندان کو اس خفیہ شادی کے بارے میں بتا دیں۔
کہا جاتا ہے کہ اسکندر مرزا کراچی میں موجود اپنی چاروں بیٹیوں کو بتائے بغیر گھر سے اچانک غائب ہو گئے۔
اور ایک ہفتے بعد واپس آ کر اپنی بیٹیوں کو ناہید کے ساتھ شادی کی خوشخبری سنائی ، 
لیکن اسکندر مرزا نے جب اپنے بیٹے ہمایوں مرزا کو دوسری شادی کے متعلق بتایا تو بیٹے نے بھی باپ کو ایک بریکنگ نیوز دی ۔ کہ وہ پاکستان میں متعین امریکی سفیر مسٹر ہلڈرچ کی بیٹی سے شادی کر رہا ہے ۔

اس طرح اکتوبر 1954ء میں پاکستان کے تمام قومی اخبارات میں پاکستان کے سیکرٹری دفاع کی ایک غیر ملکی سفارتکار کی بیوی اور اس کے بیٹے کی غیر ملکی سفارتکار کی بیٹی کے ساتھ شادی کی خبریں ایک ساتھ ہی شائع ہوئیں،

دو ماہ بعد ہمایوں مرزا نے کراچی میں اپنے پاکستانی عزیز و اقارب کے لیے ولیمہ کا اہتمام کیا تو اس میں اسکندر مرزا اور ناہید مرزا کے علاوہ اس وقت کے گورنر جنرل اور وزیر اعظم سمیت تمام اہم ملکی شخصیات موجود تھیں،
ناہید مرزا کا دعویٰ ہے کہ نکاح لندن سے واپسی پر جولائی 1953 میں منعقد ہوا اور باقاعدہ تقریب 5 ستمبر 1953 کو ہوئی،  قصہ مختصر 1954 میں جب اسکندر مرزا بنگال کے صوبائی گورنر کی حیثیت سے ڈھاکہ جارہے تھے تو رفعت مرزا کی بجائے  ناہید اصفہانی ان کے ہمراہ تھیں،

اسکندر مرزا کے گورنر جنرل اور پھر صدر بننے کے بعد وہ خاتون اول بن کر ایوان صدر کی مکین بن گئیں،
کہا جاتا ہے کہ محترمہ شروع شروع میں مغربی لباس زیب تن کرتی تھیں لیکن خاتون اول بننے کے بعد سرکاری تقریبات میں ساڑھی باندھ کر شریک ہوتی تاکہ ان کی ننگی ٹانگوں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کا استحقاق مجروح نہ ہو،
م ب خالد جو  ایوان صدر میں تین سربراہ مملکت غلام محمد، اسکندر مرزا اور ایوب خان کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، اپنی تصنیف “ایوان صدر میں سولہ سال” میں لکھتے ہیں، 
     
  “ایوان صدر میں اسکندر مرزا سیاست کی بساط پر اپنے پسند کے مہرے سجانے میں مصروف تھے تو بیگم ناہید مرزا نے گھر کا چارج سنبھال لیا۔ سب سے پہلے کمروں کی آرائش و زیبائش پر توجہ دی۔ فرنیچر، پردے ، قالین اور فانوس سب بدل گئے۔ کمروں کو مرتب کرنے کے بعد گارڈن کی باری آئی، مالیوں کو حکم تھا کہ ان پرندوں کو کسی دیوار یا درخت پر نہ بیٹھنے دیں۔ ایوان صدر کے مالی سارا دن ان پرندوں کو اڑانے کے لیے ایک کونے سے دوسرے کونے میں بھاگتے پھرتے۔
بیگم ناہید مرزا نے لان کے اس حصے میں جو ان کی خواب گاہ کے قریب تھا ایک خوبصورت سوئمنگ پول بنوایا جو اس وقت کراچی میں اپنی نوعیت کا واحد سوئمنگ پول تھا۔ اس سے لطف اندوز ہونے کے لیے ناہید مرزا غیر ملکی اور پاکستانی خواتین کو مدعو کرتیں۔ کہتے ہیں کہ اس وقت کے پاکستان میں امریکی سفیر کی دختر اور اسکندر مرزا کے اے ڈی سی کیپٹن سعید کی دوستی اسی پول میں پروان چڑھی۔

"پاکستان کے پہلے سات وزرائے اعظم“ نعیم احمد خان، محمد ادریس، اور عبدالستار کی یادداشتوں پر مرتب کتاب ہے ، اس میں ناہید مرزا کا زوق وشوق میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہے،
      ”سہروردی صاحب کھلانے پلانے کے بہت شوقین تھے، ان کے دور میں وزیرِ اعظم ہاؤس میں بہت زیادہ دعوتیں ہوتی تھیں۔ ان دعوتوں میں اکثر ڈیڑھ سو، دو سو کے قریب لوگ شامل ہوتے تھے۔ ان پارٹیوں میں شراب بے دریغ استعمال کی جاتی تھی، لیکن سہروردی صاحب جب تک وزیراعظم کی حیثیت سے وزیراعظم ہاؤس میں رہے، انہوں نے شراب نہیں پی۔
ناہید مرزا ایسی محفلوں کے جان ہوتی تھی،
اسی کتاب میں وزیرِ اعظم ہاؤس کے چپڑاسی مجید کا چشم دید واقعہ کچھ یوں بیان ہوا ہے،
" ایک رات تو یہ رنگ جما کہ ناچتے ناچتے رات کے دو بج گئے، اور شراب کے دور پر دور چلتے رہے۔ بالآخر اسکندر مرزا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر گورنر جنرل ہاؤس چلے گئے، اور دوسرے مہمان بھی چلے گئے۔
سہروردی صاحب اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔
جب مجید چپڑاسی نے ہال سے متصل کمرے کا پردہ اُٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا ایک عورت صوفے پر بے ہوش پڑی ہے۔ مجید چپڑاسی آگے گیا تو پہچان گیا کہ یہ اسکندر مرزا کی بیگم ہیں۔ اس نے سہروردی صاحب کو جا کر اطلاع دی کہ حضور بیگم اسکندر مرزا تو یہیں رہ گئی ہیں۔ سہروردی صاحب آئے، اور کسی طرح بیگم اسکندر مرزا کو خود تھام کر گاڑی تک لے آئے، اور پھر خود ہی گاڑی چلا کر بیگم اسکندر مرزا کو گورنر جنرل ہاؤس چھوڑ آئے" 

 
ستائیس اور اٹھائیس اکتوبر کی شب بیگم ناہید مرزا کے مزاج کی تلخی دیدنی تھی۔ وہ اپنے شوہر کے اس فیصلے پر ناخوش تھیں کہ سات اکتوبر کے مارشل لاء کے بعد انہوں نے صدر کے عہدے ہی پر اکتفا کیا۔
مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ناہید مرزا اکثر اسکندر مرزا کے ساتھ لڑتی جھگڑتی رہتی تھی،  ان کی خواہش تھی کی اسکندر مرزا صدر کے ساتھ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہوتے اور ایوب خان کو ڈپٹی چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کرتے۔
  لیفٹیننٹ جنرل خالد محمود شیخ کے بقول  جب انہوں نے جنرل اعظم اور جنرل برکی کے ہمراہ اسکندر مرزا سے استعفیٰ پر دستخط لیے تو بیگم ناہید مرزا موجود نہ تھیں ورنہ تلخ کلامی کا قوی امکان تھا۔

جبکہ م ب خالد کے مطابق جب تینوں جنرل اسکندر مرزا کے بیڈ روم میں ان کا استعفیٰ لینے گئے تو وہ بغیر کسی مزاحمت کے آمادہ ہو گئے لیکن بیگم مرزا چیخ چیخ کر بولنے لگیں۔ ان کی چیخنے کی آوازیں ایوان صدر کے ملازمین نے سنیں۔
روانگی کی داستان الطاف گوہر اپنی تصنیف ”ایوب خان ” میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں،
" بریگیڈیئر نوازش نے اسکندر مرزا کے بیڈ روم کے دروازے پر دستک دی اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا۔ اسکندر مرزا سلیپنگ گاؤن میں کمرے میں اضطرابی کیفیت میں چل رہے تھے۔ بیگم ناہید مرزا اپنا سامان باندھ رہی تھیں۔ بریگیڈیئر نوازش کو دیکھ کر بیگم ناہید مرزا بولیں،
” کیا ہم اس کے حقدار ہیں جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے”.

اسکندر مرزا اور ناہید مرزا کو ماڑی پور ائیرپورٹ سے کوئٹہ پہنچا دیا گیا۔ ایک ہفتے بعد میاں بیوی کو واپس کراچی لایا گیا اور لندن جلاوطن کر دیا گیا۔
اسکندر مرزا نے 3 نومبر 1969ء کو انہوں نے دل کے عارضہ میں مبتلا ہو کر وفات پائی،
اس وقت ملک پر ایک اور ڈکٹیٹر یحییٰ خان کی حکومت تھی،
یحییٰ خان ان ٹاپ جرنیلوں میں سے تھے جن کی اسکندر مرزا سے نہیں بنتی تھی،
یحییٰ نے اسکندر مرزا کی لاش پاکستان لانے کی اجازت نہیں دی،  
آخر کار شہنشاہ ایران نے برطانیہ کے کہنے پر اسکندر مرزا کی میت خصوصی طیارے سے لندن سے تہران منگائی اور تہران میں سرکاری اعزاز ک ساتھ دفن کیا۔
1979 کے انقلاب ایران میں اس کے قبر کو اکھاڑنے کی کوشش کی گئی، 
جس کے بعد اس کی قبر کو سرکاری طور پر تحفظ دے دیا گیا، 

ناہید مرزا 24 جنوری 2019 لندن میں انتقال کرگئیں ، 

ہمایوں مرزا نے امریکی سفیر کی بیٹی سے شادی کے بعد امریکہ کی راہ لی، اور پھر کبھی پاکستان واپس نہیں آیا۔ اور 1988 تک ورلڈ بنک میں ملازم رہا،
اُس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے خاندان پر ایک کتاب لکھی تھی، ’’ پلاسی ٹو پاکستان ‘‘
جس میں اس نے میرجعفر سے لیکر اسکندر مرزا تک اپنے سارے بزرگوں کے کردار کا دفاع کیا ہے، 

یاد رہے کہ بھٹو صاحب کی دوسری اہلیہ نصرت بھٹو کا تعلق بھی اصفہان سے تھا اور وہ ناہید اسکندر مرزا کی رشتہ دار تھیں، بھٹو صاحب سے اس کی ملاقات ناہید مرزا کے توسط سے ممکن ہوئی، یاد رہے ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی اہلیہ امیر بیگم سے ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

مکانات عمل : 
جو ان لوگوں نے بویا اس کا ثمر پوری قوم اور انہوں نے خود بھی کاٹا،
اقبال نے کہا تھا 
"کہ غلامی میں بدل جاتاہے قوموں کا ضمیر " 

لیاقت علی خان خود سیاست دانوں کو ثانوی درجہ دیتے تھے، وہ برطانوی وائسرائے کی طرز پر کنٹرول جمہوریت چاہتے تھے، جس میں زیادہ تر اختیارات بیوروکریسی، پولیس اور فوج کے پاس ہوں، اسی لئے وہ سیکٹری دفاع اسکندر مرزا کو آگے لیکر آئے، خیبرپختونخواہ میں ڈاکٹر خان کی حکومت گرا دی گئ، اسکندر مرزا تو تھے ہی غیر جمہوری ذہن کے مالک ساری زندگی اس نے ملٹری اور سول سروس میں نوکری کی۔ 
وہ سیاست دانوں کو بدمعاش اور گڑ بڑ والے کہتے تھے، 
وہ کنٹرول جمہوریت کے ذریعے سول بیوروکریسی کو بااختیار بنانا چاہتے تھے، 
اس مقصد کے لیے انہوں نے قائد اعظم کی مخالفت کے باوجود ایوب خان کو سپورٹ کیا ،جب وزیراعظم لیاقت علی خان پاکستانی فوج کا سربراہ انگریز کے بجائے پاکستانی مقرر کرنے جا رہے تھے تو سکندر مرزا نے تین سینئر افسران کو بائی پاس کر کے جونیئر ترین آفیسر ایوب خان کو آرمی چیف مقرر کروایا۔
مورخین کے مطابق ایوب خان کا نام وزارت دفاع کی بھیجی لسٹ میں شامل نہ تھا،
ایک اور سازشی کردار غلام محمد کا انجام بھی کچھ اچھا نہیں نکلا،  
کنونشن لیگ کے ڈپٹی لیڈر سید مرید حسین نے ایک انٹرویو میں اس کا احوال کچھ یوں بیان کرتے ہیں،

"جب گورنر جنرل غلام محمد بیمار ہوگئے تو مشتاق احمد گورمانی نے اس کی جگہ لینے کے لیے جوڑ توڑ شروع کر دیا۔ گورمانی کا راستہ روکنے کے لیے سیکرٹری دفاع اسکندر مرزا اور کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے وزیراعظم محمد علی بوگرہ کو استعفیٰ لکھ کر دیا کہ گورنر جنرل سے اس پر دستخط کرا لاؤ۔ غلام محمد نے بوگرہ کو چھڑیاں ماریں پھر جنرل ایوب خان خود گئے۔ غلام محمد رونے لگے کہ میرا تو ہاتھ ہی کام نہیں کرتا۔ کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے سہارا دے کر استعفے پر زبردستی ان کے دستخط کروائے۔
 یوں اسکندر مرزا گورنر جنرل بنے"

اسی اسکندر مرزا سے پھر ایوب خان نے بندوق کے زور پر استعفیٰ لیا، اسی ایوب خان کو پھر اس کے دست راست یحییٰ خان نے چلتا کیا، 
یحییٰ کے ساتھ کیا ہوا، 
پھر ضیاء سے لیکر مکے لہرانے والے مشرف کا انجام دیکھیں، 

فاعتبر یا اولی الابصار 

جاری ہے۔۔۔
[14/03, 7:04 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ" 
تاریخ کے جھروکوں سے: اٹھارویں قسط

قیام پاکستان کے گیارہ سال بعد آئین اور جمہوریت کو گھر کا راستہ دکھا دیا گیا، ان گیارہ سالوں میں کل سات وزراء اعظم آئے اور چلتا کردئیے گئے اور پھر آئندہ گیارہ سال صرف ایک محب وطن نے بلاشرکت غیر اس ملک پر حکومت کی، 

طاقت کا اصل سرچشمہ : 

یہاں ایک سوال اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی خفیہ طاقت تھی جو کبھی لیاقت علی خان جیسے وزیر اعظم کو طاقتور بنا دیتی تھی تو کبھی ناظم الدین گورنر جنرل کی کرسی پر بیٹھ کر بھی بے بس تھا، 
اس کا سادہ سا جواب ہے ، اسٹیبلشمنٹ

اسٹیبلشمنٹ کیا ہے ؟ یہ کیسے معرضِ وجود میں آئی؟

 اسٹیبلشمنٹ اس منظم قوت کا نام ہے جو پس پردہ سارے نظام کو غیر سیاسی اور غیر آئینی انداز میں چلاتی ہے،

انگریز نے 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب برصغیر پر فتح حاصل کی تو یہاں اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے انہیں نے درجہ ذیل چار مختلف قسم کی قوتوں کو منظم کیا،

فوج : 
اتنے بڑے علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ایک بہت بڑی منظم فوج کی ضرورت تھی، اس مقصد کے لیے یہاں مقامی لوگوں کو فوج میں بھرتی کیا گیا، 
اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ مفلوک الحال لوگ کم تنخواہ اور مراعات پر دستیاب تھے، دوسری بات مقامی لوگ تھے جنگ آزادی طرز پر کسی بغاوت کی صورت میں عوام کے ساتھ ساتھ فوج بھی ہندوستانی ہی مرتی، 

سول بیوروکریسی : 
انگریزوں نے برصغیر پر فوجی طاقت سے غلبہ حاصل تو کیا لیکن پھر نظام چلانے کے لیے سول بیوروکریسی لے آئے جسے ہم نوکر شاہی کہتے ہیں،
اس زمانے میں ڈپٹی کمشنر اپنے علاقے کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا، عام عوام کے ساتھ وہ غلاموں والا سلوک کیا کرتے تھے ، یہی وجہ تھی کہ آزادی کے بعد برطانوی سرکار نے برصغیر سے واپس آنے والے بیوروکریسی افسران کی برطانیہ میں سول سروس خدمات سر انجام دینے پر پابندی عائد کر دی تاکہ مبادا انگریز قوم کے ساتھ بھی غلاموں والا سلوک شروع نہ کردے،

جاگیردار : 
جس نے سرکار کے ساتھ وفاداری نبھائی سرکاری نے انہیں جاگیریں عطا کیں، یا ایسے چودھری، نواب، یا سردار جو تو مغل دور سے جاگیردار تھے لیکن نئے سرکار سے بھی وفاداری نبھانے لگے تو سرکار نے ان کی جاگیریں برقرار رکھیں، 
یہ جاگیردار اپنے اپنے علاقوں میں عام عوام کو خود ہی کنٹرول کرتے تھے ،علاقے کا جاگیر دار ، نمبردار ، تحصیل دار ، تھانیدار اور کمشنر وغیر سارے ایک ہی پیج پر ہوتے تھے،

مذہبی ہتھیار : 
جنگ آزادی کے شروع ہونے میں بنیادی عنصر مذہب کا تھا ، 
 سرکار اس کا بھی کاؤنٹر نظام لے آیا ، ایسے مذہبی پیشوا کو سامنے لایا گیا جو سرکار کے حق میں مضبوط دلائل دیتے تھے ، مخالفیں کو فتویٰ سے ڈھیر کردیتے تھے ، 
 کئی گورے جاسوس مولویوں کی روپ میں اپنی پسند کا اسلام پھیلاتے رہے،

ان سب میں بنیادی کردار جاگیرداروں کا تھا ، ان کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھے پھر فوج ، سول بیوروکریسی اور سیاست میں آکر نظام چلانے لگے، دراصل مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کو ان لوگوں نے ہی ہائیک جیک کرلیا تھا ، 

آزادی کے بعد : 
آزادی کے وقت سب سے مضبوط قوت سول بیوروکریسی کی تھی کیونکہ نظام سرکار وہی چلا رہے تھے، 
اسکندر مرزا، غلام محمد اور چودھری محمد علی اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، شروع شروع میں نظام پر ان کی  گرفت مضبوط تھی، یہ جمہوریت سے ناآشنا لوگ تھے جن کا کام سرکار کی طاقت سے رعایا پر حکم چلانا تھا، 
لیکن انگریز سرکار کے دور میں سول سروسز کے پیچھے تاج برطانیہ کی مضبوط طاقت تھی، 
آزادی کے بعد یہ لوگ اس طاقت سے محروم ہوگئے،
نظام پر گرفت قائم رکھنے کے لیے یہ طاقت کی حصولِ میں کوشاں ہوگئے، 
ایک نئے خستہ حال ملک میں تاج برطانیہ کی قائم کردہ فوج کے سوا کوئی اور منظم طاقت موجود نہیں تھی، 
یوں ملک میں فوج ، سول بیوروکریسی کا اتحاد وجود میں آیا، جاگیر دارانہ ذہنیت کے سیاست دان بھی ان کو سپورٹ کرنے لگے کیونکہ ان کو جمہوریت سے زیادہ اپنے چودھراہٹ کی فکر تھی، 
اس لئے لیاقت علی خان نے اسکندر مرزا کی سرپرستی کی
اور اسکندر مرزا اور غلام محمد ایوب خان کو سپورٹ کرتے رہے،
یہی وجہ تھی کہ خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوکر بھی بے دست و پا تھے، 
وقت کے ساتھ عدلیہ بھی ان کے در پر سجدہ ریز ہوگئی، 
ایوب خان اور اس کے ساتھیوں کو معلوم تھا کہ طاقت کا اصل سرچشمہ اب ہم ہی ہیں ، اس لئے نظام سنبھالنے کے بعد انہوں نے اسکندر مرزا ان سے ایک ماہ بھی برداشت نہ ہوسکا،

یوں اسٹیبلشمنٹ والی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ فوج نے سنبھال لی، سول بیوروکریسی، عدلیہ، مذہبی پیشوا اور موقع پرست سیاست دان اس میں باوضو بیٹھ کر اسلام اور حب الوطنی کے گیت گانے لگے،

پہلا مارشل لاء اور نظریہ ضرورت کا اجراء:

بدقسمتی سے پہلے مارشل لاء کو کسی نے چیلنج نہیں کیا،
لیکن ایک واقعہ کو بنیاد بناکر عدالت عظمیٰ نے اسے نظریہ ضرورت کے مطابق جائز قرار دے دیا،
ہوا یوں کہ بلوچستان میں ایک شخص ڈوسو کو قبائلی لویہ جرگے نے ایف سی آر قانون کے تحت قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔ اس کے اہلخانہ نے لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کی جس نے 1956 کے آئین کے آرٹیکل پانچ اور سات کے تحت ڈوسو کے حق میں فیصلہ کیا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جس نے سماعت کے لیے 13 اکتوبر 1958 کی تاریخ مقرر کی۔ اس سے قبل 7 اکتوبر 1958 کو مارشل لگا دیا گیا۔
سپریم کورٹ میں ڈوسو کا کیس شروع ہوا تو مشکل آن پڑی کہ لاہور ہائیکورٹ نے 1956 کے آئین کے تحت فیصلہ دیا تھا جو منسوخ ہو چکا تھا۔
چنانچہ چیف جسٹس منیر کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کا سہارا لیا اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔
اس فیصلے میں قرار دیا گیا کہ

" مارشل لاء انقلاب کی ایک قسم ہے۔ چونکہ اس کے خلاف عوام نے مزاحمت نہیں کی اس کا مطلب ہے کہ وہ اس تبدیلی سے خوش ہیں۔ اس لیے یہ مارشل لاء قانونی ہے اور اس کے تحت مقدمات کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے"

سوال یہ ہے کہ اگر عوام مارشل لاء کے بندوقوں کے سامنے کھڑی ہوتی تو جسٹس منیر اور ہمنوا کس کے ساتھ ہوتے ؟؟؟

تھری ناٹ تھری:

ایف اے پاس بابوؤں نے قبضہ تو کرلیا لیکن نظام چلانا ان کے بس کی بات نہیں تھی، چلانے کا فن گوروں کے تربیت یافتہ سول بیوروکریسی کے پاس ہی تھا، 
اب ان سے نظام بھی چلانا تھا اور ماتحت بھی رکھنا تھا، 
اس کے لیے ایوب خان تھری ناٹ تھری فارمولا لیکر آئے،
اس کے تحت 303 اعلیٰ سول سروس افسران کو فارغ کر دیا گیا، باقیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ انتہائی فرمانبرداری کے ساتھ فرائض منصبی سر انجام دینے لگے ، 

ایوب خان نے دو قوانین فوری طور پر نافذ کروائے۔
پہلا قانون تھا ’’پوڈو‘‘
(Public Office Disqualification Order)
اس قانون کا اطلاق سیاسی عہدیداروں اور سرکاری ملازمین پر ہوسکتا تھا، جس کی سزا 15 سال تک تھی۔

اس کے ساتھ اس قانون کا خوف دلاکر ایوب خان نے سیاسی رہنماؤں پر اس سے ملتا جلتا قانون نافذ کیا جس کا نام تھا ’’ایبڈو‘‘
(Elective Bodies Disqualification Order )
 ایبڈو کے جرم میں سزا پانے والے سیاست دانوں کو 6 برس تک کی سزا تجویز کی گئی تھی، مگر اس میں ایک رعایت یہ بھی حاصل تھی کہ سیاست دان ازخود 6  سال کے لیے سیاست سے اپنی دست برداری کا حلف جمع کروائے۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے قومی و صوبائی سطح پر 98 سیاست دانوں کو (جو کسی نہ کسی وقت حکومت کا حصہ رہے تھے) نامزد کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔ ان میں سے 70 سیاست دانوں نے رضاکارانہ طور پر چھ سال کے لیے سیاست سے دست برداری کا اعلان کیا فیروز خان نون نے بھی سیاست سے دست برداری کا فیصلہ کیا۔
آج کل یہ مائنس ون اور مائنس ٹو کے فارمولے اسی کا تسلسل ہیں،

جنرل موسیٰ خان اور فلیڈ مارشل : 

27 اکتوبر کو اسکندر مرزا سے استعفیٰ لینے کے بعد ایوب خان نے اعلان کیا، کہ 
" میجر جنرل اسکندر مرزا جو کچھ دیر پہلے صدرِ پاکستان تھے، انہوں نے قلمدان سے دست بردار ہوکر تمام اختیارات مجھے سونپ دیئے ہیں۔ اِس لیے میں نے اِس شب صدارت کا قلمدان سنبھال لیا ہے اور صدارتی اختیارات اور اُس سے متعلقہ دیگر اختیارات اپنے ذمے لے چکا ہوں" 

کار جہاں دراز تھا ، اس لئے اسی رات کو ہی ایوب خان نے کوئٹہ کے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل محمد موسیٰ خان کو چار ستارے لگا کر اسے فل جنرل کے عہدے پر ترقی دی اور اسے مسلح افواج کا کمانڈر انچیف مقرر کیا، بعد میں خود کو پانچ ستارے لگا کر ایوب خان خود ساختہ فیلڈ مارشل بن گئے ،

میڈیا پر سنسر شپ : 

ایوب خان نے سب سے پہلے اخبارات پر سخت قسم کا سنسر لگوا دیا جس میں مارشل لاء اور اس کے قوانین کے خلاف، یا حکومتِ وقت کے خلاف کوئی بھی بات کرنا سخت ترین جرم قرار پایا۔ یہی نہیں بلکہ اُسی دور کی بات ہے کہ چائے خانوں اور عوامی جگہوں پر تختیاں / بورڈ آویزاں کرنے کا حکم تھا، جس پر تحریر ہوتا کہ
 ’’یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے‘‘

بنیادی جمہوریت اور ریفرینڈم : 

1959 میں ایوب خان بنیادی جمہوریت کا نظام لیکر آئے جس کے تحت متوسط اور مالدار طبقے سے 80 ہزار بی ڈی ممبرز منتخب کئے گئے، 
جنرل ایوب خان نے 1960 میں ریفرنڈم کرایا،
جس میں عوام کی بجائے 80 ہزار بی ڈی ممبرز نے ووٹ ڈالا ،  اور یوں 95.6 فیصد ووٹوں سے ایوب خان آئندہ 5 سال کے لیے ملک کے صدر منتخب ہوگئے۔

سرد جنگ میں خدمات : 

نظام پر مکمل گرفت حاصل کرنے کے بعد ایوب خان نے سرد جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی کے طور امریکی سرکار کے لیے تاریخی خدمات سر انجام دینے شروع کر دیئے ،

آج ہمارا آرمی چیف، چیف جسٹس اور وزیر اعظم تینوں ایوب خان دور کی عظمتوں کے دلدادہ ہیں ، اس دور کی ترقی کی مثالیں دیتے رہتے ہیں، 

حقیقت کیا تھی ۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
یہی تاریخ کا سوال ہے ۔۔ 

جاری ہے۔۔۔
[14/03, 7:04 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ" 
تاریخ کے جھروکوں سے: انیسویں قسط

ایوب خان کے سنہرے دور کا ذکر کرنے سے پہلے اس پراجیکٹ کا جائزہ لینا ضروری ہے جس کی تکمیل کے لئے ایوب کو لایا گیا ،
ایوب خان کے علاؤہ ضیاء الحق اور مشرف کا نزول بھی کچھ خاص مقاصد کے لیے ہوا تھا، 
ہر ڈکٹیر کو ان خدمات کے بدلے آقاؤں نے ہمیں مخصوص قیمت ادا کی، جس سے وقتی طور پر تو گزارا چلتا رہتا لیکن بعد میں ملک و قوم کو اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑی،
ایوب دور کی یہ داستان بہت دلچسپ، عجیب اور پراسرار ہے ، اور شاید پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس ذکر بہت کم ہی آپ کو ملے ،
 
سرد جنگ کا آغاز : 

دوسری جنگ عظیم کے ساتھ ہی دنیا کا نقشہ بدل گیا،
جرمنی اور جاپان نے بیک وقت یورپ، امریکہ اور روس کے خلاف محاذ کھولا ہوا تھا،
ہیروشیما پر ایٹمی حملے نے جنگ کا پانسا پلٹ دیا، 
جاپان اور جرمنی شکست کے بعد عالمی منظر نامے سے غائب ہوگئے ، تاج برطانیہ کی سلطنت سکڑنے لگی، 
اور یوں امریکہ اور سویت یونین دنیا کے دو بڑے سپر پاورز بن کر سامنے آئے،
کمیونزم چونکہ سرمایہ دارانہ نظام کے رد عمل میں سامنے آیا تھا اس لیے سویت یونین امریکہ اور یورپ کے لئے صرف ایک فوجی خطرہ نہیں بلکہ معاشی چیلنج بھی تھا، 
یوں مغربی اقوام کے لیے اس کا روکنا زندگی اور موت کا مسلئہ بنا ہوا تھا،

1950 کے اوائل سے ہی امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف چاروں طرف سے جاسوسی کا ایک ہالہ قائم کرنا شروع کردیا تھا، اس سلسلے میں ترکی، جرمنی ، اسکاٹ لینڈ، فلپائن، تائیوان اور جاپان میں جاسوسی کے مراکز قائم کردئیے گئے، ان مراکز میں ایسے آلات نصب تھے جو سویت یونین کے مواصلاتی سگنلز کو مانیٹرنگ کرتے رہتے تھے،

سرد جنگ میں گرمی اس وقت آئی جب 1953 میں آئزن ہاور  امریکہ کے صدر منتخب ہوگئے، فائیو اسٹار جنرل آئزن ہاور  1945 سے  1948 تک امریکی فوج کے سربراہ رہے تھے اور دوسری جنگ عظیم میں اس نے نمایاں کارنامے سر انجام دئیے تھے،

آسمانی جاسوس ( Spy in the Sky ) : 

امریکی فوج کے ایک جاسوس کا قول ہے کہ
 'In God we trust, all others we monitor’
"ہم صرف خدا پر یقین رکھتے باقی سب کی جاسوسی کرتے ہیں"

اس دور میں جب جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی ابھی آئی نہیں تھی، دیگر ممالک میں قائم امریکہ کے جاسوسی مراکز صرف ریڈیو سگنلز کی مانیٹرنگ کی صلاحیت رکھتے تھے، 
بعد امریکہ نے اس مقصد کے لیے ایک ایسا جہاز تیار کیا جو سویت یونین کے اوپر پرواز کرسکے۔ اس جہاز کا نام تھا U2 یو ٹو۔  

یو ٹو U2 ایک افلاکی جاسوس : 

یو ٹو ایک جدید جاسوس طیارہ تھا جو ستر ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کی صلاحیت رکھتا تھا،
اتنی بلندی پر پرواز کرنا سویت یونین کے جنگی جہاز کے لئے ناممکن تھا، اس طرح یہ بھی مشہور تھا کہ نہ سویت یونین کے رڈار اتنی بلندی تک ٹارگٹ دیکھ سکتے ہیں اور نہ سویت یونین کا میزائیل نظام اتنی بلندی تک مارنے صلاحیت رکھتا ہے، اس میں نصب جاسوسی کیمرے انتہائی بلندی سے زمینی تنصیبات کی تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتے تھے، 

اسی طرح اس میں جاسوسی کے لیے ایلکٹرانکس کے جدید آلات نصب تھے، جس کے ذریعے زمین پر موجود ریڈیو سنگنلز ، ریڈار سنگنلز ، دشمن کے پائلٹس کا آپنے زمینی کنٹرول سینٹرز سے وائرلیس پر رابطے، ایٹمی ری ایکٹرز سے نکلنے والی تابکاری شعاعوں کے اخراج کی مانیٹرنگ کی جا سکتی تھی،

یوں یہ جہاز بیک وقت دشمن کے زمینی ، فضائی اور ایٹمی تنصیبات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا، یو ٹو دراصل سی آئی اے اور امریکن ایئر فورس کا مشترکہ پراجیکٹ تھا، شروع شروع میں اس جہاز نے سویت یونین کے سرحدوں کے ساتھ ساتھ یا بین الاقوامی سمندر میں پروازیں کیں، لیکن سویت یونین کے فضائی حدود کے اندر براہ راست پروازوں سے احتراز کیا،

حساس اور خطرناک پراجیکٹ : 

اس ساری تفصیلات سے دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کتنا حساس اور خطرناک پراجیکٹ تھا اور امریکہ کے لئے اس کی کیا اہمیت تھی اور ہمارے کرم فرماؤں نے کتنے سستے میں یہ خدمات سر انجام دیں،   
بطور ایک فوج جرنل صدر آئزن ہاور کو خود اس کی اہمیت اور حساسیت کا احساس تھا، 
اسی تناظر میں امریکی صدر اپنے ائر فورس کے پائلٹوں کے ذریعے ان جہازوں کے اڑانے کے حق میں نہیں تھے،
کہ مبادا اگر اس مشن کے دوران امریکی ائر فورس کا پائلٹ سویت یونین کے سرزمین پر نشانہ بنا تو سویت یونین والے اسے اپنے خلاف جارحیت تصور کریں گے،
سرد جنگ کے دوران اس قسم کی جارحیت جنگ کے زمرے میں آتی تھی،
اس لئے شروع شروع میں اس قسم کے مشن کے لیے غیر امریکی پائلٹوں کی تجویز سامنے آئی، اور کچھ غیر ملکی پائلٹوں کی ٹریننگ بھی کی گئی، 
لیکن پھر دو وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ روک دیا گیا، 
پہلی وجہ یہ تھی کہ اتنے بڑے پیمانے پر غیر ملکی پائلٹوں کو لانے کی صورت میں رازداری متاثر ہونے کا خطرہ تھا،

دوسری وجہ اتنی بلندی پر پرواز کے لیے زیادہ تر پائلٹس مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتر رہے تھے، 
شروع میں چار یونانی پائلٹس لائے گئے لیکن ان میں سے کوئی بھی ٹریننگ مکمل نہ کرسکا، ان کو بعد میں 
" دھلے ہوئے یونانیوں" کے نام سے یاد کیا جاتا تھا، 
پراجیکٹ اتنا خفیہ اور حساس تھا کہ امریکی حکومت نے ان ناکام پائلٹوں کو بھی واپس جانے نہ دیا اور سرکاری خرچے پر ان کو یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لیے داخلے دلوائے، 
بعد میں امریکی صدر کی اجازت سے سی آئی اے نے  برطانوی رائل ائر فورس کے دو پائلٹوں کی خدمات حاصل کیں،
ان غیر معمولی اقدامات کے ذریعے امریکہ ایک جانب سویت یونین کے اعلی تنصیبات کی جاسوسی کرنا چاہتا تھا،  لیکن دوسری طرف اپنے ملک اور ان کے مسلح افواج کو بدنامی سے بچانا بھی مقصود تھا،   
 
پاکستان اور آسمانی جاسوس :

درحقیقت اسکندر مرزا اور ایوب خان کافی عرصہ سے اس پراجیکٹس کے لیے راضی ہوچکے تھے، 
مسٹر رچرڈ بسل سی آئی اے میں U2 پروگرام کے انچارج تھے اس کے معاون خصوصی  جیمز کننگم کافی عرصے سے جنرل ایوب کے ساتھ رابطے میں تھے، اس سلسلے میں وہ متعدد بار پاکستان کا دورہ کرچکے تھے، 

10 جنوری 1957 کو امریکہ کے نیشنل سیکورٹی کونسل ( NSC ) نے پاکستانی امداد پروگرام 5701  NSC کی منظوری دی ، اس میں 410 میلین ڈالرز کا فوجی امداد اور 374.7 ملین ڈالر کا تین سالہ ملٹری سپورٹ پروگرام شاملِ تھا ۔
اس کے تحت ( 1957 سے لیکر 1960 تک ) تین سالوں میں امریکہ نے پاکستان کے چار نئے انفنٹری ڈویژن اور ایک آرمرڈ ڈویژن کے قیام کے لیے مداد فراہم کرنی تھی،
یوں اس طرح پاکستانی فوج کی نفری میں چالیس ہزار  کا اضافہ ہونا تھا۔ جنوری 1957 میں ہی امریکی صدر نے اس پیکج کی منظوری دی،

یوں جب جولائی 1957 میں پاکستانی وزیراعظم حسین شہید سہروردی  ایک اعلیٰ سرکاری وفد کے ہمراہ امریکہ پہنچے تو ایک نئے معاہدے کے لئے زمین ہموار کی جاچکی تھی،
 اس دورے کے دوران صدر آئزن ہاور نے پاکستان کے ہوائی اڈوں سے یو ٹو جہاز اڑانے کی خواہش ظاہر کی، 
حسین شہید سہروردی کی اس پراجیکٹ کے لیے رضامندی ایک قسم کی سیاسی خودکشی تھی کیونکہ مشرقی پاکستان کے بیشتر لیڈر امریکہ کے بجائے سویت بلاک کے ساتھ تعلقات بنانے کے حق میں تھے،
سہرودی کچھ ہی عرصے کے بعد اقتدار سے بےدخل کردئیے گئے، 
نئے وزیراعظم فیروز خان نون اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے چاہتے تھے، گوادر کے حصول کے بعد اس کی کوشش تھی کہ کشمیر کا مسلئہ حل ہو، 
یوں اس نے امریکہ کے ساتھ تعاون کی صورت میں مسلئہ کشمیر کے حل کی شرط رکھی،
مارچ 1958 کو قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فیروز خان نون نے امریکہ کو برملا خبردار کیا کہ 
" اگر مسئلہ کشمیر کے حل کرنے میں پاکستان کی اعانت نہ کی گئی تو دنیا سے تمام معاہدے ختم کئے جاسکتے ہیں" 
اس قسم کے حساس پروگرام میں یوں روڑے اٹکانا امریکہ کو کسی صورت منظور نہیں تھا،

یوں قومی سلامتی کی خاطر نااہل سیاسی قیادت کو فارغ کرکے ایوب خان اور اسکندر مرزا نے امریکہ کے لئے میدان صاف کردیا، شروع شروع میں لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈوں سے یو ٹو کی پروازیں اڑانے پر اتفاقِ رائے کیا گیا ،

1958 میں ہی امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایک جاسوسی مرکز کے قیام کے لیے باقاعدہ سنجیدہ مذاکرات شروع ہوگئے، 

1959  میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان دس سالہ لیز کا معاہدہ طے پایا، اس سلسلے میں آمریکن ایئر فورس سیکیورٹی سروسز (USAFSS ) کی خصوصی ٹیم نے مطلوبہ پروجیکٹ کی تعمیر کے لیے سائٹ سروے شروع کیا، 
بالآخر  پشاور سے 16 کیلومیٹر دور کوہاٹ روڈ پر بڈھ بیر گاؤں کے قریب (Project Sandbag)  کا آغاز ہوا،
کرنل ایتھائل برانہام انفراسٹرکچر تعمیر کرنے والی یونٹ کے کمانڈر تھے،
ابتدائی عرصے میں اس پراجیکٹ کے ساتھ کسی قسم کا جہاز منسلک نہیں تھا، اس مرکز کا بنیادی مقصد سویت یونین کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی جانکاری حاصل کرنا تھا،
سویت یونین کے ٹارٹم میزائل ٹیسٹ رینج کی جاسوسی اس کا بنیادی حدف تھا،
اس پراجیکٹ میں پاکستان ائیر فورس کے اہلکار براہِ راست ملوث نہیں تھے، 
پاکستان ائیر فورس کا ایک ونگ کمانڈر بطور رابطہ افسر امریکیوں کے ساتھ رابطے کے لیے مقرر تھا ،
اس رابطہ افسر کو بھی آپریشن ایریا میں جانے کی اجازت نہیں تھی، تمام معاملات جنرل ایوب خان اور امریکن ہائی کمانڈ کے درمیان براہ راست طے ہوتے تھے،

ہم کے ٹہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد : 

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورہ پشاور کے دوران بڈھ بیر اسٹیشن کے دورے کی خواہش ظاہر کی، ضلع پشاور کے ڈپٹی کمشنر روئداد خان نے بھٹو کی یہ درخواست امریکن بیس کمانڈر کرنل تھامس کے سامنے پیش کی ، 
کرنل تھامس نے جواب دیا کہ
" ہم مسٹر بھٹو کو بڈھ بیر اسٹیشن کے کیفیٹریا میں خوش آمدید کہیں گے، جہاں اس کا استقبال کافی اور سینڈوچ کے ساتھ کیا جائے گا ، لیکن اس کو کیفیٹریا کے علاوہ کسی اور جگہ جانے کی اجازت نہیں ہوگی" 

یہ تھا جنرل ایوب کا آزاد ، خود مختار اور مضبوط پاکستان جس میں اس کا وزیر خارجہ اپنی سرزمین پر قوم رکھنے کے لیے ایک امریکی کرنل کے سامنے بے بس تھا ،
بڈھ بیر اسٹیشن کا قیام ہو ، آپریشن جبرالٹر ہو یا مشرف کے دور میں پاک فضائیہ کے فضائی مستقروں کو امریکہ کے حوالگی کا معاملہ ہو، ان ڈکٹیٹروں نے سولین کیا خود پاک فضائیہ اور پاک نیوی کو بھی اعتماد میں لینے کی زحمت گوارا نہیں کی، 
مشرف دور میں جیکب آباد کا شہباز ائیر بیس امریکیوں کے حوالے کیا گیا ، عام افراد کیا پاک فضائیہ کے اعلی اہکاروں کو بھی اس مخصوص علاقے میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی تھی،

اب بتائیں اس ملک میں اصل سیکورٹی رسک اور غدار کون ہے ؟؟؟
اپنی سرزمین کو غیروں کے تصرف میں دینے والوں کے لیے ڈکشنری میں کون سا لفظ استعمال ہوتا ہے؟

#غداروں_کی_تاریخ
[14/03, 7:04 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ" 
تاریخ کے جھروکوں سے: بیسویں قسط

جولائی 1958 کو جنرل ایوب خان نے کہا تھا،
' مصیبت یہ ہے کہ امریکیوں کو ہر وقت اپنے پیسوں کی فکر  لاحق ہوتی ہے، ان بیوقوفوں کو یہ نہیں معلوم کہ ایک دن ہماری طاقت ان کے لئے بے پناہ اہمیت کی حامل ہوگی"

امریکی شروع دن سے لیکر آج تک ایک ایک پائی کا حساب کتاب رکھتے ہیں، 
اسی طرح ہمارے کرم فرماؤں کو نسل در نسل اس حقیقت کا ادراک ہے کہ ہم امریکیوں کے لئے کتنی اہمیت کے حامل ہیں، 
 
1956 سے لیکر 1960 تک چار سالوں میں یو _ٹو نے سویت یونین کے اوپر کل چوبیس پروازیں کیں،
ان میں سے دس پروازیں پاکستان سے کی گئیں، جس میں سے پانچ لاہور اور پانچ پشاور سے ہوئیں،
ابتداء میں برطانیہ کے دو پائلٹ جرمنی سے یو ٹو اڑیا کرتے تھے،
امریکین پائلٹس : 

مشن کی نزاکت کے لحاظ سے بالآخر صدر آئزن ہاور نے براہِ راست امریکی پائلٹوں کے ذریعے پروازوں کی منظوری دی ، 
اس میں بھی یہ احتیاط برتی گئی کہ امریکن ایئر فورس سے ایسے بہترین رضاکار پائلٹ تلاش کئے گئے،جو سنگل انجن، سنگل سیٹ جہاز کو لمبے دورانیے تک اڑانے کی صلاحیت رکھتے تھے ، 
انہیں ائرفورس سے ریٹائرڈ کردیا گیا،
ٹاپ سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد  سی آئی اے نے انہیں  بہت بڑے معاوضے پر  18 ماہ کے کنٹریکٹ پر بھرتی کیا ، اور ان کو یہ سہولت بھی حاصل تھی کہ پروجیکٹ کے اختتام پر دوبارہ ائرفورس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں،
 
1960 کے شروع میں ہی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایلن ڈیلز اور یو ٹو کے انچارج بیسل کو یہ اطلاع مل چکی تھی کہ سوویت یونین شمالی یورالز میں ایک بلاسٹک میزائل سائٹ بنا رہا ہے،
16 مئی 1960 کو پیرس میں دنیا کے چار بڑی طاقتوں کا سربراہ اجلاس تھا، 
 جس میں امریکی صدر آئزن ہاور، فرانسیسی صرد چارلس ڈیگال ، روسی وزیر اعظم خروشیف اور برطانوی وزیراعظم
  ہارولڈ میکسیلن نے شرکتِ کرنی تھی،
امریکی صدر آنے والے اجلاس کے پیش نظر  کسی قسم کی مہم جوئی میں ہچکچاہٹ محسوس کررہے تھے،
لیکن بعد میں اس بنیاد پر راضی ہوگئے تاکہ اجلاس سے قبل 
ڈیٹا اکھٹا کرکے اسے مسلئے کو سوویت قیادت کے سامنے اٹھا سکیں، 

پاکستان کے لئے کور اسٹوری :

امریکی حکومت کا پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ تھا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں امریکہ اس بات کا اقرار کریگا کہ وہ پاکستان کے اجازت کے بغیر  یو - ٹو مشن چلا رہا تھا، 
پاکستان کے لئے یہ کور اسٹوری ترتیب دی گئی تھی کہ پاکستان سے پرواز کرنے کے بعد یو ٹو واپس پاکستان آنے کی بجائے ترکی، ایران یا ناروے میں لینڈ کریگا، 
تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستان کے پاس یہ دلیل ہو کہ ہماری سرزمین سے تو فلاں ملک کے لئے اڑان بھری تھی، 
اب ہمیں کیا معلوم کہ وہ کہاں کہاں سے ہوکر واپس پہنچا ہے،
 اس سلسلے میں یو - ٹو کی پہلی اڑان  پاکستان سے سویت یونین اور وہاں سے پھر ایران کے شہر مشہد تک تھی، 
مشہد کے صحرائی پٹی پر لینڈ کرنے کے بعد یو ٹو واپس ترکی چلا گیا،

پہلا مشن : 
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ پیرس اجلاس سے قبل صدر آئزن ہاور کم از کم دو مشن کروانا چاہتے تھے، 
اس سلسلے میں پہلا مشن 9 اپریل کو لانچ کیا گیا، 
اس یو ٹو جہاز کو امریکی پائلٹ باب ارکسن آڑا رہے تھے،
جہاز نے پشاور اڑان بھری، پامیر کی چوٹیوں کے اوپر پرواز کرتے ہوئے تیرتم لانچنگ سائٹ وہاں سے سیمی پالٹنسک کے نیوکلیئر سائٹ، ڈولان ائر بیس ( جہاں ٹی یو 95 بمبار جہاز کھڑے تھے) اور وہاں سے ساریشاگان کے میزائل سائٹ تک کا سفر کیا ,

سوویت یونین کی تیاری : 

 سوویت یونین کئی برسوں سے اپنی ائر ڈیفنس سسٹم میں بہتری لا رہا تھا،1960 کے اوائل میں ہی اس نے جدید P_30 ریڈار سسٹم نصب کیا جو انتہائی بلند پرواز طیاروں کا پتہ لگا سکتا تھا، 
اسی طرح SU_9 لڑاکا طیارے اور اس زمین سے 80 ہزار فٹ بلندی تک فضاء میں ہدف کو نشانہ بنانے والا جدید میزائل SA_2 اس کے ائر ڈیفنس سسٹم میں شامل ہوچکے تھے،
اس لئے جب یو ٹو جب سوویت یونین کے فضائی حدود میں 250 کلومیٹر تک اندر پہنچا تو سویت ائر ڈیفنس سسٹم نے اس کا پتہ لگا لیا ، 
سوویت یونین نے مگ 19 اور SU_ 9 طیاروں سے اسے روکنے کی  ناکام کوشش کی، لیکن  یو ٹو اپنا مشن مکمل کرکے زیدان ائر سٹرپ پر لینڈ کرگیا، 
سوویت لیڈر خروشیف کریمیا میں تھے جب اسے یو ٹو کی اطلاع پہنچی، 
وہ بہت آگ بگولا ہوئے اور اس نے سخت وارننگ جاری کر دی کہ آئندہ اس قسم کا واقعہ پیش آیا تو وہ فوج کے سینئر جرنیلوں کو سخت سزا دیں گے،
سویت یونین نے ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ ہمارا ائر ڈیفنس سسٹم یو ٹو طیاروں کے مار گرانے میں کیوں ناکام رہا ہے، 
سویت ائر ڈیفنس کے کرنل الیگزینڈر اولو اس کمیشن کے ممبران میں شامل تھے بعد میں اس نے " یوٹو پروگرام " کے نام سے اپنی یاداشتیں تحریر کی جو آج بھی سی آئی اے کی ویب سائٹ پر پڑی ہیں،
کرنل الیگزینڈر کے مطابق بہت سارے کمزور پہلوؤں کی نشاندھی ہوئی اور اس کی درستگی کر دی گئی،

ایک طرف نئی تیاریوں کے ساتھ سوویت یونین ہائی الرٹ ہوگیا دوسری جانب  سی آئی اے کے ڈائریکٹر ایلن ڈیلز نے فوری طور ایک اور مشن کی منظوری دی کیونکہ پلیسٹک میزائل سائٹ کی کچھ تصویریں صاف اور واضح نہیں تھیں ،
یہ تھا وہ پس منظر جس میں یو ٹو کا سب سے خطرناک مشن لانچ کیا گیا، 

آپریشن گرینڈ سلام :

28 اپریل 1960 کو  یوٹو جاسوسی طیارہ جس کا نمبر 358 تھا ترکی کے ائر بیس سے پشاور کے لئے ایک اڑا، 
اس سے ایک دن قبل یعنی 27 اپریل کو ایک ایندھن بردار جہاز C-124 میں اس طیارے کے لیے ایندھن اور ایک C_ 130 جہاز میں تکنیکی عملہ جس میں مشن پائلٹ فرانسس گرے پاور اور متبادل پائلٹ باب ارکسن پشاور پہنچائے جا چکے تھے، 
29 اپریل کی صبح یہ اطلاع آئی کہ مشن ایک دن کے لئے ملتوی ہوگیا ہے، اسی روز باب ارکسن یوٹو لیکر واپس ترکی چلے گئے، اور وہاں سے جان شائن نامی پائلٹ ایک اور یوٹو جس کا نمبر 360 تھا لیکر پشاور پہنچ گئے، 
30 اپریل کو سویت یونین کے اوپر گھنے بادلوں کی وجہ سے مشن مزید ایک دن کے لئے ملتوی کردیا گیا،
آخرکار یکم مئی کی صبح  پائلٹ فرانسس گرے پاور یو ٹو کو اڑا کر مشن پر روانہ ہوگیا ، اس خفیہ مشن کو  آپریشن گرینڈ سلام کا کوڈ نام دیا گیا،
پروگرام کے مطابق یوٹو نے افغانستان اور دوشنبہ سے پرواز کرتے ہوئے بیکونور اور پلیسٹک کی فوٹوگرافی کرکے واپس ناروے جانا تھا، 
بیکنور میں بینن البراعظمی میزائل کے دو اور پلیسٹک میں چار لانچنگ سائٹس تھیں، اسی طرح چیلابیانسک شہر میں پلاٹینم افزودگی کا پلانٹ تھا جس کی فوٹوگرافی بھی مشن کا حصہ تھا ، 
اس وقت قازقستان ، سائبیریا اور سوویت یونین کے زیر انتظام یورپی علاقوں میں ائر ڈیفنس سسٹم ہائی الرٹ تھا،

یوٹو جوں ہی افغانستان کو عبور کرتے ہوئے ( اس وقت )  سویت یونین کے علاقے تاجکستان میں داخل ہوا تو ان کے رڈار سسٹم نے اس کا پتہ لگا لیا ،  
صبح پانچ بجے خروشیف کو اس کے وزیر دفاع مارشل مالینوسکی نے جگا کر یوٹو کے آنے کی خوشخبری سنائی، 
سویورڈلوسک ائر بیس سے ایک SU_9 لڑاکا طیارہ اڑا لیکن مطلوبہ بلندی تک پہنچنے کے باوجود اسے پانے میں ناکام رہا،
یوٹو اس وقت 62 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑا رہا تھا،
سوویت ائر ڈیفنس کمانڈر مارشل سرگیو خروشیف کو بتایا کے سویروڈلوسک سے پہلے ایسا کوئی میزائل لانچنگ سائٹ نہیں جو یوٹو کو اتنی بلندی پر نشانہ بنا سکے، 
یوٹو کے سویروڈلوسک آنے کے بعد قسمت آزمائی کی جاسکتی ہے، 
 
یوم مئی کی سالانہ فوجی پریڈ اور پریشان کن صورتحال : 

یہ سویت یونین اور اس کے لیڈر خروشیف کے لیے بہت پریشان کن صورتحال تھی ، کچھ لمحوں کے بعد ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں یوم مئی کے حوالے سے مسلح افواج کی ایک شاندار  پریڈ شروع ہونے والی تھی، جس میں خروشیف ، اس کے وزراء ، فوجی سربراہان اور اعلیٰ حکومتی ارکان نے شرکتِ کرنی تھی، 
عوام کو ایک ایسے وقت میں سویت کی بہادر مسلح افواج کے کارنامے دکھائے جانے تھے جس لمحے دشمن کا ایک جہاز ملک کی فضائی حدود کی پامالی کرتے ہوئے پورے دفاعی نظام کو بے بس کر گیا تھآ،

خروشیف آگ بگولا تھا ، اس نے ائر ڈیفنس سسٹم کے کمانڈر انچیف مارشل سرگیو بیروزوف کو فون کرکے کہا ،
"انتہائی شرم کا مقام ہے ، ملک نے ائر ڈیفنس کے ہر ضرورت کو پورا کیا لیکن آپ سے ایک جہاز نہیں گرایا جاسکتا" 

بیروزوف نے جواب میں کہا، 
" سر اگر میرا اپنا جسم خود ایک میزائل بن سکتا تو میں اس کو مار گراتا " 
خروشیف نے حکم دیا کہ ہر قیمت پر جہاز کو گرایا جائے، 
ادھر یو ٹو بڑے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا، 
 یوٹو جوں ہی سویروڈلوسک میزائل لانچنگ رینج کے حدود میں پہنچا تو میزائل بیٹری کمانڈر نے فائر کا حکم دے دیا،
08:53 بجے پر پہلے SA_2 میزائل نے یوٹو کو نشانہ بنایا، 
میزائل جہاز کے دم والی سائیڈ پر لگا، 
پائلٹ پاور نے جب جہاز کا کنٹرول کھو دیا، تو اس نے ایجکشن کرنے کی کوشش کی لیکن پہلی کوشش میں ناکام رہا ،
دھماکے سے اس کی سیٹ آگے کو سرک گئی تھی اور اس کا آکسیجن پائیپ بھی علیحدہ نہیں ہورہا تھا، 
بحر حال اس نے بڑی مشکل سے چھلانگ لگائی ،
تھوڑی دیر بعد ایک اور میزائل نے یوٹو کو ایسا نشانہ بنایا جس سے یہ تاریخی جاسوس فضا میں بکھر گیا ،
بعد میں کئی کلومیٹر کے علاقے میں اس کا ملبہ ملا،
سوویت والوں کو پھر بھی آدھے گھنٹے تک یو ٹو کے تباہ ہونے کا پتہ نہیں چلا ، 
تھوڑی دیر بعد رڈار کے اسکرین پر دوبارہ ایک ٹارگٹ نمودار ہوا اور پھر وہ ایک میزائل کے نشانے سے غائب ہوا، 
بعد میں پتہ چلا کہ دوسرا جہاز سویت یونین کا اپنا مگ 19 تھا جو میزائل کا نشانہ بنا ، وجہ یہ تھی کہ اس میں دوست اور دشمن کے پہچان والے سسٹم میں مئی کے مہینے کا نیا کوڈ نہیں ڈالا گیا تھا، 
اس کے کافی دیر تک جب  رڈار کی اسکرین پر کوئی چیز نظر نہیں آئی تو کنفرم ہؤا کہ یوٹو نشانہ بن چکا ہے،
مارشل بیروزوف نے خروشیف کو فون کرکے خوشخبری سنائی لیکن اسے یقین نہیں آ رہا تھا،
جس پر کے جی بی اور دیگر رسیکیو ٹیمیں جائے وقوعہ کے لیے روانہ کردی گئیں،
مارشل بیروزوف ملٹری پریڈ میں شرکت کے لیے روانہ ہوا، 
پائلٹ فرانسس گرے پاور زمین پر بحفاظت اتر گیا اور کے جی بی نے اسے تلاش کرکے گرفتار کر لیا،
پائلٹ گرے کو ایک مخصوص ڈالر کا نوٹ دیا گیا تھا جس میں چاندنی کی پلیٹ نصب تھی جس کے اندر ایک زہریلی سوئی جسے وہ بوقتِ ضرورت استعمال کرکے خود کشی کرسکتا تھا ، لیکن پاور گرے نے اس کا استعمال نہیں کیا، 
جہاز کے ملبے سے فلم کی  ایک لمبی ریل ملی،
 بعد میں جب اس فلم کو ڈیولپ کیا گیا تو ساری حساس تصاویر سامنے آگئیں،

اس کے بعد کیا ہوا یہ بہت ہی دلچسپ اور سبق آموز داستان ہے ، 
 

جاری ہے۔۔۔
#غداروں_کی_تاریخ

 تاریخی یوٹو جو بعد میں ملٹری میوزیم میں رکھا گیا
[14/03, 7:05 pm] MUKHTAR AHMAD: " غداروں کی تاریخ " 
تاریخ کے جھروکوں سے: اکیسویں قسط 

سوویت مسلح افواج اور کے جی بی نے چند گھنٹوں کے بعد یوٹو کا ملبہ تلاش کرلیا ، پائلٹ فرانسس گرے پاور کو بھی گرفتار کرکے ماسکو لے گئے جہاں اس نے اپنے مشن کے بارے میں سب کچھ بتادیا، لیکن سوویت یونین نے وقتی طور پر خاموشی اختیار کی،

امریکن رام کہانی :

جب یوٹو کا کوئی سراغ نہیں ملا ، تو امریکہ نے وقوعہ کے چوتھے روز دنیا کو وہ تاریخی رام کہانی سنائی جو کئی برس قبل اس قسم کی گھڑی کے لیے تیار کی گئی تھی،
پہلے یہ کہانی لانچ کی گئی کہ ایک یوٹو طیارہ ترکی سے اڑتا ہوا حادثاتی طور پر پاکستان کی حدود میں داخل ہوا جس کے پائلٹ نے ریڈیو پر فنی خرابی کی اطلاع دی تھی، 
لیکن بعد میں کہانی سے پاکستان کا نام نکال دیا گیا،

اس کے بعد نئے نقشوں اور فلائٹ روٹس کے ساتھ امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک بیان جاری کیا کہ ہمارا ایک موسمیاتی طیارہ ترکی کے اوپر سے پرواز کرتے ہوئے لاپتہ ہوچکا ہے، طیارے کے پائلٹ کو آکسیجن کی کمی کا سامنا تھا اس لئے اس نے نیم بے ہوشی کے حالات میں جہاز سے چھلانگ لگائی اور بعد میں ہلاک ہوا، 
طیارہ آٹو پائلٹ سسٹم پر اڑان بھرتا ہوا سیدھا سویت یونین کے فضائی حدود میں جاکر کریش ہوا،
کہانی میں حقیقت کا رنگ بھرنے کیلئے ایمرجنسی کے طور کچھ یوٹو طیاروں پر ناسا کی پینٹنگ کرکے اسے ناسا کے ریسرچ سینٹر پر کھڑا کرکے میڈیا کو دکھایا گیا،

سوویت یونین کی چال:

جب آمریکن کور اسٹوری دنیا کے سامنے آگئی تو سوویت لیڈر خروشیف نے ایک چال چلنے کا فیصلہ کیا، 
اس نے صرف یہ اعلان کیا کہ ایک امریکی جاسوس طیارے کو سوویت کے فضائی حدودِ میں مار گرایا گیا ہے،
لیکن اس نے پائلٹ کی ہلاکت یا گرفتاری کا کوئی ذکر نہیں کیا، 
امریکیوں کو خؤش فہمی ہوئی کہ ان کی کور اسٹوری کامیاب جا رہی ہے، انہوں نے دوبارہ رام کہانی کو بڑھاتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ دراصل وہی ناسا کا موسمیاتی طیارہ ہے، 
اور یہ کہ طیارے کے پائلٹ نے آخری بار وائرس لیس پر آکسیجن کی کمی کی شکایت کی تھی ، اس کے چھلانگ لگانے کے بعد طیارہ خود کار نظام کے تحت اڑتا ہوا سوویت حدود میں داخل ہوگیا ، 
دنیا کو یقین دلانے کے لیے امریکہ نے تمام یوٹو طیاروں کے آکسیجن والے نظام کے فوری معائنے اور اس کی درستگی کا اعلان کیا، 
ایوب خان اس وقت لندن میں تھے جب وہاں کے مقامی سی آئی اے چیف نے اسے یوٹو کے حادثے سے آگاہ کیا ،
ایوب خان نے پاکستانی سیکٹریری خارجہ اکرام اللہ کے ہمراہ دنیا کو بتایا کہ 
" ہمارے پاس یوٹو کے پشاور میں ٹھہرنے کی کوئی اطلاع نہیں، امریکن ہمارے دوست ہیں ، ان کے طیارے اکثر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، اب ہمیں کیا معلوم کہ پاکستان آنے کے بعد وہ کہاں جاتے ہیں" 

خروشیف کا دھماکہ :

7 مئی کو خروشیف نے دنیا کے سامنے دھماکہ خیز انکشاف کیا کہ
" میں آپ لوگوں کو وہ راز کی بات بتادوں جو پہلے نہیں بتا سکا کہ طیارے کا پائلٹ زندہ ہے ، اب آپ دیکھیں امریکن کیسی بیوقوفانہ حرکتیں کر ریے ہیں" 

دو دن بعد چیکو سلواکیہ ایمبیسی کے ایک استقبالیہ تقریب میں خروشیف نے پاکستانی سفیر سلمان علی کو ایک طرف لیجا کر دھمکی دی کہ
" پاکستان کو یوٹو مشن کے نتائج بھگتنے پڑیں گے، سویت نقشوں میں پشاور کو میزائل نشانوں پر رکھا گیا ہے" 

پائلٹ فرانسس گرے پاور کو جاسوسی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنا دی گئی لیکن بعد میں 10 فروری 1962 کو اسے ایک سویت جاسوس ریڈولف ابل کے بدلے رہائی ملی ،

بعد یکم اگست 1977 کو پائلٹ گرے پاور آپنے کیمرہ مین کے ہمراہ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوا، وہ KNBC کے لیے ایک مقامی آتشزدگی کو ہیلی کاپٹر سے فلما رہا تھا ،

یوٹو جہاز اور اس کے پائلٹ کے بہت سارے باقیات آج بھی 
ماسکو میں مسلح افواج کے مرکزی عجائب گھر میں پڑی ہیں، 
یوٹو کا ایک ٹکڑا امریکہ کو واپس کر دیا گیا جو امریکین کرپٹو لاجک میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا،
اس سانحے کے بعد 16 مئی کا سربراہ کانفرنس بے نتیجہ رہا،
اس مشن کے ساتھ ہی یوٹو کا کھاتہ بند کر کے امریکیوں ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ،
ایوب خان کی یوٹو کے نامی سے جاری آخری مشن " گرینڈ سلام " سے اتنی الفت تھی کہ بعد میں 1965 میں بھارت کے خلاف اس قسم کے خفیہ مشن کو یہی نام دے دیا۔ 

آر بی - 57 ( RB_57 ) :

1959 میں امریکہ نے ورجنیا کے ائر فروس بیس پر موجود 345 ٹیکٹکل بمبر ونگ ختم کرکے اس کے متروکہ B-57 بمبار طیارے پاکستان کو خیرات میں دے دئے۔
یہاں یہ گزارش کرنا انتہائی ضروری ہے کہ امریکہ نے جب بھی پاکستان کو لڑاکا طیارے، رڈار یا دیگر جنگی سازو سامان عطا کیا اس میں بیشتر امریکی مسلح افواج سے متروکہ تھا، 
ار بی- 57  بی - 57 کی ترمیم شدہ شکل تھی جس میں جاسوسی کے آلات نصب تھے، 
یوٹو کے بعد امریکہ نے پاکستان کو چار آر بی- 57 دے دیئے ، 
یہ جہاز 80 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کی صلاحیت رکھتے تھے، اس میں سے دو میں تصویری جاسوسی کے لیے جدید قسم کے کیمرے اور آلات نصب تھے جبکہ باقی دو میں ایلکٹرانکس جاسوسی کے آلات نصب تھے، 
اس جہاز میں نصب کیمرے ساٹھ میل کی دوری سے صاف شفاف تصویر لینے کی صلاحیت رکھتے تھے،
یہ جہاز سویت یونین اور چین کے خلاف جاسوسی کی غرض سے پاکستان کو دیے گئے تھے، 
شروع میں دو برطانوی پائلٹ ان جہازوں کو اڑاتے تھے بعد دو مشہور پاکستانی پائلٹ بھی اس مشن کے لیے منتخب کردئیے گئے،
یہ طیارے چترال کے ساتھ واہ خان کی پٹی پر پرواز کرتے جو پاکستان اور سویت یونین کا مشترکہ بارڈر تھا ،

1965 کے جنگ میں جب پاکستان کو ان طیاروں کی شدید ضرورت پڑ گئی تھی امریکہ نہ صرف ان کو واپس لیجانے کے چکر میں تھا بلکہ پاکستان پر فوجی سازو سامان اور اس کے پرزہ جات کی پابندیاں بھی عائد کر دی گئیں، 
ان میں سے ایک طیارہ امریکی واپس لے گئے ،
ایک طیارہ جسے اسکواڈرن لیڈر محمد اقبال آڑا رہے تھے وہ غلطی سے فرینڈلی فائر  کا شکار ہوا ،
ایک طیارہ جس کو اسکواڈرن راشد میر اڑا رہے تھے بھارتی ائر ڈیفنس کا نشانہ بنا لیکن بحفاظت واپس پشاور پہنچ گیا جسے بعد میں امریکہ لے جایا گیا،
آخری بچنے والا طیارہ 1971 کی لڑائی میں ماڑی پور ائر بیس پر بھارتی بمباری کا شکار ہوا، 

چین اور پاکستان :

1950 سے لیکر 1960 تک امریکہ نے تبت جنگجوؤں کو چین کے خلاف منظم کیا، اس کو آپریشن ایس ٹی سرکس کہا جاتا تھا،
اس میں بھارت اور پاکستان دونوں نے امریکہ کا ساتھ دیا،
اس آپریشن کا اہم مرکز تو بھارت میں تھا لیکن امریکی جہازوں اور افرادی قوت کو ٹرانزٹ سہولت مشرقی پاکستان سے مہیا کی جاتی تھی،
1963 میں چین اور پاکستان کے درمیان ایک سرحدی معاہدے کے بعد پاکستان اس آپریشن سے علحیدہ ہوا ،
اس طرح آر بی - 57 جاسوسی طیارے  گلگت بلتستان پر پاک چائنا بارڈر تک جاتے، ان دنوں چین سرحدی صوبے سنکیانگ میں لاپ نور کے مقام پر ایک ایٹمی پلانٹ تعمیر کررہا تھا جس کی جاسوسی ان طیاروں سے کی جاتی تھی ، 
1998 میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر نے انکشاف کیا کہ 1960 میں امریکہ نے پی آئی اے کے طیاروں کے اوپر خاص قسم کی پینٹنگ کی تھی جس میں کچھ ایسے کیمیکلز تھے جس سے ایٹمی تابکاری کا پتہ چل جاتا تھا ، یہ خصوصی طیارے جب چین سے ہوکر آتے تھے تو اس سے چین کے ایٹمی تنصیبات کا پتہ لگایا جاتا تھا، ان دنوں صرف پی آئی اے کے کمرشل جہاز چین سے ہوکر آتے تھے، 
 1962 سے لیکر 1974 تک امریکہ نے چین کے خلاف یوٹو کا بے تحاشہ استعمال کیا ، اس میں بہت سارے جہاز گرائے گئے، صرف 1962 سے لیکر 1964 تک چین نے چار یوٹو طیارے مارگرائے، یہ آپریشن زیادہ تر تائیوان سے لانچ کئے گئے، 

پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی :

ستمبر 1963 میں جنرل ایوب خان نے امریکی سیکٹری اسٹیٹ جارج بال سے کہا تھا کہ
" آپ بہت اچھے دوست ہیں، آپ نے ہماری مدد کی ہے لیکن ہم نے بھی اچھے دوستوں کی طرح آپ کے لئے بڑے خطرے مولے ہیں" 

لیکن امریکیوں پر اب یہ اقوال زریں اب بے اثر تھیں،
 سیٹلائیٹ ٹیکنالوجی کے ایجاد کیساتھ ہی امریکہ کو جاسوسی کے لیے پاکستان کی زیادہ ضرورت نہیں رہی تھی،
دوسری طرف سویت دفاعی نظام میں جدت کے بعد یوٹو ان کی فضاؤں پر بے خطر اڑان بھرنے سے  لاچار تھا،

اس لئے امریکہ کھلم کھلا بھارت کو سپورٹ کرنے لگا،
1962 سینو انڈین جنگ جو چین اور  بھارت کے درمیان لداخ کے سرحدی علاقے پر تھا اس میں امریکہ نے پاکستان کی مفادات کے برخلاف کھلم کھلا انڈیا کا ساتھ دیا،
اس جنگ میں چین نے پاکستان کو دعوت دی تھی کہ وہ حملہ کرکے ریاست جموں و کشمیر پر مکمل قبضہ کرسکتا ہے، لیکن بہادر ڈکٹیر امریکی خوف کی وجہ سے بروقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہا،
امریکہ دیدہ دلیری کی وجہ یہ تھی کہ وہ پاکستانی ملٹری ڈکٹیٹر کی کمزوریوں سے باخبر تھے،

سی آئی اے نے 1964 میں اپنے ایک رپورٹ میں لکھا،
" پاکستانی صدر کو معلوم ہے کہ اس کے ہاتھ میں بڈھ بیر میں امریکی مواصلاتی مرکز کا مضبوط کارڈ موجود ہے، 
لیکن اسے یہ بھی پتہ ہے کہ اس کو بند کرنے سے پاکستان امریکہ کی بھاری بھرکم  مالی اور فوجی امداد سے محروم ہو سکتا ہے جس کا اس وقت  پاکستان کے پاس کوئی متبادل نہیں "

1964 میں چین نے ایٹمی دھماکے کئے ،

10 نومبر 1964 کو کراچی میں ساؤتھ ایشیا کے لئے سی آئی اے کے انچارج ، پاکستان میں سی آئی اے کے مقامی چیف اور پاکستان میں امریکی سفیر مسٹر والٹر نے کراچی میں جنرل ایوب خان، ڈی آئی ایس آئی برگیڈیئر ریاض حسین اور ڈی جی فارن آفس سلمان علی کے ساتھ ایک ملاقات میں پاکستان سے ایک معاہدے کی خواہش ظاہر کی تاکہ چین کے ایٹمی تنصیبات کی جاسوسی کی جاسکے، 
جنرل ایوب اس سے معذوری ظاہر کی، یاد رہے سلمان علی یوٹو حادثے کے وقت روس میں پاکستان کے سفیر تھے جسے خروشیف نے بلاکر دھمکی دی تھی، 

ایسی صورت حال میں ایوب نے بین الاقوامی تعلقات میں توازن پیدا کرنے کے لیے چین اور سویت یونین کے ساتھ تعلقات بنانے کا فیصلہ کیا، 
1965 کے اوائل میں ایوب نے روس کے دورہ کے دوران کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ بڈھ بیر بیس کے دس سالہ معاہدے کے اختتام پر اس کی تجدید نہیں کریں گے، 
اس سلسلے میں ایوب نے سویت یونین سے پاکستان کے لئے فوجی اور مالی امداد کی درخواست کی، 
سوویت یونین نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنا پر فوری طور کسی معاہدے سے اجتناب کیا،

جنرل ایوب ابھی سویت یونین میں ہی تھے کہ امریکہ نے اعلان کیا کہ صدر جانسن کی مصروفیات کی بنا پر جنرل ایوب کا دورہ امریکہ منسوخ کیا جاتا ہے،

ندامت سے بچنے کے لیے ایوب چین کے دورے پر روانہ ہوگیا، چینی وزیراعظم چو این لائی نے اس کا پرتپاک استقبال کیا ، 
امریکی صدر جانسن نے واشنگٹن میں متعین پاکستان سفیر کو ایک پیغام میں اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا،
1965 کی جنگ میں امریکہ نے پاکستان کی فوجی امداد روک لی، 
بعد میں جب دسمبر 1965 کو ایوب خان امریکہ کے دورے پر گیا تو صدر جانسن نے اس پر واضح کردیا کہ مستقبل میں پاک امریکہ قرابت داری چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر منحصر ہوں گے، 

بڈھ بیر کا دور اختتام : 

امریکہ کے ان بے رخیوں کی بدولت ایوب دل برداشتہ ہوا اس لئے 1967 میں اپنے دورہ سوویت یونین کے دوران اس نے سویت قیادت کو یقین دلایا کہ وہ آگلے سال بڈھ بیر اسٹیشن کے متعلق معاہدے کی تجدید نہیں کریں گے،
6 اپریل 1968 کو پاکستان نے امریکی حکومت کو آگاہ کیا کہ لیز کے اختتام پر اس کی تجنید نہیں کی جائے گی،
امریکی سفیر نے جنرل ایوب سے ہنگامی ملاقات کرکے اس فیصلے کو مایوس کن قرار دیا،
17 اپریل 1968 کو سوویت وزیر اعظم الیکسی کوسیگین نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں ایٹمی پاور پلانٹ، اسٹیل ملز ، اور مواصلات نظام کی تعمیر سمیت کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے،
1969 کو امریکیوں نے بڈھ بیر سے اپنا بستر بوریا گول کردیا ، 
7 جنوری 1970 کو اسٹیشن باقاعدہ طور پر پاکستان کے حوالے کردیا گیا،

یہ وہ سنہری ایوبی دور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے فقید المثال ترقی کی، اور بیرونی دنیا میں ہماری بڑی آؤ بھگت تھی،

کیا آنے والے ڈکٹیٹروں نے اس سے کوئی سبق سیکھا،
ایوب سے لیکر مشرف تک ہر  ایک نے بڑھ چڑھ کر آقاؤں کی خدمت کی اور بعد میں پچھتاوے کے ذریعے کفارا ادا کرنے کی کوشش کی، 
ایوب خان نے فرینڈ ناٹ ماسٹر لکھی تو 2018 میں عسکری ترجمان آصف غفور فرما رہے تھے کہ ہم نے پرائی جنگ لڑ کر غلطی کی،
لیکن ہر نیا اسی جذبے سے سر شار ہے کہ 
" ساڈے لائق کوئی خدمت "

DEVTA-PART 2

    "دیوتا" "دیوتا" اردو ادب کی تاریخ کا سب سے طویل اور مشہور سلسلہ وار ناول ہے، جو محی الدین نواب کی تخلیق ہے۔ یہ ناول ...

Search This Blog